لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا
لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہی وہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سوا کسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا نفس نفس میں تھا احساس خانہ ویرانی خرابۂ غم ہستی کو گھر کہا نہ ...