کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا
کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا تیری راہوں میں مرے بعد نہ جانے کیا ہو میں تو نقش کف پا دے کے چلا جاؤں گا میری آواز کو ترسے گا ترا رنگ محل میں تو اک بار صدا دے کے چلا جاؤں ...