قومی زبان

حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا

حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا تیغ کی آنچ سے گھر میں مرے کھانا پکا جنس دل لے کے نہ جاؤں میں کسی اور کے پاس آپ بیعانہ اگر دیجئے پکا پکا ہر طرح ہاتھ اٹھانا ہے جہاں سے مشکل بیٹھ رہنے کو بھی گھر چاہئے کچا پکا ہے وہ شاعر جو پڑھے بزم سخن میں اشعار معتبر ہے جو کچہری میں ہو چہرہ ...

مزید پڑھیے

آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں

آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں کون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیں بزم کی کثرت سے اندیشہ مرے دل میں نہیں دل میں اس کی ہے جگہ میرے جو محفل میں نہیں پنجۂ مژگان تر نے یہ اڑائیں دھجیاں تار باقی ایک بھی دامان ساحل میں نہیں خون ناحق کا ہمارے داغ مٹنے کا نہیں تیغ میں ہوگا ...

مزید پڑھیے

گھس گھسا کر سہی رواں تو ہے

گھس گھسا کر سہی رواں تو ہے دل بڑھاپے میں بھی جواں تو ہے گو مضامیں نہیں ہمارے پاس شاعری کے لئے زباں تو ہے راز تو نا ہوا جو بتلا دوں ورنہ تو اچھا راز داں تو ہے غصے میں عشق کو کہا گالی اور تو کہہ رہی ہے ہاں تو ہے تیری تصویر کھینچنے کے بعد کیمرہ زیب داستاں تو ہے عقل رہتی ہے غم جہاں ...

مزید پڑھیے

ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہوگا

ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہوگا ہمارے بعد نہ جانے تمہارا کیا ہوگا ہمارا خود پہ گزارا نہیں ہے مدت سے ہمارے ساتھ کسی کا گزارا کیا ہوگا وہ میرے ساتھ غریبی میں بھی بہت خوش ہے شب سیاہ جب آئی ستارہ کیا ہوگا یہ دیکھنے کے لئے کیوں نہ ایک دن مر جائیں ہمارے ساتھ اسی دن دوبارہ کیا ...

مزید پڑھیے

صرف پٹری بنی رہی مجھ میں

صرف پٹری بنی رہی مجھ میں ریل گاڑی نہیں چلی مجھ میں کچھ نہ کچھ کچھ سے کچھ نہیں بنتے ایسے کچھ کچھ پڑے کئی مجھ میں اس کی آنکھیں بنائی ماچس پہ ایک سگرٹ سی جل گئی مجھ میں غم کے خالق نے مجھ سے پوری کی تھوڑی سی بھی نہیں کمی مجھ میں میر کی لیک ٹک میں اٹکے ہیں کچھ روایت کے مصحفی مجھ ...

مزید پڑھیے

ہم تلخیٔ حیات کو آساں نہ کر سکے

ہم تلخیٔ حیات کو آساں نہ کر سکے صحرائی زندگی کو گلستاں نہ کر سکے تھا زعم جن کو اپنی مسیحائی کا یہاں وہ بھی علاج سوزش پنہاں نہ کر سکے وارفتگئ شوق میں شل ہو گئے بدن عابد طواف کوچۂ جاناں نہ کر سکے کچھ یوں چلی تھی باد حوادث کہ کہ عمر بھر قندیل آرزو کو فروزاں نہ کر سکے آلام عاشقی نے ...

مزید پڑھیے

بار خاطر ہوئی یہ عمر گریزاں جاناں

بار خاطر ہوئی یہ عمر گریزاں جاناں تجھ کو سمجھا تھا غم ہجر کا درماں جاناں آ بتاؤں تجھے آشوب تمنا کیا ہے کیسے کٹتی ہے یہ تار شب ہجراں جاناں میں نے ہر غم کو غم عشق سے تعبیر کیا غم جاں ہو یا بلا سے غم دوراں جاناں کوئی دیکھے مری آنکھوں سے اسیری کا فسوں گھر ہوا جاتا ہے اک حلقۂ زنداں ...

مزید پڑھیے

کوئی محروم محبت نہ رہا میرے بعد

کوئی محروم محبت نہ رہا میرے بعد رنگ لائی مری تاثیر دعا میرے بعد آج عیسیٰ کی طرح دار پہ کھینچے ہے مجھے مجھ پہ روئے گی یہ مخلوق خدا میرے بعد میرے مٹنے سے ہوئے گویا قفس سے آزاد نہ رہا کوئی گرفتار بلا میرے بعد ایسی روٹھی ہے مشیت سے تری رب کریم پھر چمن میں نہ گئی باد صبا میرے ...

مزید پڑھیے

اے دوست مجھے سوز نہاں مار نہ ڈالے

اے دوست مجھے سوز نہاں مار نہ ڈالے یہ نالۂ شب آہ و فغاں مار نہ ڈالے اک عمر سے پیوست رگ جاں ہے مگر اب ڈرتا ہوں کہ یہ تیر تپاں مار نہ ڈالے رائج ہے زباں بندی کا دستور چمن میں بلبل کو کہیں ضبط فغاں مار نہ ڈالے خورشید قیامت سے سوا سوز دروں ہے اے شیخ تجھے عشق بتاں مار نہ ڈالے تو خواب ہے ...

مزید پڑھیے

یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقش پا ہوگا

یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقش پا ہوگا میں جہاں سے گزروں گی تیرا سامنا ہوگا وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہوگا روٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جھکا ہوگا جس جگہ نہ تم ہو گے جس جگہ نہ ہم ہوں گے ایک ایسی منزل پر قافلہ رکا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2441 سے 6203