قومی زبان

تم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں

تم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں جس کا چہرہ بولتا ہے اور لب گویا نہیں صبح کو دیکھا تو دو گھاؤ مرے چہرے پہ تھے رات کچھ رونے کی خواہش تھی مگر رویا نہیں پھیلتا جاتا ہے خود رو سبزۂ غم چار سو کھیت وہ کاٹوں گا جو میں نے کبھی بویا نہیں خواب دیکھا تھا کوئی بچپن کی کچی نیند میں دوستو ...

مزید پڑھیے

بے حس و کج فہم و لا پروا کہے

بے حس و کج فہم و لا پروا کہے کل مورخ جانے ہم کو کیا کہے اس طرح رہتے ہیں اس گھر کے مکیں جس طرح بہرا سنے گونگا کہے راز ہائے ضبط غم کیا چھپ سکیں ہونٹ جب خاموش ہوں چہرہ کہے اس لیے ہر شخص کو دیکھا کیا کاش کوئی تو مجھے اپنا کہے ہے تکلم آئینہ احساس کا جس کی جیسی سوچ ہو ویسا کہے پڑھ چکے ...

مزید پڑھیے

غیر کے آگے یہ سر خم دیکھیے کب تک رہے

غیر کے آگے یہ سر خم دیکھیے کب تک رہے بے حسی کا اب یہ عالم دیکھیے کب تک رہے دوست اور دشمن کے چہرے تا بہ کے واضح نہ ہوں دیپ کی لو اتنی مدھم دیکھیے کب تک رہے کب دعائیں مستجب ہوں کب ہمارے دن پھریں دل پریشاں آنکھ پر نم دیکھیے کب تک رہے روشنی کے جشن میں حائل نہ تھے شب کے رفیق چاند تارے ...

مزید پڑھیے

ویسے تمہیں تو آتا نظر سب درست ہے

ویسے تمہیں تو آتا نظر سب درست ہے چہرے ہیں کیوں اداس اگر سب درست ہے جالے تنے ہوئے ہیں دریچوں میں شہر کے کہتا ہے شہر یار مگر سب درست ہے حل یوں ہوا ہے تشنگیٔ تیغ کا سوال مقتل میں ہو کسی کا بھی سر سب درست ہے مقصد تو تجربہ ہے دوا کا شفا نہیں کچھ بھی مریض پر ہو اثر سب درست ہے جنت تو ...

مزید پڑھیے

صدا یہ کس کی ہے جو دور سے بلائے مجھے

صدا یہ کس کی ہے جو دور سے بلائے مجھے قریب جاؤں تو کچھ بھی نظر نہ آئے مجھے میں بجھتے بجھتے دھوئیں کی لکیر چھوڑوں گا یہ باد تند ذرا سوچ کر بجھائے مجھے غروب کے نہیں آثار یہ تو پھر کیا ہیں کہ جسم سے بڑے لگتے ہیں اب تو سائے مجھے جلا ہو دھوپ میں اور خال و خد نہ بگڑے ہوں بھرے جہاں میں وہ ...

مزید پڑھیے

نہر جس لشکر کی نگرانی میں تب تھی اب بھی ہے

نہر جس لشکر کی نگرانی میں تب تھی اب بھی ہے خیمے والوں کی جو بستی تشنہ لب تھی اب بھی ہے اڑ رہے ہیں وقت کی رفتار سے مغرب کی سمت وقت آغاز سفر جو تیرہ شب تھی اب بھی ہے وقت جیسے ایک ہی ساعت پہ آ کے رک گیا پہلے جس شدت سے جو دل میں طلب تھی اب بھی ہے ہم شکایت آنکھ کی پلکوں سے کرتے کس ...

مزید پڑھیے

آنکھیں ہیں سرخ ہونٹ سیہ رنگ زرد ہے

آنکھیں ہیں سرخ ہونٹ سیہ رنگ زرد ہے ہر شخص جیسے میرے قبیلے کا فرد ہے جب میں نہ تھا تو میری زمانے میں گونج تھی اب میں ہوں اور سارے زمانے کا درد ہے سورج میں آج جتنی تپش ہے کبھی نہ تھی کیا کیجئے کہ خوں ہی رگ و پے میں سرد ہے ہم کس سفر پہ نکلے کہ شکلیں بدل گئیں چہرے پہ جس کے دیکھو مسافت ...

مزید پڑھیے

اک خواب لڑکپن میں جو دیکھا تھا وہ تم تھے

اک خواب لڑکپن میں جو دیکھا تھا وہ تم تھے پیکر جو تصور میں ابھرتا تھا وہ تم تھے اک ایسا تعلق جو تعلق بھی نہیں تھا پھر بھی میں جسے اپنا سمجھتا تھا وہ تم تھے تھا قرب کی خواہش میں بھی کچھ حسن عجب سا جو گرد مرے رنگ تھا نغمہ تھا وہ تم تھے یک دم جو یہ تنہائی مہکنے سی لگی تھی جھونکا جو ...

مزید پڑھیے

سادگی یوں آزمائی جائے گی

سادگی یوں آزمائی جائے گی نت نئی تہمت لگائی جائے گی جاگتے گزری ہے ساری زندگی اب ہمیں لوری سنائی جائے گی سوچ کا روزن بھی آخر کیوں رہے روشنی یہ بھی بجھائی جائے گی سب پرانے گھر گرائے جائیں گے اک نئی دنیا بسائی جائے گی دوڑ ہوگی اور وہ بھی شوقیہ دھول بستی میں اڑائی جائے گی آسماں ...

مزید پڑھیے

ساقی گری کا فرض ادا کر دیا گیا

ساقی گری کا فرض ادا کر دیا گیا پانی کا گھونٹ زہر ملا کر دیا گیا بس تجربوں کی نذر ہوئے اپنے سارے خواب کیا ہم نے کرنا چاہا تھا کیا کر دیا گیا وابستگی کسی کی تو اس غم کدے سے ہے ورنہ یہاں پہ کون جلا کر دیا گیا اب قید ختم ہونے کی وہ کیا خوشی منائے پر قینچ کر کے جس کو رہا کر دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2494 سے 6203