قومی زبان

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہی وہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سوا کسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا نفس نفس میں تھا احساس خانہ ویرانی خرابۂ غم ہستی کو گھر کہا نہ ...

مزید پڑھیے

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم مبتلائے صد آرزو ہیں ہم دل بھی لوح و قلم کا ہمسر ہے داستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم عظمت رفتگاں ہے نظروں میں اپنے ماضی کو ڈھونڈتے ہیں ہم پارہ پارہ ہے خود جنوں لیکن فکر انساں اسی سے ہے محکم بھیگی بھیگی ہے ہر کرن ان کی ہے ستاروں کی آنکھ بھی پر نم یوں نہ ...

مزید پڑھیے

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو چلو اپنا ہی منظر آپ دیکھیں کہاں جائیں تماشا دیکھنے کو سر مقتل کسے لایا گیا ہے چلی آتی ہے دنیا دیکھنے کو فسردہ پھول اڑتے زرد پتے چمن میں رہ گیا کیا دیکھنے کو ملی ہے مختصر سی فرصت دید تماشا گاہ دنیا دیکھنے کو چراغ رہ گزر ...

مزید پڑھیے

امکان

اپنی تعبیر کے صحرا میں جلے خوابوں کی اس راکھ کو تم راکھ کے ڈھیر ہی کیوں کہتے ہو بڑھ کے اس راکھ کے سینے میں اتر کر ڈھونڈھو اس کا امکان ہے تم راکھ کے اس ڈھیر میں بھی چند چنگاریاں رہ رہ کے دمکتی دیکھو اور شاید تم کو پھر سے جینے کا بہانہ مل جائے

مزید پڑھیے

سنگھرش

لفظ و معنی میں سنگھرش جاری ہے صدیوں سے جاری ہے جاری رہے خامشی بے حسی کیوں ہے

مزید پڑھیے

تعلق

رات بھر اس خریدے ہوئے جسم سے تم حرارت نچوڑو پیاس حرص و ہوس کی بجھاؤ اور جب صبح کے آئینے میں ابھرتا ہوا عکس دیکھو تو منہ موڑ لو کہ یہ تعلق تمہارے لئے باعث ننگ ہے

مزید پڑھیے

باز گشت

گزشتہ رات میں خوابوں کی دنیا سے پلٹ آیا تو رستے میں تمہاری کھوج میں نکلی مری آواز رہ رہ کر سنائی دی

مزید پڑھیے

مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئی

مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئی تمام شعر و سخن حرف اجتناب کوئی اک انتظار مسلسل میں دن گزرتے ہیں کہ آتے آتے نہ آ جائے انقلاب کوئی تمام اہل زمانہ شکار حرص و ہوس کرے تو کیسے کرے اپنا احتساب کوئی نہ اس قدر غم و غصہ کو پی کے رہ جانا کہ صبر و ضبط کی عادت بنے عذاب کوئی تمام عمر ...

مزید پڑھیے

زندگی دشت بلا ہو جیسے

زندگی دشت بلا ہو جیسے تجھ کو پانے کی سزا ہو جیسے تیرے چہرے کا سمٹ کر کھلنا میری آنکھوں کی دعا ہو جیسے ایک دشمن سا ترا تن جانا مظہر خوے وفا ہو جیسے سب تری مدح پہ مجبور ہوئے حرف حق گوئی خطا ہو جیسے

مزید پڑھیے
صفحہ 325 سے 6203