نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا
نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا اسے بھی اک نہ اک دن حسرت ناکام لکھوں گا مری روداد دل کی ابتدا تم انتہا بھی تم تمہارا تذکرہ کیسے برائے نام لکھوں گا قلم کی روشنائی جانے کیا الزام دے مجھ کو میں اپنی صبح کے اوراق پر جب شام لکھوں گا کتاب عشق جب بھی زندگی لکھوائے گی مجھ سے وفا کے ...