قومی زبان

نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا

نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا اسے بھی اک نہ اک دن حسرت ناکام لکھوں گا مری روداد دل کی ابتدا تم انتہا بھی تم تمہارا تذکرہ کیسے برائے نام لکھوں گا قلم کی روشنائی جانے کیا الزام دے مجھ کو میں اپنی صبح کے اوراق پر جب شام لکھوں گا کتاب عشق جب بھی زندگی لکھوائے گی مجھ سے وفا کے ...

مزید پڑھیے

سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا ہاں وہ پودا جو تری چھاؤں میں کمھلایا تھا رات کس نے مری تنہائی کو مہکایا تھا بوئے گل آئی تھی یا تیرا خیال آیا تھا دیکھنے والے وہ منظر نہیں بھولے اب تک میں کبھی آپ کی آنکھوں میں نظر آیا تھا کتنے قصوں کو دیا جنم ترے اشکوں نے میں بہت خوش تھا کہ ...

مزید پڑھیے

وہ جتنی خود نمائی کر رہا ہے

وہ جتنی خود نمائی کر رہا ہے خود اپنی جگ ہنسائی کر رہا ہے ذرا سا جوش کیا دریا میں آیا سمندر کی برائی کر رہا ہے ذرا ہم نے زباں کیا بند کر لی زمانہ لب کشائی کر رہا ہے

مزید پڑھیے

انہدام

کچی دیوار اور کچا مکان کچی مٹی کا یہ عجب انسان نذر ہوتا ہے بارشوں کی یہ اس کو سیلاب کھا کے جاتا ہے کچی دیوار اور کچا مکان کچی مٹی کا یہ عجب انسان ایک دن تھک کے چور ہوتا ہے ذات سے اپنی دور ہوتا ہے

مزید پڑھیے

لکیریں کھینچ کر کیا کیا وہ کاغذ پر بناتا ہے

لکیریں کھینچ کر کیا کیا وہ کاغذ پر بناتا ہے ترا دوانہ تیرے حسن کا پیکر بناتا ہے بدلتے وقت نے اس کا حسیں پیشہ بدل ڈالا جو کل پھولوں کا تاجر تھا وہ اب خنجر بناتا ہے بنا گہنوں کے رخصت ہو گئی لخت جگر اس کی امیروں کے لئے جو قیمتی زیور بناتا ہے چلو اس شخص کی ہمت کی ہم بھی داد ہی دے ...

مزید پڑھیے

بیوہ ماں کو خون کے آنسو رلاتے ہیں چراغ

بیوہ ماں کو خون کے آنسو رلاتے ہیں چراغ چھوڑ کر بستہ کتابیں جب کماتے ہیں چراغ سونے چاندی تانبے پیتل سے بنانا فن نہیں اہل فن ہیں جو کہ مٹی سے بناتے ہیں چراغ آج بھی میرے وطن کے چھوٹے چھوٹے گاؤں میں شام ہوتے ہی بڑے بوڑھے لگاتے ہیں چراغ کشتیاں رستے سے ہٹ جائیں نہ طوفاں کے سبب ہم ...

مزید پڑھیے

ہم وصل کی دن رات دعا مانگ رہے ہیں

ہم وصل کی دن رات دعا مانگ رہے ہیں بیمار محبت ہیں دوا مانگ رہے ہیں مشکل سے ملا کرتے ہیں با ظرف مخالف دشمن مرے جینے کی دعا مانگ رہے ہیں اس درجہ فروزاں ہیں مرے داغ جگر بھی خورشید و قمر مجھ سے ضیا مانگ رہے ہیں پر نور ہے جن سے مری آنکھوں کا جزیرہ اوروں سے مرے گھر کا پتہ مانگ رہے ...

مزید پڑھیے

اک وہ کہ اپنی ضد پہ برابر اڑے رہے

اک وہ کہ اپنی ضد پہ برابر اڑے رہے اک ہم کہ انتظار میں پہروں کھڑے رہے دریائے عشق کر لیا ہوتا عبور میں لیکن مرے نصیب میں کچے گھڑے رہے جتنے تھے کم نگاہ وہ جلوؤں میں کھو گئے اہل نظر کی آنکھ پہ پردے پڑے رہے اک شور جی حضوری کا رہتا تھا آس پاس جب تک مرے لباس میں ہیرے جڑے رہے حیرت کہ جن ...

مزید پڑھیے

کوئی ہجر ہے نہ وصال ہے

کوئی ہجر ہے نہ وصال ہے سبھی خواہشوں کا یہ جال ہے مری آنکھ میں جو ٹھہر گیا تری فرقتوں کا ملال ہے مرا ہو کے بھی نہ وہ ہو سکا یہ عجیب صورت حال ہے تمہیں صرف اوروں کی فکر ہے کہ میرا بھی کوئی خیال ہے مرے حال کو نہ بے حال کر مرا تجھ سے بس یہ سوال ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2384 سے 6203