قومی زبان

کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا

کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا تیری راہوں میں مرے بعد نہ جانے کیا ہو میں تو نقش کف پا دے کے چلا جاؤں گا میری آواز کو ترسے گا ترا رنگ محل میں تو اک بار صدا دے کے چلا جاؤں ...

مزید پڑھیے

شب فراق کے دم توڑے ہوئے لمحو

شب فراق کے دم توڑے ہوئے لمحو مری طرح سے ستاروں کا نوحہ سنتے ہو؟ دیار جاں میں بگولوں کا رقص جاری ہے مرے اداس خیالو کواڑ مت کھولو گئے دنوں کی محبت یہ دن ملال کے ہیں نئے دنوں کی محبت کو طاق پر رکھ دو کبھی ملو تو سہی بر بنائے مطلب ہی ہمیں بھی بخش دو سرمایۂ غرور اب تو سنا ہے کلیاں ...

مزید پڑھیے

اس خزاں کی رت میں اپنا ساتھ اچھا رہ گیا

اس خزاں کی رت میں اپنا ساتھ اچھا رہ گیا سب پرائے ہو گئے اک میں ہی اپنا رہ گیا زندگی ہموار تھی تو ساتھ تھا انبوہ ایک زندگی کے موڑ پر پہنچا تو تنہا رہ گیا کل سجا تھا جن کے چہروں پر محبت کا نقاب کتنی حیرت سے انہیں میں آج تکتا رہ گیا ایک سایہ تھا چلا صبح ازل مجھ سے طویل آفتوں کا ...

مزید پڑھیے

فریب ہجر میں لمحے سبھی وصال کے ہیں

فریب ہجر میں لمحے سبھی وصال کے ہیں گئے دنوں کی محبت یہ دن ملال کے ہیں گئی رتوں کے فسانے ابھی نہیں بھولے یہ جتنے خواب ہیں آنکھوں میں گزرے سال کے ہیں یہ اپنا ظرف ہے خاموش ہو گئے ہم لوگ بہت جواب اگرچہ ترے سوال کے ہیں اگرچہ وجہ اذیت ہیں اب تو یادیں بھی مگر یہ سارے فسانے اسی جمال کے ...

مزید پڑھیے

اب یہ کھلا کہ عشق کا پندار کچھ نہیں

اب یہ کھلا کہ عشق کا پندار کچھ نہیں دیوار گر گئی پس دیوار کچھ نہیں جس نے سمجھ لیا تھا مجھے آسمان پر اب جانتا ہے وہ مرا کردار کچھ نہیں خود مجھ کو اعتماد نہیں اپنی ذات پر انکار میرا کچھ نہیں اقرار کچھ نہیں وہ بھی سمجھ گیا کہ ہوس کا یہ کھیل ہے اب مدح چشم و گیسو و رخسار کچھ ...

مزید پڑھیے

جب کہ مانوس تھا آلام کے گرداب سے بھی

جب کہ مانوس تھا آلام کے گرداب سے بھی مل گیا زہر تمسخر کئی احباب سے بھی میرے رستے ہوئے زخموں کا مداوا نہ ہوا یہ شکایت ہے ترے شہر کے آداب سے بھی اب انہیں آنکھ کی پتلی میں چھپانا ہوگا داغ جو دھل نہ سکے چشمۂ مہتاب سے بھی کوئی تو زخم مرا ساز تکلم چھیڑے کوئی تو بات چلے دیدۂ پر آب سے ...

مزید پڑھیے

یہ ماہتاب یہ سورج کدھر سے آئے ہیں

یہ ماہتاب یہ سورج کدھر سے آئے ہیں یہ کون لوگ ہیں یہ کس نگر سے آئے ہیں یہی بہت ہے مری انگلیاں سلامت ہیں یہ دل کے زخم تو عرض ہنر سے آئے ہیں بہت سے درد مداوا طلب تھے پہلے بھی اب اور زخم مرے چارہ گر سے آئے ہیں گرا دیا ہے جسے آندھیوں کے زور نے کل یہ خوش نوا اسی بوڑھے شجر سے آئے ہیں رکے ...

مزید پڑھیے

کیا کروں کچھ بھی سمجھ آتا نہیں

کیا کروں کچھ بھی سمجھ آتا نہیں وہ خیالوں سے مرے جاتا نہیں کیا خبر چہرہ کہاں وہ کھو گیا خواب میں بھی جو نظر آتا نہیں رات جگنو چاند تاروں کا ہجوم دل پریشاں چین کیوں پاتا نہیں کوئی سورج اپنے دامن میں لیے خواب فردا کا نشاں آتا نہیں برف ذہنوں میں جمی ہے اس قدر حادثوں کا ڈر بھی ...

مزید پڑھیے

دل شوریدہ بتا تیری یہ عادت کیا ہے

دل شوریدہ بتا تیری یہ عادت کیا ہے ہم سے ہی پوچھ رہا ہے کہ محبت کیا ہے نہ محبت نہ مروت نہ ملاقات رہی گر یہی دوستی ٹھہری تو عداوت کیا ہے ہم نہ کہتے تھے کہ یادوں کو سنبھالے رکھنا اب جو تنہائی کا عالم ہے تو حیرت کیا ہے غیر کو ساتھ لیے آئے ہو ہم سے ملنے فتنہ انگیزی یہ کیسی یہ قیامت ...

مزید پڑھیے

ساری رات کہانی سن کے ہم تو لب نہ کھولیں گے

ساری رات کہانی سن کے ہم تو لب نہ کھولیں گے ویسے چھپ کے ہنس بھی لیں گے ویسے تنہا رو لیں گے اجڑے دل کی بستی والے اتنے غافل ہوتے ہیں کھو بھی گئے تو اس میلے میں کسی کے سنگ بھی ہو لیں گے بادل گرجے بجلی کڑکے یا ساون بھادوں برسیں ہم سڑکوں پہ رہنے والے چپی سادھ کے سو لیں گے یارو تم یہ فکر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2444 سے 6203