قومی زبان

ماہتاب وجود پڑھتے ہیں

ماہتاب وجود پڑھتے ہیں آ کتاب وجود پڑھتے ہیں دھوپ رنگوں میں ڈھال دیتے ہیں آفتاب وجود پڑھتے ہیں تیری خوشبو کو سانس کرتے ہیں پھر گلاب وجود پڑھتے ہیں اک مہک جو بدن جلاتی ہے اس کا باب وجود پڑھتے ہیں کتنی بوجھل گزرتی ہیں شامیں تیرا خواب وجود پڑھتے ہیں تیری حیرانی جان لیں ...

مزید پڑھیے

یہ فکر و فن کے فتنے لوگ اب اکثر اٹھاتے ہیں

یہ فکر و فن کے فتنے لوگ اب اکثر اٹھاتے ہیں اجالے میں تو سبحہ رات میں ساغر اٹھاتے ہیں نہیں ہے طاقت پرواز لیکن حوصلہ تو ہے نگاہیں آسماں پہ رکھ کے بال و پر اٹھاتے ہیں یہ مانا ہم نے صبر و ضبط کے عادی ہیں ہم لیکن ستم حد سے گزر جائے تو پھر خنجر اٹھاتے ہیں کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے وہ اس ...

مزید پڑھیے

حیوانیت کا زہر دلوں میں اتر گیا

حیوانیت کا زہر دلوں میں اتر گیا بستی سے اپنی کون سا موسم گزر گیا اونچے مکان والے جو تھے صاف بچ گئے الزام قتل سارا غریبوں کے سر گیا دیدار ہو رہا تھا مجھے ان کا خواب میں آنکھیں کھلیں تو خوش نما منظر بکھر گیا حیرت زدہ ہیں لوگ مرا عزم دیکھ کر میں پیچ و خم کی راہ پہ چل کر سنور ...

مزید پڑھیے

ہوا جب نا مناسب ہو تو پتے ٹوٹ جاتے ہیں

ہوا جب نا مناسب ہو تو پتے ٹوٹ جاتے ہیں جہاں مطلب پرستی ہو وہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں گلوں کی پرورش کے واسطے مالی ضروری ہے نہ ہو ماں باپ کا سایہ تو بچے ٹوٹ جاتے ہیں اگر ہو جائے بیٹا نا خلف تو بوڑھی آنکھوں کے سجے ہوتے ہیں جتنے بھی وہ سپنے ٹوٹ جاتے ہیں پرندے ہیں اگر خاموش بزدل مت سمجھ ...

مزید پڑھیے

ہم سے یہ قتل کے منظر نہیں دیکھے جاتے

ہم سے یہ قتل کے منظر نہیں دیکھے جاتے شاہراہوں پہ کٹے سر نہیں دیکھے جاتے جب کفن باندھ کے نکلے ہو شہادت کے لئے پھر پلٹ کر تو کبھی گھر نہیں دیکھے جاتے فکر کا کاش دریچہ ہی کوئی کھل جائے ذہن انسانوں کے بنجر نہیں دیکھے جاتے ہم نے ہنستے ہوئے پھولوں میں گزاری ہے حیات ہم سے بربادی کے ...

مزید پڑھیے

پھر اپنے آپ سے اس کو حجاب آتا ہے

پھر اپنے آپ سے اس کو حجاب آتا ہے تھرکتی جھیل پہ جب ماہتاب آتا ہے دکھائیے نہ ہمیں آپ موسمی آنسو کہ یہ ہنر تو ہمیں بے حساب آتا ہے وہ جس طریق سے اس نے سوال داغا ہے اسی طرح کا مجھے بھی جواب آتا ہے تو بارشوں سے شکایت سی ہونے لگتی ہے گلاب سا جو کوئی زیر آب آتا ہے میں اپنی آنکھ میں شبنم ...

مزید پڑھیے

ہر کوئی شہر میں پابند انا لگتا ہے

ہر کوئی شہر میں پابند انا لگتا ہے کیا تماشا ہے کہ ہر شخص خدا لگتا ہے میں نے ہجرت کے بیاباں میں ریاضت کی ہے اب یہ جنگل مجھے فردوس نما لگتا ہے دیدۂ شوخ میں دیکھا ہے اتر کر میں نے حسن پندار ہے پردے میں بھلا لگتا ہے جب ترے غم سے نکلنے کی نہ صورت نکلے تیرا وحشی کسی دیوار سے جا لگتا ...

مزید پڑھیے

صبا و گل کو مہ‌ و نجم کو دوانہ کیا

صبا و گل کو مہ‌ و نجم کو دوانہ کیا مری سرشت نے ہر رنگ کو نشانہ کیا وہی بہار جسے تم بہار کہتے ہو سلوک ہم سے بہت اس نے باغیانہ کیا جہاں بھی تیز ہواؤں نے ساتھ چھوڑ دیا غبار راہ نے اپنا وہیں ٹھکانہ کیا ہم آخر اس کے خد و خال دیکھتے کیسے ہمیشہ اس نے قریب آنے سے بہانہ کیا سخنوری کی ...

مزید پڑھیے

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں سبز اک شاخ جلی ہے مجھ میں کتنی ویرانی ہے میرے اندر کس قدر تیری کمی ہے مجھ میں دور تک اب تو خموشی ہے بس دور تک اب تو یہی ہے مجھ میں مان لیتی ہوں مکمل ہو تم مان لیتی ہوں کمی ہے مجھ میں خشک ہونے ہی نہیں دیتی آنکھ وہ جو ساون کی جھڑی ہے مجھ میں

مزید پڑھیے

اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر

اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر اس خوشبوئے خیال کو تو کائنات کر دل کب تلک جدائی کی شامیں منائے گا میری طرف کبھی تو نسیم حیات کر میں اک طویل راستے پر ہوں کھڑی ہوئی یا حبس تیرگی لے یا ہاتھوں میں ہاتھ کر دھیمے سروں میں چھیڑ کے پھر ساز زندگی تو میرے لہجے میں بھی کبھی مجھ سے بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2385 سے 6203