قومی زبان

ہم کہ تجدید عہد وفا کر چلے آبروئے‌ جنوں کچھ سوا کر چلے

ہم کہ تجدید عہد وفا کر چلے آبروئے‌ جنوں کچھ سوا کر چلے خود تو جیسے کٹی زندگی کاٹ لی ہاں نئے دور کی ابتدا کر چلے زرد سورج کی مشعل بھی کجلا گئی چاند تاروں کو بھی نیند سی آ گئی اب کسی کو اگر روشنی چاہئے اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا کر چلے حال اپنا ہر اک سے چھپاتے رہے زخم کھاتے رہے ...

مزید پڑھیے

نیند بھی تیرے بنا اب تو سزا لگتی ہے

نیند بھی تیرے بنا اب تو سزا لگتی ہے چونک پڑتا ہوں اگر آنکھ ذرا لگتی ہے فاصلہ قرب بنا قرب بھی ایسا کہ مجھے دل کی دھڑکن ترے قدموں کی صدا لگتی ہے دشمن جاں ہی سہی دوست سمجھتا ہوں اسے بد دعا جس کی مجھے بن کے دعا لگتی ہے خود اگر نام لوں تیرا تو لرزتا ہے بدن غیر گر بات کرے چوٹ سوا لگتی ...

مزید پڑھیے

عمر بھر آنکھوں کا دروازہ کھلا رہنا ہی تھا

عمر بھر آنکھوں کا دروازہ کھلا رہنا ہی تھا کب پلٹ آئے کوئی دھڑکا لگا رہنا ہی تھا جب خلوص دل نہ شامل ہو تو پھر کیسا ملاپ ساتھ اٹھتے بیٹھتے بھی مسئلہ رہنا ہی تھا چاہے ہم کوئی جتن کرتے مگر ہونا تھا کیا بے سبب تھا جو خفا اس کو خفا رہنا ہی تھا خامشی سے بھی مرے دل میں کسک رہنی ہی ...

مزید پڑھیے

ہم ہی نہیں جو تیری طلب میں ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں

ہم ہی نہیں جو تیری طلب میں ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں اور بہت سے خاک اڑائے بال بکھیرے پھرتے ہیں پاس اگر سرمایۂ دل ہے سائے سے ہوشیار رہو ان راہوں میں بھیس بدل کر چور لٹیرے پھرتے ہیں میں نے سنا ہے صحرا پر بھی چھینٹا تو پڑ جاتا ہے دیکھنا یہ ہے شومئی قسمت کب دن میرے پھرتے ہیں راہ خرد سے ...

مزید پڑھیے

جیتے جی میرے ہر اک مجھ پہ ہی تنقید کرے

جیتے جی میرے ہر اک مجھ پہ ہی تنقید کرے اور مر جاؤں تو دنیا مری تقلید کرے میں تو کہتا ہوں کہ تم ابر کرم ہو لیکن کاش صحرا مرے الفاظ کی تائید کرے جب ہر اک بات نہاں تشنۂ تکمیل رہے پھر کرے کوئی تو کیا جرأت تمہید کرے پہلے ہر شخص گریبان میں اپنے جھانکے پھر بصد شوق کسی اور پہ تنقید ...

مزید پڑھیے

سارے ظالم اگر صف بہ صف ہو گئے

سارے ظالم اگر صف بہ صف ہو گئے ہم تہی دست بھی سر بکف ہو گئے وہ جو کچھ بھی نہ تھے اب ہیں سب کچھ وہی در بدر سارے اہل شرف ہو گئے کوزہ گر کا کمال ہنر کیا ہوا جب نہ کوزہ بنے ہم خذف ہو گئے یہ تری یاد کے اشک تھے اس لیے آنکھ میں مثل در صدف ہو گئے منسلک اک خوشی سے ہوئی ہر خوشی سارے غم ایک ہی ...

مزید پڑھیے

دنیا کو دیکھیے ذرا آنکھیں تو کھولیے

دنیا کو دیکھیے ذرا آنکھیں تو کھولیے سورج چڑھا ہے سر پہ بڑی دیر سو لیے ساری مسرتیں تری خوشیوں پہ وار دیں جتنے بھی غم ملے ترے غم میں سمو لیے ہم کو نہ جانے کیا ہوا پھولوں کو دیکھ کر ہاتھوں میں ہم نے جان کے کانٹے چبھو لیے مجبوریاں کہیں کہ اسے سادگی کہیں جس نے بھی ہنس کے بات کی ہم ...

مزید پڑھیے

جس کو دیکھو زرد چہرہ آنکھ پتھرائی ہوئی

جس کو دیکھو زرد چہرہ آنکھ پتھرائی ہوئی خوب اے عیسیٰ نفس تیری مسیحائی ہوئی کرب کی اک مشترک تحریر ہر چہرے پہ تھی اجنبی لوگوں سے پل بھر میں شناسائی ہوئی بے اصولی مصلحت کے نام سے پھولی پھلی ہم اصولوں پر لگے جینے تو رسوائی ہوئی کر رہا ہوں حال میں گزرے ہوئے لمحے تلاش گتھیاں سلجھا ...

مزید پڑھیے

اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ

اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ میں پھر بھی جی رہا ہوں مرا حوصلہ بھی دیکھ ذرے کی شکل میں مجھے سمٹا ہوا نہ جان صحرا کے روپ میں مجھے پھیلا ہوا بھی دیکھ تو نے تو مشت خاک سمجھ کر اڑا دیا اب مجھ کو اپنی راہ میں بکھرا ہوا بھی دیکھ مانا کہ تیرا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ملنے کے بعد مجھ ...

مزید پڑھیے

کس کس کا منہ بند کرو گے کس کس کو سمجھاؤ گے

کس کس کا منہ بند کرو گے کس کس کو سمجھاؤ گے دل کی بات زباں پر لا کے دیکھو تم پچھتاؤ گے آج یہ جن دیواروں کو تم اونچا کرتے جاتے ہو کل کو ان دیواروں میں خود گھٹ گھٹ کے مر جاؤ گے ماضی کے ہر ایک ورق پر سپنوں کی گلکاری ہے ہم سے ناطہ توڑنے والو کتنے نقش مٹاؤ گے ہاتھ چھڑا کے چل تو دیے ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2495 سے 6203