قومی زبان

گل بھی مانند خار ہیں اب تو

گل بھی مانند خار ہیں اب تو ننگ فصل بہار ہیں اب تو ہم وطن دل فگار ہیں اب تو سب کے سب شعلہ بار ہیں اب تو جن کے دم سے بہار آئی تھی وہ بھی آنکھوں میں خار ہیں اب تو جن پہ دار و مدار گلشن تھا وہ سیاست شعار ہیں اب تو کیا ابھی دیر ہے قیامت میں ہم بہت بے قرار ہیں اب تو ایک دو تین چار ہو تو ...

مزید پڑھیے

سب اصول زندگی بے کار ہو کے رہ گئے

سب اصول زندگی بے کار ہو کے رہ گئے ہم اسیر کاکل دل دار ہو کے رہ گئے حال دل نا قابل اظہار ہو کے رہ گیا ہم کسی کے نخروں سے بیزار ہو کے رہ گئے وہ جو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے تھے کبھی وقت کی رفتار سے لاچار ہو کے رہ گئے جانے والا چل بسا داغ جدائی دے گیا اور سب احباب شبنم بار ہو کے رہ ...

مزید پڑھیے

تمام عمر میسر بس ایک خانہ ہوا

تمام عمر میسر بس ایک خانہ ہوا میں اپنی ذات کے صندوق میں پرانا ہوا محاذ وقت سے اگلے پڑاؤ کی جانب میں رک گیا تو کوئی دوسرا روانہ ہوا نظر اٹھا کے پھلوں کی طرف نہیں دیکھا شجر سے ٹیک لگائے ہوئے زمانہ ہوا یہ کائنات بھی قد کی مناسبت سے تھی کہ اک پرند کو پتا بھی شامیانہ ہوا نسیمؔ اس ...

مزید پڑھیے

جہاں جہاں بھی ہوس کا یہ جانور جائے

جہاں جہاں بھی ہوس کا یہ جانور جائے دلوں سے مہر و محبت کی فصل چر جائے وہیں سے ہوں میں جہاں سے دکھائی دیتا ہوں وہیں تلک ہوں جہاں تک مری نظر جائے حدود ذات سے آگے خداؤں کی حد ہے میں سوچتا ہوں اگر ذہن کام کر جائے بھری پڑی ہے عفونت سے انچ انچ زمیں اس ایک پھول سے خوشبو کدھر کدھر ...

مزید پڑھیے

یہ بستی پیار کی نعمت سے خالی ہوتی جاتی ہے

یہ بستی پیار کی نعمت سے خالی ہوتی جاتی ہے کہ ہر حاتم کی صورت بھی سوالی ہوتی جاتی ہے کسی سے پوچھ لو تعبیر اپنے اپنے خوابوں کی دیار مصر میں پھر خشک سالی ہوتی جاتی ہے یہ کیسے رنگ اترے ہیں جنہیں دیکھا نہیں جاتا یہ کیسی صبح پھوٹی ہے جو کالی ہوتی جاتی ہے پرانے مقبروں میں بھی دراڑیں ...

مزید پڑھیے

میرا تن سر سے جدا کرتے ہی بے کل ہو گیا

میرا تن سر سے جدا کرتے ہی بے کل ہو گیا وہ ادھورا رہ گیا اور میں مکمل ہو گیا حسن کی تاویل میں بس اتنی تبدیلی ہوئی ٹاٹ کا ٹکڑا ترے شانوں پہ مخمل ہو گیا پہلے گہرے پانیوں میں اس کی بود و باش تھی اب ہوا کے دوش پر آیا تو بادل ہو گیا پھول کی اک ضرب سے آنسو نکل آئے مرے ایک ہلکی بات کا ...

مزید پڑھیے

دوست بن کر بھی کہیں گھات لگا سکتی ہے

دوست بن کر بھی کہیں گھات لگا سکتی ہے موت کا کیا ہے کسی روپ میں آ سکتی ہے ان مکانوں میں یہ دھڑکا سا لگا رہتا ہے اگلی بارش در و دیوار گرا سکتی ہے تیرا دن ہو کہ مری رات نہیں رک سکتے اپنے محور پہ زمیں خود کو گھما سکتی ہے ایسی ترتیب سے روشن ہیں تری محفل میں ایک ہی پھونک چراغوں کو ...

مزید پڑھیے

لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے

لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے چراغ آندھیوں میں جلاتے رہیں گے زمانہ ستم ہم پہ ڈھاتا رہے گا ہر اک غم پہ ہم مسکراتے رہیں گے سماں ہو خوشی کا یا غم کا ہو موسم ہم اپنا فسانہ سناتے رہیں گے رہیں گے رواں میری آنکھوں سے آنسو ستارے یوں ہی جھلملاتے رہیں گے نہ بدلے گی جب تک فضا گلستاں کی ہم ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سمت ہے چھایا سکوت کا منظر

ہر ایک سمت ہے چھایا سکوت کا منظر دھڑک رہا ہے مگر زلزلہ مرے اندر زمیں کا ظرف فلک کا وقار رکھتے ہیں زمیں نژاد سہی آسمان پر ہے نظر ڈرا نہ پائیں گے ہم کو یہ سرپھرے طوفاں کہ موج عزم تو جا کر رکے گی ساحل پر تجھے یہ ناز کہ مریخ تک تو جا پہنچا مگر نظر نہیں آتا ہے تجھ کو اپنا گھر یہ ...

مزید پڑھیے

وہ بھلا ہے تو وہ بھلا ہی سہی

وہ بھلا ہے تو وہ بھلا ہی سہی میں برا ہوں تو میں برا ہی سہی ساجد صاحب بقا ہوں میں خاک پا ہوں تو خاک پا ہی سہی والہانہ ہے ان سے پیار مجھے باؤلا ہوں تو باؤلا ہی سہی نا امیدی میں ہے امید ہمیں ان کا ہر وعدہ کھوکھلا ہی سہی دل کشی کا جواب کوئی نہیں زندگی چاہے بلبلہ ہی سہی اپنی صحبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2347 سے 6203