قومی زبان

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے تج کے در تیرا مری آوارگی جاتی کہاں وہ تو کہیے شہر میں بے لوث ...

مزید پڑھیے

عشرت نے تمناؤں کو بازار کیا ہے

عشرت نے تمناؤں کو بازار کیا ہے مجبوری نے ہر شے کو خریدار کیا ہے ڈر تھا کہ کہیں میں بھی نہ بن جاؤں فرشتہ یہ سوچ کے اپنے کو گنہ گار کیا ہے ملنے کو ضرور آئیں گے اک روز در و بام مجھ کو اسی امید نے دیوار کیا ہے خوش رنگ پرندے تو نہیں کرتے بسیرا اک پیڑ نے شاخوں کو خبردار کیا ہے لفظوں ...

مزید پڑھیے

ساحلوں کا بھی نہ احساں تھا گوارا مجھ کو

ساحلوں کا بھی نہ احساں تھا گوارا مجھ کو اتنا دریا کے تلاطم نے سنوارا مجھ کو پیاس ایسی ہے کہ اندر سے سلگتا ہے بدن اور پانی کے سوا کچھ نہیں چارا مجھ کو اب تو دامن کو لپکتے ہیں لہو کے شعلے اور پکارے ہے کہیں خون کا دھارا مجھ کو خوں بہا لے کے ابھی خیر سے پلٹے بھی نہ تھے مقتل خوف میں ...

مزید پڑھیے

عدل سے منہ موڑ کر جب منصفی ہونے لگے

عدل سے منہ موڑ کر جب منصفی ہونے لگے سخت کافر جرم بھی اب مذہبی ہونے لگے تشنگی کی آنکھ میں بے سمت تیور دیکھ کر کتنے دریا دل سمندر بھی ندی ہونے لگے حسرتیں پلنے لگی ہیں پھر نبوت کے لئے کچھ دنوں میں کیا خبر پیغمبری ہونے لگے انتہا کو جب بھی پہنچے قربتوں کا اشتیاق کیا پتا جبریل کی بھی ...

مزید پڑھیے

قبر سے قہر کے آثار نکل آتے ہیں

قبر سے قہر کے آثار نکل آتے ہیں خانقاہوں میں بھی دربار نکل آتے ہیں اڑتی پڑتی ہوئی بے کار سی افواہوں پر سرخیاں اوڑھ کے اخبار نکل آتے ہیں غم کے سیلاب میں ہم ڈوبتے اتراتے ہیں کبھی اس پار تو اس پار نکل آتے ہیں اتنی مایوسی ہے اب زخم کے بازاروں میں آنسوؤں کے بھی خریدار نکل آتے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

کیسے ہوگا اثر دواؤں کا

کیسے ہوگا اثر دواؤں کا میں تو محتاج ہوں دعاؤں کا نام شامل ہے بے وفاؤں میں یہ صلہ ہے مری وفاؤں کا دل پے آ کر کے تو نے دی دستک نقش ابھرا ہے تیرے پاؤں کا آگ لگ جائے گی گلستاں میں تذکرہ چھڑ گیا اداؤں کا ہو چکا وقت شام کیا کہنا زندگی کھیل دھوپ چھاؤں کا

مزید پڑھیے

اپنی اوقات زمانہ کو بتاتے آئے

اپنی اوقات زمانہ کو بتاتے آئے تم جدھر آئے ادھر آگ لگاتے آئے ہم کو محفل میں تعلق کا بھرم رکھنا تھا دشمنوں کو بھی گلے اپنے لگاتے آئے بس یہی ان کا کرم ہم پہ بہت بھاری ہے جب وہ آئے تو کرم اپنا جتاتے آئے ایک آہٹ بھی ڈرا دیتی ہے تنہائی میں خواب جب آئے ترے مجھ کو ڈراتے آئے خود کا گھر ...

مزید پڑھیے

یہ دنیا ہر قدم پر آدمی کا امتحاں کیوں ہے

یہ دنیا ہر قدم پر آدمی کا امتحاں کیوں ہے جدا ہر آدمی سے آدمی کا کارواں کیوں ہے محبت ساری دنیا کے لئے روح رواں کیوں ہے سیاست کے فلک پر آج نفرت کا دھواں کیوں ہے ہزاروں جان دے کر جس نے حاصل کی ہے آزادی تماشا بن کے دنیا میں وہی ہندوستاں کیوں ہے ہوا تو مختلف ہے نہ موافق بھی مخالف ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کے شہر جلنے لگے

آرزوؤں کے شہر جلنے لگے کارواں ساتھ ساتھ چلنے لگے تیری آنکھوں سے مے چھلکنے لگی اور گر گر کے ہم سنبھلنے لگے اک محبت تھی اور کچھ بھی نہیں ہم ترا نام لے کے چلنے لگے تھا اندھیرا سمندروں میں مگر ساحلوں پر چراغ جلنے لگے موسم گل ہے اور تیرا خیال اور ہم ساتھ ساتھ چلنے لگے

مزید پڑھیے

جس کو پڑھ کر کے علم نافع ہو (ردیف .. ن)

جس کو پڑھ کر کے علم نافع ہو گھر میں ایسی کتاب رکھتے ہیں واسطہ صوفیت سے ہے ہم کو کچھ تو پا بہ رکاب رکھتے ہیں چاند آ جائے میری مٹھی میں اب بھی بچپن کا خواب رکھتے ہیں کتنا کھویا ہے کتنا پایا ہے زندگی کی کتاب رکھتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 2505 سے 6203