گل بھی مانند خار ہیں اب تو
گل بھی مانند خار ہیں اب تو ننگ فصل بہار ہیں اب تو ہم وطن دل فگار ہیں اب تو سب کے سب شعلہ بار ہیں اب تو جن کے دم سے بہار آئی تھی وہ بھی آنکھوں میں خار ہیں اب تو جن پہ دار و مدار گلشن تھا وہ سیاست شعار ہیں اب تو کیا ابھی دیر ہے قیامت میں ہم بہت بے قرار ہیں اب تو ایک دو تین چار ہو تو ...