قومی زبان

خواب امید سے سرشار بھی ہو جائے تو کیا

خواب امید سے سرشار بھی ہو جائے تو کیا دشت تو دشت ہے بازار بھی ہو جائے تو کیا اب کہاں کوئی ستاروں کو گنا کرتا ہے میرا ہر زخم نمودار بھی ہو جائے تو کیا سو چکی شام اندھیرے کا ہے سایہ دل پر آج خواہش کوئی بیدار بھی ہو جائے تو کیا زندگی اپنی نہ بدلی ہے نہ بدلے گی کبھی خاک پا زینت دستار ...

مزید پڑھیے

ریت پر اک نشان ہے شاید

ریت پر اک نشان ہے شاید یہ ہمارا مکان ہے شاید شور کے بیچ سو رہی ہے زمیں مدتوں کی تھکان ہے شاید درد کا اشتہار چسپاں ہے زندگی کی دکان ہے شاید تنہا تنہا نکل پڑے پنچھی عہد نو کی اڑان ہے شاید عقل کہتی ہے مر چکا رشتہ شوق کہتا ہے جان ہے شاید وہ جہاں پر پگھل رہی ہے دھوپ ہاں وہیں سائبان ...

مزید پڑھیے

ریت کے شانوں پہ شبنم کی نمی رات گئے

ریت کے شانوں پہ شبنم کی نمی رات گئے اور کچھ تیز ہوئی تشنہ لبی رات گئے بام و در جاگ اٹھے شوق نے آنکھیں کھولیں دل کی دہلیز پہ دستک سی ہوئی رات گئے میرے سینے میں کسی آگ کا جلنا دن بھر اس کے ہونٹوں پہ وہ ہلکی سی ہنسی رات گئے اک اسی خواب نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا نیند کے ہاتھ میں جادو ...

مزید پڑھیے

صداقت

وہ ایک شام قلم کھو گیا تھا جب میرا بہت تلاش کیا ہر طرف ادھر کہ ادھر مگر قلم کا کہیں پر نشاں نہ ہاتھ آیا مری تلاش مری کشمکش سے گھبرا کر مری وہ چھوٹی سی بیٹی مرے قریب آئی کہ جس نے لکھنا ابھی بس ابھی ہی سیکھا ہے مرے حوالے کیا اپنی ایک پنسل اور کہا کہ آپ اسے اپنے واسطے رکھیے مگر عجیب سا ...

مزید پڑھیے

آٹھواں دروازہ

بس ایک راہ پہنچتی تھی شاہزادی تک وہ راہ جس میں ہزاروں تھے پہرے دار کھڑے پھر اس کے بعد حویلی کے سات دروازے مگر کمال تھے شہزادگان وقت بھی جو سفید گھوڑوں پہ ہو کر سوار نکلے اور حویلیوں سے چرا لائے اپنی شہزادی یہ ایک میں کہ تمہاری گلی میں جب بھی بڑھا مری انا کا پرانا سا ایک دروازہ مرے ...

مزید پڑھیے

کسے گماں تھا

کسے گماں تھا کہ آسماں سے زمیں پہ پیغام آ سکیں گے پیمبروں کی جماعتوں میں ہم آدمی کا شمار ہوگا کسے گماں تھا کہ بادشاہوں کے تخت قدموں میں آ گریں گے کسے گماں تھا کہ معجزے سب حقیقتوں سے دکھائی دیں گے کسے گماں تھا مشیں چلے گی تو ابن آدم کا خوں جلے گا کسے گماں تھا کہ شاہراہوں پہ حشر جیسی ...

مزید پڑھیے

سودا تمہارے عشق کا جس دن سے سر میں ہے

سودا تمہارے عشق کا جس دن سے سر میں ہے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے مرنے کی آرزو بھی نکل جائے گی کبھی ایسا کہاں کہ بیر دعا و اثر میں ہے جوش جنوں کو کس لئے صحرا کی ہے تلاش سر پھوڑنے کا لطف تو دیوار و در میں ہے ہر حلقۂ خیال ہے تصویر روئے دوست افسون انتظار یہ کیسا نظر میں ہے اے ...

مزید پڑھیے

یاد ایامے کہ دل رکھتے تھے جاں رکھتے تھے ہم

یاد ایامے کہ دل رکھتے تھے جاں رکھتے تھے ہم شکوہ سنجی کے لئے منہ میں زباں رکھتے تھے ہم ساز غم رکھتے تھے ہم سوز نہاں رکھتے تھے ہم سر میں سودا دل میں نشتر سا نہاں رکھتے تھے ہم گرد باد آساز میں بر آسماں رکھتے تھے ہم اپنے قدموں کے تلے سارا جہاں رکھتے تھے ہم حسرت‌‌ آشفتگی شوق زیاں ...

مزید پڑھیے

ہاتھ کی جنبش سے مے چھلکی پیمانے بدنام ہوئے

ہاتھ کی جنبش سے مے چھلکی پیمانے بدنام ہوئے خود پی پی کر دنیا بہکی میخانے بدنام ہوئے کوچۂ الفت میں جو آیا کھو کے نمود و نام گیا دیوانے دیوانے ٹھہرے فرزانے بدنام ہوئے ہوش و خرد کے چرچوں میں لکھے کا بھرم بھی قائم تھا دیدہ و دل کی باتوں میں اب افسانے بدنام ہوئے شب بیتے جب شمع ...

مزید پڑھیے

بیاباں کو پشیمانی بہت ہے

بیاباں کو پشیمانی بہت ہے کہ شہروں میں بیابانی بہت ہے مرے ہنسنے پہ دنیا چونک اٹھی مجھے بھی خود پہ حیرانی بہت ہے چلو صحرا کو بھی اب آزمائیں سنا تھا گھر میں آسانی بہت ہے خدا محفوظ رکھے فصل دل کو کہیں سوکھا کہیں پانی بہت ہے کہیں بادل کہیں پیڑوں کے سائے اجالوں پر نگہبانی بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2427 سے 6203