قومی زبان

یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے

یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے خلوص چاہا تو پتھر جواب میں آئے خوشا وہ شوق کہ در در لیے پھرا مجھ کو زہ نصیب کہ تم انتخاب میں آئے ہزار ضبط کروں لاکھ دل کو بہلاؤں مگر وہ شکل جو ہر روز خواب میں آئے میں کیا کہوں کہ ترا ذکر غیر سے سن کر جو وسوسے دل خانہ خراب میں آئے ہے شہریار کی قربت ...

مزید پڑھیے

وعدہ جو تھا نباہ کا تم نے وفا نہیں کیا

وعدہ جو تھا نباہ کا تم نے وفا نہیں کیا ہم نے تو آج تک تمہیں دل سے جدا نہیں کیا ہم ہی وہ کم نصیب تھے مانگے ملی نہ موت بھی آپ کا کیا قصور ہے آپ نے کیا نہیں کیا موم ہوئے پگھل گئے سنگ بنے چٹخ گئے پھر بھی زباں سے آج تک ہم نے گلہ نہیں کیا دشت طلب میں ہر صدا گونج بنی بکھر گئی کس کو سلگتی ...

مزید پڑھیے

ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا

ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا محسوس جو کیا وہی بر جستہ کہہ دیا خورشید صبح نو کو شکایت ہے دوستو کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا میں چپ ہوا تو زخم مرے بولنے لگے سب کچھ زبان حال سے لب بستہ کہہ دیا چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا ٹھہرا ذرا تو آپ نے پابستہ کہہ دیا دیکھی ...

مزید پڑھیے

اک یاد تھی کسی کی جو بادل بنی رہی

اک یاد تھی کسی کی جو بادل بنی رہی صحرا نصیب کے لیے چھاؤں گھنی رہی وہ نقش ہوں جو بن کے بھی اب تک نہ بن سکا وہ بات ہوں جو کہہ کے بھی نا گفتنی رہی پتھر کا بت، سمجھ کہ یہ کس شے کو چھو لیا برسوں تمام جسم میں اک سنسنی رہی اس جان گل کو دیکھتے کیسے کہ آج تک اک رنگ و بو کی سامنے چادر تنی ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ میرے رنگ پریشانیوں کا ہے

چہرے پہ میرے رنگ پریشانیوں کا ہے دریا میں سارا زور ہی طغیانیوں کا ہے خود رہبران قوم ہیں آلائشوں میں گم ہم سے مگر مطالبہ قربانیوں کا ہے احباب میرے اس طرح مجھ پر ہیں طعنہ زن جیسے خلوص نام ہی نادانیوں کا ہے ساحل جو کٹ کے گرتے ہیں دریا کی گود میں کیا یہ قصور بہتے ہوئے پانیوں کا ...

مزید پڑھیے

بدن میں جاگ اٹھی کپکپاہٹیں کیسی

بدن میں جاگ اٹھی کپکپاہٹیں کیسی میں سن رہا ہوں یہ فردا کی آہٹیں کیسی مکیں کو یاد ہزیمت کی داستاں ہے مگر تو اس کے گھر میں ہیں یہ جگمگاہٹیں کیسی شکست دل کا جو احساس اب بھی زندہ ہے تو پھر یہ ہونٹوں پہ ہیں مسکراہٹیں کیسی وجود ٹوٹ رہا ہو تو کیسی نغمہ گری جو دل سکوں سے نہ ہو ...

مزید پڑھیے

ہم ضمیروں سے جو بھٹکائے وہ اعزاز نہ دے

ہم ضمیروں سے جو بھٹکائے وہ اعزاز نہ دے شوق سے تو مجھے اب قوت پرداز نہ دے دائرے ٹوٹ نہ جائیں مرے خوابوں کے کہیں سو گیا ہوں مجھے اب کوئی بھی آواز نہ دے تجھ کو دینا ہے اگر تلخی انجام کا زہر دینے والے مجھے خوش فہمیٔ آغاز نہ دے راز داروں کا کہا مان کے یہ حال ہوا مشورہ کوئی مجھے اب مرا ...

مزید پڑھیے

اس مسیحائی کے صدقے کام جاں تک آ گئی

اس مسیحائی کے صدقے کام جاں تک آ گئی تجربے کرتے ہوئے نوبت یہاں تک آ گئی اب تو گہواروں پہ خادم رکھ لیے ماں باپ نے مامتا تخمینۂ سود و زیاں تک آ گئی تو نے کوشش تو یہی کہ تھی کہ گھر میرا جلے آگ جب بھڑکی تو پھر تیرے مکاں تک آ گئی اس نظام آب و گل میں زہر پھیلانے کے بعد پھر وہی شورش زمیں ...

مزید پڑھیے

جنوں کا ذکر مرا عام ہو گیا تو کیا

جنوں کا ذکر مرا عام ہو گیا تو کیا میں تیرے شہر میں بدنام ہو گیا تو کیا کوئی اصول مرا مطمح نظر تو رہا شہید حسرت ناکام ہو گیا تو کیا جہاں نے کس کو سزاوار‌ آگہی جانا جو میں بھی مورد الزام ہو گیا تو کیا کوئی صلیب پہ لٹکا کسی نے زہر پیا مرا بھی گر یہی انجام ہو گیا تو کیا ہزار شمعیں ...

مزید پڑھیے

تم اگر چاہو کبھی بپھرا سمندر دیکھنا

تم اگر چاہو کبھی بپھرا سمندر دیکھنا چودھویں میں تم مری آنکھوں کا منظر دیکھنا جو حوالے سے مرے محفل میں پہچانے گئے ذکر پر میرے انہی لوگوں کے تیور دیکھنا زخم گن کر کیا کرو گے کار جاں سوزی ہے یہ جو پڑے ہوں گے ابھی رستے میں پتھر دیکھنا لوگ کہتے ہیں کہ تم پتھر ہو انساں تو نہیں اب تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2493 سے 6203