قومی زبان

نرالے نرالے سے خوابوں کا موسم

نرالے نرالے سے خوابوں کا موسم جوانی کا عالم سرابوں کا موسم گلابی گلابی سحابوں کا موسم نہیں رہتا ہر دم گلابوں کا موسم مسرت کی گھڑیاں نہیں ٹک سکیں جب بدل کر رہے گا عذابوں کا موسم عزیزو یہ خار گلستاں ہیں شاہد ضرور آئے گا پھر گلابوں کا موسم فقط موسمی ہے یہ جوش جوانی کہ بارش میں ...

مزید پڑھیے

خار تو پھر بھی خار ہوتے ہیں

خار تو پھر بھی خار ہوتے ہیں گل بھی بے اعتبار ہوتے ہیں غم سے جو ہمکنار ہوتے ہیں بس وہی غم گسار ہوتے ہیں جن کے پیچھے نہ کوئی مطلب ہو رشتے وہ خوش گوار ہوتے ہیں دھوکا کھاتے ہیں بس وہی اکثر جو بہت ہوشیار ہوتے ہیں حاسدوں کے کرم ہی کافی تھی دوست کیوں برق بار ہوتے ہیں جن کی گھٹی ہی ...

مزید پڑھیے

دوا کرتے کرتے دعا کرتے کرتے

دوا کرتے کرتے دعا کرتے کرتے جیا ہوں امید شفا کرتے کرتے قضا آئے حمد و ثنا کرتے کرتے خدا سے دعائے عطا کرتے کرتے ترس آ گیا ہوگا منصف کو ہم پر بری کر گیا جو سزا کرتے کرتے ہماری طرف کس لیے اب ہیں مائل بدل کیوں گئے وہ جفا کرتے کرتے ہماری طرف کس لیے اب ہیں مائل بدل کیوں گئے وہ جفا کرتے ...

مزید پڑھیے

پھر اسے خواب میں دیکھا ہے خدا خیر کرے

پھر اسے خواب میں دیکھا ہے خدا خیر کرے وہ مرے ذہن پہ چھایا ہے خدا خیر کرے اس نے پھر پیار جتایا ہے خدا خیر کرے کوئی تو نیک ارادہ ہے خدا خیر کرے ہر گھڑی ایک دھماکا ہے خدا خیر کرے ہر نفس خون کا پیاسا ہے خدا خیر کرے یہ کسی کی بھی ہوئی ہے تو بتائے کوئی زندگی ایک چھلاوا ہے خدا خیر ...

مزید پڑھیے

زندگی میں بڑے خسارے ہیں

زندگی میں بڑے خسارے ہیں چین سے کس نے دن گزارے ہیں ساتھ رہ کے بھی نیارے نیارے ہیں ہم بھی کیا آسماں کے تارے ہیں بس ہمیں آفتوں کے مارے ہیں ورنہ یاروں کے وارے نیارے ہیں زندگی تیرے بل نہیں نکلے ہم اگر ہارے تجھ سے ہارے ہیں فرق دیر و حرم سے کیا لینا ایک دریا کے دو کنارے ہیں نیکیوں ہی ...

مزید پڑھیے

محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے

محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے اداؤں میں تکلف آ نہ جائے تری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ زبردستی اگر بدلا نہ جائے محبت راہ چلتے ٹوکتی ہے کسی دن زد میں تو بھی آ نہ جائے وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ ...

مزید پڑھیے

مسکراہٹیں سیکھیں قہر کی نگاہوں سے

مسکراہٹیں سیکھیں قہر کی نگاہوں سے داد سرکشی لے لی ہم نے کج کلاہوں سے کیا کہیں محبت کا راز کم نگاہوں سے ہم نے دل بنائے ہیں آنسوؤں سے آہوں سے اپنی معرفت کا ہم ایک دن سبق دیں گے دیکھتے چلے جاؤ اجنبی نگاہوں سے اس کے حق کا مجرم ہوں پھر بھی اس کی رحمت ہے خود بچا لیا مجھ کو مبتذل ...

مزید پڑھیے

لے لوں گا جان دے کے محبت جہاں ملے

لے لوں گا جان دے کے محبت جہاں ملے کچھ دن میں شاید اور یہ سودا گراں ملے اے کاروان عشق و وفا کے مسافرو کہنا مرا سلام بھی منزل جہاں ملے ہموار کر مزاج بہار و خزاں سے دل ممکن نہیں مزاج بہار و خزاں ملے یہ منزلت بھی حصہ دشمن میں آئے کیوں ہم سر نہ پھوڑ لیں جو ترا آستاں ملے پہلے ہی سے ...

مزید پڑھیے

ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور

ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور پھر ٹھہر گیا قافلۂ درد سنا ہے شاید کوئی رستے میں مری طرح گرا اور اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور اللہ ...

مزید پڑھیے

چھوٹے بڑے

چھوٹا سا ایک بیج اگر ہے تو کیا ہوا کتنا بڑا درخت ہے اس میں چھپا ہوا دھرتی میں ڈال دیتا ہے جب وقت پر کسان پھر دیکھنے کی ہوتی ہے اس بیج کی اٹھان سنسار جی رہا ہے اسی کام کاج سے کتنوں کے پیٹ بھرتے ہیں اس کے اناج سے چھوٹے سے تل میں آنکھ کے اتنی بڑائی ہے دریا ہوں یا پہاڑ ہوں سب کی سمائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2348 سے 6203