قومی زبان

اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے چھوڑنا ہے تو بہانے کی ضرورت کیا ہے لگ چکی آگ تو لازم ہے دھواں اٹھے گا درد کو دل میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے عمر بھر رہنا ہے تعبیر سے گر دور تمہیں پھر مرے خواب میں آنے کی ضرورت کیا ہے اجنبی رنگ چھلکتا ہو اگر آنکھوں سے ان سے پھر ہاتھ ملانے کی ...

مزید پڑھیے

مریخ کی سیر

اس سال چھٹیوں کا بنا یہ پروگرام جائیں گے دوست سیر کو مریخ کی تمام دنیا سے دور اپنی خلاؤں میں جائیں گے ہم دوسرے جہاں کی خبر لے کے آئیں گے اونچی بہت اڑان ہے لمبا بڑا سفر نکلے خلا کی سیر کو راکٹ میں بیٹھ کر پھر ہم نے جا کے ڈال دی مریخ پر کمند اقبال کے اقبال کو ہم نے کیا بلند لمبے سفر کے ...

مزید پڑھیے

بھول جاؤ گے تم اگر مجھ کو

بھول جاؤ گے تم اگر مجھ کو کون دے گا مری خبر مجھ کو مرتبہ چاہتا ہوں کچھ میں بھی اے محبت تباہ کر مجھ کو جو مجھے ایک دن میں بھول گیا یاد آئے گا عمر بھر مجھ کو اے شب غم کوئی تو آہٹ کر کاٹ کھائے گا میرا گھر مجھ کو میں ترے دل کا ایک حصہ ہوں اپنے اندر تلاش کر مجھ کو

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے زمانے پہ چھانا چاہتا ہے

کچھ اس طرح سے زمانے پہ چھانا چاہتا ہے وہ آفتاب پہ پہرے بٹھانا چاہتا ہے تعلقات کے دھاگے تو کب کے ٹوٹ چکے مگر یہ دل ہے کہ پھر آنا جانا چاہتا ہے جو قطرہ قطرہ اکٹھا ہوا تھا آنکھوں میں وہ خون اب مری پلکوں پہ آنا چاہتا ہے چٹخ رہا ہے جو رہ رہ کے میرے سینے میں وہ مجھ میں کون ہے جو ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

کئی سپنے ادھورے رہ گئے ہیں

کئی سپنے ادھورے رہ گئے ہیں مری مٹھی میں لمحے رہ گئے ہیں خوشامد کا ہنر ہم کو نہ آیا اسی باعث تو پیچھے رہ گئے ہیں پریشاں اس لیے پھرتے ہیں بادل بہت سے کھیت پیاسے رہ گئے ہیں ہم اپنے زیست کے اندھے سفر میں اکیلے تھے اکیلے رہ گئے ہیں بہت خوش ہو چراغوں کو بجھا کر وہ دیکھو چاند تارے رہ ...

مزید پڑھیے

الفاظ بک رہے تھے خریدے نہیں گئے

الفاظ بک رہے تھے خریدے نہیں گئے اسکول ہم غریبوں کے بچے نہیں گئے تو خود ضرورتوں کے اندھیرے میں کھو گیا تجھ کو تلاش کرنے اندھیرے نہیں گئے صیاد کے قفس میں انہیں بھوک لے گئی پنچھی خوشی سے جال میں پھنسنے نہیں گئے جگنو ہیں تیرگی میں چمکتے رہے ہیں ہم سورج کی روشنی میں چمکنے نہیں ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں کو کشکول بنائے بیٹھے ہیں

ہاتھوں کو کشکول بنائے بیٹھے ہیں بھوکے بچے غول بنائے بیٹھے ہیں آپ حسیں پیالے سے دھوکہ مت کھانا وہ زہریلا گھول بنائے بیٹھے ہیں وہ شعلوں کی بارش کرنے والا ہے ہم کاغذ کے خول بنائے بیٹھے ہیں اس کی کوشش بکنے پر مجبور ہوں ہم ہم خود کو انمول بنائے بیٹھے ہیں دشمن آخر دستاروں تک آ ...

مزید پڑھیے

غم و خوشی کے اگر سلسلے نہیں چلتے

غم و خوشی کے اگر سلسلے نہیں چلتے تو میرے ساتھ کبھی حوصلے نہیں چلتے انا کے پیڑ پہ کھلتے نہیں خلوص کے پھول ضدوں کے ساتھ کبھی فیصلے نہیں چلتے بس اک نگاہ پہ عمریں نثار ہوتی ہیں محبتوں کے کبھی سلسلے نہیں چلتے ہمارے قدموں میں رہتے ہیں راستے لیکن ہمارے ساتھ کبھی مرحلے نہیں چلتے ہر ...

مزید پڑھیے

وہ پتھرائی سی آنکھوں کو بھی کاجل بھیج دیتا ہے

وہ پتھرائی سی آنکھوں کو بھی کاجل بھیج دیتا ہے سلگتی دوپہر میں جیسے بادل بھیج دیتا ہے میں اپنے سب مسائل بس اسی پر چھوڑ دیتا ہوں مرے الجھے مسائل کا وہی حل بھیج دیتا ہے جہاں والے اسے جب یاد کرنا بھول جاتے ہیں زمینوں کی تہوں میں کوئی ہلچل بھیج دیتا ہے جہاں اہل خرد تیور بدل کر بات ...

مزید پڑھیے

بام و در پر رینگتی پرچھائیاں

بام و در پر رینگتی پرچھائیاں مجھ سے اب مانوس ہیں تنہائیاں اب سمندر بھی بہت سطحی ہوئے اب رہیں ان میں نہ وہ گہرائیاں خانۂ دل کو کرو آباد پھر مجھ کو لوٹا دو وہی رعنائیاں اک تھکن سی جسم پر طاری ہوئی ٹوٹ کر گرنے لگیں پرچھائیاں

مزید پڑھیے
صفحہ 2383 سے 6203