یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے
یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے خلوص چاہا تو پتھر جواب میں آئے خوشا وہ شوق کہ در در لیے پھرا مجھ کو زہ نصیب کہ تم انتخاب میں آئے ہزار ضبط کروں لاکھ دل کو بہلاؤں مگر وہ شکل جو ہر روز خواب میں آئے میں کیا کہوں کہ ترا ذکر غیر سے سن کر جو وسوسے دل خانہ خراب میں آئے ہے شہریار کی قربت ...