قومی زبان

پت جھڑ میں خزاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں

پت جھڑ میں خزاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں میں زرد فضاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں بھرنے ہیں کئی رنگ مجھے اپنے دئے میں کیوں تیز ہواؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں نکلی ہوں کسی دھن میں کسی یاد کو لے کر اور اجڑی اداؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں میں خاک نشیں آج بھی تکتی ہوں فلک کو مدت سے خلاؤں ...

مزید پڑھیے

عشق کو آنکھ میں جلتے دیکھا

عشق کو آنکھ میں جلتے دیکھا پھول کو آگ میں کھلتے دیکھا عشق کے راز نہ پوچھو صاحب عشق کو دار پہ چڑھتے دیکھا عشق کے دام بھی لگ جاتے ہیں مصر میں اس کو بکتے دیکھا عشق ہے واجب اس کو ہم نے جسم اور جاں میں اترتے دیکھا اس کو ہوس کا نام نہ دینا لوح پہ اس کو لکھتے دیکھا عرش بھی حیرت سے ...

مزید پڑھیے

زخموں سے کہاں لفظوں سے ماری گئی ہوں میں

زخموں سے کہاں لفظوں سے ماری گئی ہوں میں جیون کے چاک سے یوں اتاری گئی ہوں میں مجھ کو مرے وجود میں بس تو ہی تو ملا ایسے تری مہک سے سنواری گئی ہوں میں افسوس مجھ کو اس نے اتارا ہے گور میں جس کے لئے فلک سے اتاری گئی ہوں میں مجھ کو کیا ہے خاک تو پھر خاک بھی اڑا اے عشق تیری راہ میں واری ...

مزید پڑھیے

ہر ایک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے

ہر ایک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے وہ ایک شخص جو دل کے مکاں میں رہتا ہے نہ دل نکلتا ہے اس کا نہ شام ہوتی ہے اب اس طرح سے بھی کوئی جہاں میں رہتا ہے یقین ہے کہ وہ مجھ پر یقین رکھتا ہے گمان ہے تو وہ اب تک گماں میں رہتا ہے میں اس طرح سے ہوں آزاد اپنی دنیا میں کہ جیسے کوئی پرند آشیاں ...

مزید پڑھیے

جو نہیں ہے تیرا مقصد مجھے سوگوار کرنا

جو نہیں ہے تیرا مقصد مجھے سوگوار کرنا مجھے کچھ برا نہیں ہے ترا انتظار کرنا مری آنکھ کی نمی نے ترے سارے بھید کھولے نہیں تھا مرا ارادہ تجھے شرمسار کرنا مری زیست برگزیدہ تھی حصار بندگی میں تجھے کیوں پسند آیا مجھے بے حصار کرنا ہیں ہزاروں دفن آنسو مری قبر آرزو میں نہ دل حزیں کو تم ...

مزید پڑھیے

نظم

مرے شہر میں مری آخری وہ عجیب شب تھی وصال کی کہ چمن میں چھایا دھواں سا تھا کہاں شبنمی وہ بہار تھی وہ چنبیلی خوشبو بکھیرتی وہ بھری سی شاخیں گلاب سی کہ ہر ایک پتی تھی نوحہ خواں تھی کلی کلی بھی نڈھال سی تھے وہ مجھ سے جیسے گلہ کناں میں چلی ہوں کیوں انہیں چھوڑ کے تھیں لرزتی کانپتی ...

مزید پڑھیے

ابتدا درد ہے انتہا درد ہے

ابتدا درد ہے انتہا درد ہے عشق کا درد تو لا دوا درد ہے میں نے پوچھا وفا کا صلہ جو کبھی اس نے ہنس کر یہ مجھ سے کہا درد ہے پیار سے عشق تک جا بجا روشنی پیار سے عشق تک جا بجا درد ہے یہ نیا پھول ہے اور یہ خوشبو نئی یہ نئی شام ہے اور نیا درد ہے زخم کیسا ہے بھرتا نہیں ہے کبھی درد ہوتا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہجر میں بھی یہ مری سانس اگر باقی ہے

ہجر میں بھی یہ مری سانس اگر باقی ہے اس کا مطلب ہے محبت میں اثر باقی ہے چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے تم ستم گر ہو نہ گھبراؤ مری حالت پر زخم سہنے کا ابھی مجھ میں ہنر باقی ہے ہجر کی آگ میں جلنے سے نہیں ڈرتی میں عشق مجھ میں ابھی بے خوف و خطر باقی ...

مزید پڑھیے

مرا دل اس لیے دھڑکا نہیں ہے

مرا دل اس لیے دھڑکا نہیں ہے پلٹ کر اس نے جو دیکھا نہیں ہے الٰہی میں کہاں پر آ گئی ہوں اجالا بھی جہاں اجلا نہیں ہے یہ آنسو بھی مسافر ہیں جبھی تو انہیں میں نے کبھی روکا نہیں ہے وہی اک خواب ہوتا ہے اثاثہ ہمارے پاس جو ہوتا نہیں ہے تو کیا اب ظلم حد سے بڑھ گیا ہے جو کوئی اب تلک رویا ...

مزید پڑھیے

جو کھو چکے ہیں وہ منظر تلاش کرتی ہوں

جو کھو چکے ہیں وہ منظر تلاش کرتی ہوں بکھر گئے ہیں جو پیکر تلاش کرتی ہوں کبھی تلاش جو کرنا ہو اپنا آپ مجھے تو اس کی ذات کے اندر تلاش کرتی ہوں بچھڑ گئی ہوں میں اس سے مگر نہیں بچھڑی جو بند اس نے کئے در تلاش کرتی ہوں کبھی جو حد سے گزر جائے دکھ تو ہنستی ہوں خوشی نہیں جو میسر تلاش کرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2368 سے 6203