قومی زبان

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو زندگی سے گئی زندگی شام میں درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں عشق پر آفریں جو سلامت رہا اس بکھرتی ہوئی سرمئی شام میں میری پلکوں کی چلمن پہ جو خواب تھے وہ تو سب جل گئے ...

مزید پڑھیے

خوشیوں کا راستہ گو بڑا مختصر رہا ہے

خوشیوں کا راستہ گو بڑا مختصر رہا ہے لیکن یہ دکھ سدا سے مرا ہم سفر رہا ہے اس کی ادا پہ شاید رونے لگے فلک بھی وعدوں سے اپنے کیسے اب وہ مکر رہا ہے کیسی بہار ہے یہ کیسا ہے وصل موسم ٹہنی سے ٹوٹ کر جو رہ میں بکھر رہا ہے وہ جا چکا ہے تو پھر اس سے گلہ بھی کیوں کر کب ساتھ اس جہاں کوئی عمر ...

مزید پڑھیے

زندگی بے قرار لگتی ہے

زندگی بے قرار لگتی ہے درد کی آبشار لگتی ہے پھر سے شام فراق آئی اب آنکھ بھی اشک بار لگتی ہے زخم دل کے شمار کرتی ہوں ہر گھڑی سوگوار لگتی ہے کیا بتاؤں یہ ہستئ موہوم ایک مشت غبار لگتی ہے سردیوں کی اداس راتوں میں چاندنی بھی غبار لگتی ہے بد نصیبی نہ پوچھئے شاہینؔ زندگی شعلہ بار ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کے اس سے ابھی ہوں زندہ مگر بہت پر ملال اب تک

بچھڑ کے اس سے ابھی ہوں زندہ مگر بہت پر ملال اب تک خبر نہیں وہ سنبھل چکا ہے یا وہ بھی ہے خستہ حال اب تک مجھے ترا انتظار کیوں ہے یہ دل مرا بے قرار کیوں ہے مرے خیال و نظر میں دیکھو یہی ہے بس اک سوال اب تک کہا گیا وقت سارے زخموں کا آپ مرہم بنے گا اک دن کہو کہ زخموں کا کیوں نہیں ہو سکا ...

مزید پڑھیے

اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی

اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی آنکھوں میں وقت شام چمکتی ہے زندگی تیرے لئے جب آنکھ برستی ہے رات کو پھر دل کے ساتھ ساتھ سلگتی ہے زندگی دکھ سے نڈھال ہو کے جو روتی ہیں بیٹیاں پھر ان کے دیکھ دیکھ کے ہنستی ہے زندگی جو اک خیال باعث آزار ہے بہت اس اک خیال سے ہی چہکتی ہے زندگی کس سے ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں

ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں آتش ہجر سے ہر لمحہ پگھلتی آنکھیں ایک لمحے کی ملاقات ہوئی عمر کا روگ اس کی صورت کو ہیں ہر وقت ترستی آنکھیں دل بیتاب میں اب تک وہ مچلتی خواہش تیری خوشبو سے مسلسل یہ مہکتی آنکھیں خواب میں ٹھہرا ہوا جھیل کا نیلا منظر اور اسی جھیل کنارے ہیں بھٹکتی ...

مزید پڑھیے

یادوں کے سائباں میں بسر کر رہی ہے رات

یادوں کے سائباں میں بسر کر رہی ہے رات خاکے میں زندگی کے دھنک بھر رہی ہے رات مجھ سے ہے ہم کلام یا تجھ سے ہے اس کی بات ویران راستوں کا سفر کر رہی ہے رات مدت سے جل رہے ہیں یہاں آس کے دئے بجھتے چراغ کو بھی قمر کر رہی ہے رات ان کی مہک ہے آج مرے دل سے دور کیوں پھولوں سے جھولیوں کو اگر ...

مزید پڑھیے

غم کے سنسان بیاباں سے نکلتا ہی نہیں

غم کے سنسان بیاباں سے نکلتا ہی نہیں دل مرا درد کے طوفاں سے سنبھلتا ہی نہیں عشق کی آتش خاموش ہے کب سے روشن مگر احساس کا شعلہ ہے کہ جلتا ہی نہیں ہر طرف دھند ہے اشکوں کی فراوانی سے دل بیتاب سرابوں سے بہلتا ہی نہیں تلخیاں اہل زمانہ سے وہ جھیلی ہیں نہ پوچھ دل مرا فصل بہاراں میں ...

مزید پڑھیے

چاندنی چپ رہی روشنی چپ رہی

چاندنی چپ رہی روشنی چپ رہی میری ہر بات پر زندگی چپ رہی ہم تو گھٹ گھٹ کے اک روز مر جائیں گے اس گھٹن میں اگر آنکھ بھی چپ رہی درد میرا بیاں ان سے کب ہو سکا شعر خاموش تھے شاعری چپ رہی اک یقیں تھا پلٹ آئے گا وہ ابھی میں تو بس اس کی رہ دیکھتی چپ رہی مجھ کو مقتل میں جس روز بھیجا ...

مزید پڑھیے

درد مسافر ٹھہر گیا تھا اکھیوں کی حیرانی میں

درد مسافر ٹھہر گیا تھا اکھیوں کی حیرانی میں صرف محبت بہتی تھی اور ساتھ یہ اشک روانی میں کیسے ہوا اور کب یہ ہوا کچھ خبر نہیں تھی دل کو تو ایک محبت جا سوئی تھی وحشت میں ویرانی میں درد کی شدت اور بڑھی تھی شہر وفا کی شاموں میں اور ویرانی بیٹھ گئی تھی ان اکھیوں کے پانی میں اس ہستی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2367 سے 6203