قومی زبان

دیار غیر میں اپنے دیار کی باتیں

دیار غیر میں اپنے دیار کی باتیں ہوں جیسے عہد خزاں میں بہار کی باتیں جہان عشق میں اہل دماغ مت ڈھونڈیں سکون قلب کی باتیں قرار کی باتیں ہزار فتنوں کا مسکن ہے سینۂ آدم رموز اہرمن و کردگار کی باتیں کشاکش غم دنیا سے جب ملے گی نجات کریں گے گیسو و رخسار یار کی باتیں مرا دماغ بھی ...

مزید پڑھیے

سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھو

سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھو سوکھی دھرتی کی دراروں سے ابھرنا سیکھو سینۂ دشت میں رہ رہ کے اترتے جاؤ یا پھر آندھی کی طرح کھل کے گزرنا سیکھو کوہساروں پہ چڑھو ابر رواں کی صورت آبشاروں کی طرح گر کے بکھرنا سیکھو مقتل شہر میں جب حرف وفا کھو جائے تم کسی چیخ کی مانند ابھرنا ...

مزید پڑھیے

کوئی بے نام خلش اکسائے

کوئی بے نام خلش اکسائے کیا ضروری ہے تری یاد آئے تیری آنکھوں کے بلاوے کی کرن کیوں مری راہ گزر بن جائے زندگی دشت سفر دھوپ ہی دھوپ تیرے بن کیسے کہاں کے سائے

مزید پڑھیے

یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھا

یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھا مدت سے کسی پھول کا چہرہ نہیں دیکھا اس شہر میں شاید کوئی دل والا نہیں ہے جو حسن کہیں بنتا سنورتا نہیں دیکھا صیاد سے گل کرتے رہے جان کا سودا مالی نے لہو کا کوئی دریا نہیں دیکھا جو سکھ کے اجالے میں تھا پرچھائیں ہماری اب دکھ کے اندھیرے میں وہ ...

مزید پڑھیے

محبت کا کوئی تو پیمان ہوتا

محبت کا کوئی تو پیمان ہوتا کہ جن پہ ہمیں بھی بہت مان ہوتا کبھی اتنے ارزاں نہ ہوتے جہاں میں ہمیں زندگی کا جو عرفان ہوتا تجھے کاش رکھتے تصور میں اپنے کہ ان کے بہلنے کا سامان ہوتا رہ زندگی میں کبھی نہ کبھی تو تجھے ڈھونڈ لیتے جو امکان ہوتا کسی سے تعلق بناتے نہ اتنا کسی سے نہ ملنے ...

مزید پڑھیے

بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھا

بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھا ہنستے آنسو تلخ تبسم میٹھا غصہ کیا نہیں دیکھا چھلنی سینے روشن چہرے خونیں آنکھیں رنگیں دامن ٹھنڈی آہیں ویراں نظریں حشر تمنا کیا نہیں دیکھا راہ پہ پہرے نطق پہ قدغن شوق کی یورش دل کی دھڑکن بولتی نظریں بوجھل پلکیں غمگیں چہرہ کیا ...

مزید پڑھیے

سہنے کو تو سہہ جائیں غم کون و مکاں تک

سہنے کو تو سہہ جائیں غم کون و مکاں تک اے خالق ہر درد مگر پھر بھی کہاں تک پہنچے نہ کہیں دیدۂ خوننابہ فشاں تک وہ حرف شکایت نہیں آیا جو زباں تک یہ میری نگاہوں کے بنائے ہوئے منظر کمبخت وہیں تک ہیں نظر جائے جہاں تک اک رسم وفا تھی وہ زمانے نے اٹھا دی اک زحمت بیکار تھی اٹھتی بھی کہاں ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیں

کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیں ماحول سے شاید یہ بہت دور رہے ہیں کیا کہیے کہ کیا ہو گیا اس شہر کا عالم جس شہر میں الفت کے بھی دستور رہے ہیں مجبور کسے کہتے ہیں یہ کون بتائے پوچھے کوئی ان سے کہ جو مجبور رہے ہیں کچھ لوگ سر دار رہے ہوں تو رہے ہوں ہم ہیں کہ بہر طور سر طور رہے ...

مزید پڑھیے

کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا

کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا ہمیں بھی آخرش اک دائرے کا ہونا تھا ابھی سے اچھا ہوا رات سو گئی ورنہ کبھی تو ختم سفر رت جگے کا ہونا تھا برہنہ تن بڑی گزری تھی زندگی اپنی لباس ہم کو ہی اک دوسرے کا ہونا تھا ہم اپنا دیدۂ بینا پہن کے نکلے تھے سڑک کے بیچ کسی حادثے کا ہونا تھا ہمارے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے

مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے میری ہی بات مجھ سے کر میرا کہا سنا مجھے رخش ابد خرام کی تھمتی نہیں ہیں بجلیاں صبح ازل نژاد سے کرنا ہے مشورہ مجھے لوح جہاں سے پیشتر لکھا تھا کیا نصیب میں کیسی تھی میری زندگی کچھ تو چلے پتہ مجھے کیسے ہوں خواب آنکھ میں کیسا خیال دل میں ہو خود ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 327 سے 6203