قومی زبان

کبھی پیغام سکوں تیری نظر نے نہ دیا

کبھی پیغام سکوں تیری نظر نے نہ دیا زندگی چھین لی اس طرح کہ مرنے نہ دیا تھی بہار گل جلوہ کہ ہوا کا جھونکا جس نے دامن نگہ شوق کا بھرنے نہ دیا دی جس احساس نے مرنے کی تمنا ہم کو اسی احساس کی رعنائی نے مرنے نہ دیا جانے کیا قصۂ غم تھا کہ نظر نے تیری بھولنے بھی نہ دیا یاد بھی کرنے نہ ...

مزید پڑھیے

یہ کیا طلسم ہے میں اس کو دیکھ بھی نہ سکوں (ردیف .. ے)

یہ کیا طلسم ہے میں اس کو دیکھ بھی نہ سکوں کہ جس کے جلووں سے دامان چشم بھر جائے تو میرے دل میں مثال چمن مہکتا ہے میں سانس لوں تری خوشبو بکھر بکھر جائے گزرتی شب کی ہر اک چاپ سے میں ڈرتا ہوں نہ جانے کون سا لمحہ اداس کر جائے میں آئنہ ہی نہیں عکس بھی ہوں لیکن تو وہ روشنی ہے جو دامن ...

مزید پڑھیے

قدم اٹھے تو عجب دل گداز منظر تھا

قدم اٹھے تو عجب دل گداز منظر تھا میں آپ اپنے لیے راستے کا پتھر تھا دل ایک اور ہزار آزمائشیں غم کی دیا جلا تو تھا لیکن ہوا کی زد پر تھا ہر آئینہ مری آنکھوں سے پوچھ لیتا ہے وہ عکس کیا ہوئے آباد جن سے یہ گھر تھا ہر اک عذاب کو میں سہ گیا مگر نہ ملا وہ ایک غم جو مرے حوصلے سے بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

یہ کیا ضرور ہمیں کو وہ آزمائے گا

یہ کیا ضرور ہمیں کو وہ آزمائے گا ہر آنے والا مقدر بھی ساتھ لائے گا کسے خبر ہے کہ اس تیرہ خاکداں کے لئے ہے ایک دل ہی تو روشن سو ڈوب جائے گا کھلے دریچوں سے یوں جھانکتی ہے مایوسی کہ جیسے اب کوئی جھونکا ادھر نہ آئے گا اداس رات کی سرگوشیوں کے بعد اگر سحر جو آئی تو کس کو یقین آئے ...

مزید پڑھیے

سب سے اونچی مری اڑان ہو کیا

سب سے اونچی مری اڑان ہو کیا آسمانوں کا امتحان ہو کیا تم میں سب کچھ جو مجھ کو دکھتا ہے تم مکمل مرا جہان ہو کیا جس کا کوئی سرا نہیں ملتا تم محبت کی داستان ہو کیا کوئی بھی جی نہ پائے گا تم بن جینے والوں کی آن بان ہو کیا چپ ہیں سارے ہی مدعی میرے تجھ پہ آ کے مرا بیان ہو کیا تم پہ آتا ...

مزید پڑھیے

گزر گئے ہیں جو دن ان کو یاد کرنا کیا

گزر گئے ہیں جو دن ان کو یاد کرنا کیا یہ زندگی کے لیے روز روز مرنا کیا مری نظر میں گئے موسموں کے رنگ بھی ہیں جو آنے والے ہیں ان موسموں سے ڈرنا کیا بجھے ہوئے در و دیوار کو بھی رونق دے یہ خواب بن کے مری آنکھ سے گزرنا کیا مثال اشک سر دامن حیات ہوں میں مری روانی ہی کیا اور مرا ٹھہرنا ...

مزید پڑھیے

جانے والا جو کبھی لوٹ کے آیا ہوگا

جانے والا جو کبھی لوٹ کے آیا ہوگا ہم نے اک عمر کا غم کیسے چھپایا ہوگا کس توقع پہ کوئی چاہے وفاؤں کا صلہ اس نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھلایا ہوگا جس سے وابستہ رہا حسن تغافل تیرا تجھ کو وہ شخص کبھی یاد تو آیا ہوگا زندگی اپنی بہرحال گزر جائے گی تو نہ ہوگا تری دیوار کا سایہ ہوگا

مزید پڑھیے

نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا

نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا مڑ کے دیکھوں تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا کتنے چہروں پہ رہے عکس مری حیرت کے مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا وقت کٹتا رہا مے خانے کی راتوں کی طرح رہے گردش میں یہ دن رات کے ساغر کیا کیا چشم خوباں کے اشاروں پہ تھا جینا مرنا روز بنتے تھے ...

مزید پڑھیے

ستم بھی کرتا ہے اس کا صلہ بھی دیتا ہے

ستم بھی کرتا ہے اس کا صلہ بھی دیتا ہے کہ میرے حال پہ وہ مسکرا بھی دیتا ہے شناوروں کو اسی نے ڈبو دیا شاید جو ڈوبتوں کو کنارے لگا بھی دیتا ہے یہی سکوت یہی دشت جاں کا سناٹا جو سننا چاہے کوئی تو صدا بھی دیتا ہے عجیب کوچۂ قاتل کی رسم ہے کہ یہاں جو قتل کرتا ہے وہ خوں بہا بھی دیتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہم پہ تنہائی میں کچھ ایسے بھی لمحے آئے

ہم پہ تنہائی میں کچھ ایسے بھی لمحے آئے بن گئے آپ کی تصویر ہمارے سائے درد سے کچھ عجب احوال تھا دل کا کل رات جیسے رونے کی کہیں دور سے آواز آئے ایک تیرا ہی تبسم تو نہ تھا وجہ سکوں میرے آنسو بھی محبت میں بہت کام آئے دل میں آباد امیدیں ہیں مگر کیسے نہ پوچھ دن ڈھلے جیسے درختوں کے ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2471 سے 6203