قومی زبان

عدم خواب کے خواب میں

چھان کر دیکھ لی ریگ دشت زیاں ڈھونڈ پائے نہ ہم دوسرا آسماں اجنبی موسموں کی اڑانوں میں ٹوٹے پروں کی طرح ہم جئے بھی تو کیا کس نے دیکھا ہمیں چشم نم کے کناروں پہ ٹھہرے ہوئے منظروں کی طرح رات کی آنکھ سے بہہ گئے خواب بھی ہم بھی معدوم کی ان سلی نیند میں یاد کے طاق میں اب تمنا کی لو کا نشاں ...

مزید پڑھیے

مہلت

ابھی ٹھہرو ابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچو ابھی تو اس کہانی میں محبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تک نظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کے سارے ذائقے تبدیل ہونے تک بہت سے موڑ آنے ہیں مجھے ان سے گزرنے دو ذرا محسوس کرنے دو کہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہے مرے لہجے میں اپنا ...

مزید پڑھیے

کوئی زندگی تھی گمان سی

کیا کوئی خبر آئے زندگی کے ترکش میں جتنے تیر باقی تھے میری بے دھیانی سے دل کی خوش گمانی سے ساز باز کرتے ہی روح میں اتر آئے دھند اتنی گہری ہے کچھ پتا نہیں چلتا خواب کے تعاقب میں کون سے زمانوں سے کتنے آسمانوں سے ہم گزر کے گھر آئے فصل گل کی باتیں بھی اب کہاں رہیں ممکن عمر کی کہانی ...

مزید پڑھیے

بجھا رت

یہ میرے دل کی پگڈنڈی پہ چلتی نظم ہے کوئی کہ سیل وقت کی بھٹکی ہوئی اک لہر سا لمحہ جو آنچل پر ستارے اور ان آنکھوں میں آنسو ٹانک دیتا ہے ستاروں کی چمک اور آنسوؤں کی جھلملاہٹ میں کسی احساس گم گشتہ سے لکھا باب ہے شاید کوئی سیلاب ہے شاید یا اک بے نام سی رسم تعلق کا تراشا خواب ہے شاید جو ...

مزید پڑھیے

وصل نے جب مری تخلیق کو زنجیر کیا

وصل نے جب مری تخلیق کو زنجیر کیا ہجر کہنے لگا میں ساتھ ہوں تو لکھتا جا تجھ سے میں جنگ کا اعلان بھی کر ہی دوں گا میرے دشمن تو مرے قد کے برابر تو آ مجھ سے ناداں کی کتابیں نہ سمجھ پائے ہیں تو سمجھتا ہے یہ سمجھیں گے صحیفے اے خدا ڈوب کر درد کے دریا میں اے میرے ہمدم تجھ کو کیسے میں ...

مزید پڑھیے

فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو

فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو وہ جا رہا ہے کہیں دور مار کر مجھ کو تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی جو چھپ گئی ہے ہمیشہ پکار کر مجھ کو تمام عمر ترے انتظار میں ہمدم خزاں رسیدہ رہا ہوں بہار کر مجھ کو ترا خلوص تو چہرے بدلتا رہتا ہے کہ ایک پل کو ہی اپنا شمار کر مجھ کو ندیمؔ اس کا ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے گر فضول مجھے

تو سمجھتا ہے گر فضول مجھے کر کے ہمت ذرا سا بھول مجھے ایک شفاف آئینہ تھا میں راستے نے کیا ہے دھول مجھے چور رستے کے صاحب دیواں انکھڑیاں کھول کر قبول مجھے میں زمانے پہ تیرا قرضہ ہوں کب کرے گا بھلا وصول مجھے

مزید پڑھیے

تمہاری محفل سے جا رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

تمہاری محفل سے جا رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا اے میرے یارو لو میں چلا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا محبتوں کا میں راستہ ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا جو تم نہ دیکھو میں دیکھتا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا رہ وفا میں فنا ہوا پر کسی کے آگے جھکا نہیں جو وفاؤں کا میں وہ قافلہ ہوں ...

مزید پڑھیے

تری قربتیں ہیں سکوں جان جاناں

تری قربتیں ہیں سکوں جان جاناں وگرنہ محبت جنوں جان جاناں جو سوچوں میں حالات اپنے وطن کے رگوں میں سے رستا ہے خوں جان جاناں ابھی تک گھنیری سی چادر میں ہوں میں کسی زلف کا ہے فسوں جان جاناں فسانے محبت کے زندہ رہیں گے میں لکھوں نہ چاہے لکھوں جان جاناں تمہاری محبت کا اب بھی قسم ...

مزید پڑھیے

ساحل پہ تیرے بعد کی ویرانی کھا گئی

ساحل پہ تیرے بعد کی ویرانی کھا گئی اترے سمندروں میں تو طغیانی کھا گئی طاقت یہ چار دن کی ہے تاریخ پڑھ ذرا سلطان کتنے تھے جنہیں سلطانی کھا گئی دنیا بدل گئی تھی کوئی غم نہ تھا مجھے تم بھی بدل گئے تھے یہ حیرانی کھا گئی

مزید پڑھیے
صفحہ 2381 سے 6203