قومی زبان

محبتوں کا صلہ نہیں ہے

محبتوں کا صلہ نہیں ہے لبوں پہ حرف دعا نہیں ہے نہیں وہ تصویر پاس میرے سو ہاتھ میرا جلا نہیں ہے میں اپنی لو میں ہی جل رہی ہوں جو بجھ گیا وہ دیا نہیں ہے بس اک پیالی ہے میز پر اور وہ منتظر اب مرا نہیں ہے لکھا جنم دن پہ اس کو میں نے وہ خط بھی اس کو ملا نہیں ہے میں کس لیے پار جاؤں ...

مزید پڑھیے

جہاں چاہو میرا نام لکھو، جو چاہو تم الزام لکھو

جہاں چاہو میرا نام لکھو، جو چاہو تم الزام لکھو مجھے عشق نے برسوں قید رکھا ،مجھے ہجر کی گہری شام لکھو مرے جوش جنوں کا یہ تنہا سفر، اے چارہ گرو تمہیں کیا ہے خبر مرے پاس ہے جو بھی یہ درد ہنر، اسے تم میرے ہی نام لکھو مرے لب پہ ابھی وہ سوال ہے کیوں؟ مرے دل میں ابھی وہ ملال ہے کیوں؟ مرے ...

مزید پڑھیے

عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا

عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا زندگی میں تو ترے ناز اٹھانے سے رہا جب بھی دیکھا تو کناروں پہ تڑپتا دیکھا یہ سمندر تو مری پیاس بجھانے سے رہا بس یہی سوچ کے سر اپنا قلم کر ڈالا اب وہ الزام مرے سر تو لگانے سے رہا اس زمانہ میں جہالت سے گزر ہوتی ہے اب ہنر سے تو کوئی گھر کو چلانے ...

مزید پڑھیے

اتنی مشکل میں کبھی پہلے تو جاں آئی نہ تھی

اتنی مشکل میں کبھی پہلے تو جاں آئی نہ تھی اے محبت جب مری تجھ سے شناسائی نہ تھی زندگی میں سینکڑوں غم تھے ترے غم کے سوا دل میں ویرانے تو تھے پر اتنی تنہائی نہ تھی رہ گزر تھی حادثے تھے فاصلہ تھا دھوپ تھی برہنہ پائی تھی لیکن آبلہ پائی نہ تھی بچ کے طوفاں سے کسی صورت نکل آئے مگر ہم ...

مزید پڑھیے

جو دشت میں ملا تھا مجھے اتنا یاد ہے

جو دشت میں ملا تھا مجھے اتنا یاد ہے میرا ہی نقش پا تھا مجھے اتنا یاد ہے پھر کیا ہوا کبھی مری بربادیوں سے پوچھ تیری طرف چلا تھا مجھے اتنا یاد ہے اتنا لہو لہو تو نہیں تھا بدن مرا ہاں زخم اک ہرا تھا مجھے اتنا یاد ہے وہ بھیڑ میں کھڑا ہے جو پتھر لئے ہوئے کل تک مرا خدا تھا مجھے اتنا ...

مزید پڑھیے

کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا

کون سی شاخ کا پتہ تھا ہرا بھول گیا پیڑ سے ٹوٹ کے میں اپنا پتہ بھول گیا میں کوئی وعدہ فراموش نہیں ہوں پھر بھی مجھ پہ الزام ہے میں اپنا کہا بھول گیا اپنے بچوں کے کھلونے تو اسے یاد رہے گھر میں بیمار پڑی ماں کی دوا بھول گیا کر تو دیں میں نے چراغوں کی قطاریں روشن ہے زمانے کی مگر تیز ...

مزید پڑھیے

اک شعلۂ حسرت ہوں مٹا کیوں نہیں دیتے

اک شعلۂ حسرت ہوں مٹا کیوں نہیں دیتے مجھ کو مرے جینے کہ سزا کیوں نہیں دیتے میں جن کے لئے روز صلیبوں پہ چڑھا ہوں وہ میری وفاؤں کا صلہ کیوں نہیں دیتے کیوں درد کی شدت کو بڑھاتے ہو طبیبو اس درد مسلسل کی دوا کیوں نہیں دیتے سنتا ہوں کہ ہر موڑ پہ رہبر ہیں مگر وہ مجھ کو میری منزل کا پتہ ...

مزید پڑھیے

ہم پہ وہ مہربان کچھ کم ہے

ہم پہ وہ مہربان کچھ کم ہے اس لیے خوش بیان کچھ کم ہے مٹ گیا ہوں پر اس کی نظروں میں اب بھی یہ امتحان کچھ کم ہے شہر میں یوں زمیں تو کافی ہے نیلگوں آسمان کچھ کم ہے غم کے سامان کچھ زیادہ ہیں اس مطابق مکان کچھ کم ہے سر چھپاؤں تو پاؤں جلتے ہیں مجھ پہ یہ سائبان کچھ کم ہے زندگی اور دے ...

مزید پڑھیے

صحرا میں جو ملا تھا مجھے اتنا یاد ہے

صحرا میں جو ملا تھا مجھے اتنا یاد ہے میرا ہی نقش پا تھا مجھے اتنا یاد ہے اتنا لہو لہو تو نہیں تھا بدن مرا ہاں زخم اک ہرا تھا مجھے اتنا یاد ہے پھر کیا ہوا کبھی مری بربادیوں سے پوچھ تیری طرف چلا تھا مجھے اتنا یاد ہے وو بھیڑ میں کھڑا ہے جو پتھر لیے ہوئے کل تک مرا خدا تھا مجھے اتنا ...

مزید پڑھیے

اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے

اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے کڑے لہجے سے بہتر خامشی ہے نظر کی پیاس تو نظروں سے پوچھو ہیں زیر آب پھر بھی تشنگی ہے وہی چھوتے ہیں اکثر آسماں کو جبیں جن کی زمینوں پر جھکی ہے ورق آہستگی سے کھولیے گا بہت خستہ کتاب زندگی ہے مراسم پہلے بھی اچھے نہیں تھے مگر اب تو دلوں میں بے دلی ہے مری بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2369 سے 6203