قومی زبان

پیٹو بھائی

ایک ہیں اپنے پیٹو بھائی کھاتے ہیں دن رات ملائی ہر دم چرنا کام ہے ان کا پیٹو یوں ہی نام ہے ان کا ننھی سیما کو بہلا کر لے لیتے ہیں بسکٹ آ کر رو دیتی ہے بے بی روزی چھینتے ہیں جب اس کی ٹافی رنگ شرارت اک دن لائی بیٹھے بیٹھے شامت آئی کنڈی میں رکھی تھی مٹھائی امی نے کمرے میں چھپائی پیٹو ...

مزید پڑھیے

نگاہ و رخ پر ہے لکھی جاتی جو بات لب پر رکی ہوئی ہے

نگاہ و رخ پر ہے لکھی جاتی جو بات لب پر رکی ہوئی ہے مہک چھپے بھی تو کیسے دل میں کلی جو غم کی کھلی ہوئی ہے جو دل سے لپٹا ہے سانپ بن کر ڈرا رہا ہے بچا رہا ہے یہ ساری رونق اس اک تصور کے دم سے ہی تو لگی ہوئی ہے خیال اپنا کمال اپنا عروج اپنا زوال اپنا یہ کن بھلیوں میں ڈال رکھا ہے کیسی لیلا ...

مزید پڑھیے

جستجو

حقیقت کا تقاضا ہے ہو دل کو جستجو پہلے حصول مدعا کو چاہئے کچھ آرزو پہلے نگاہیں خود ہی آئیں گی چمن میں بہر نظارہ ترے گلشن کے پھولوں میں مگر ہو رنگ و بو پہلے اگر شیشہ میں صہبا ہے تو مے کش مل ہی جائیں گے مہیا میکدے میں چاہئے جام و سبو پہلے سما جائے گا سرمہ بن کے خلقت کی نگاہوں میں تو ...

مزید پڑھیے

تیری یاد

سحر و شام تجھے یاد کیا کرتے ہیں تیری ہی یاد سے دل شاد کیا کرتے ہیں حق تو یہ ہے کہ شب و روز تیری رحمت سے دل برباد کو آباد کیا کرتے ہیں تجھ کو منظور ہے آسائش خلقت یا رب تیرے بندے ستم ایجاد کیا کرتے ہیں بن کے پنچھی جو گرفتار بلا ہوتے ہیں وہ فقط شکوۂ بیداد کیا کرتے ہیں آگ لگ جائے مبادا ...

مزید پڑھیے

تمہارا نام زباں سے نکل گیا آخر

تمہارا نام زباں سے نکل گیا آخر زمانہ میرے گماں سے نکل گیا آخر سنبھال کر جسے رکھا ہوا تھا مدت سے وہ تیر تیری کماں سے نکل گیا آخر تمام اپنے سوال و جواب بھول گئے حساب سود و زیاں سے نکل گیا آخر ہر ایک شخص میں تجھ کو تلاش کرتا ہوا ہجوم نکتہ وراں سے نکل گیا آخر جو لازمی تھا ترے سامنے ...

مزید پڑھیے

تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا

تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا ایک محشر سا مرے دل میں اٹھائے رکھنا ایسا کرنا کہ مرے نام کو دل پر لکھ کر پردۂ ذہن کو توقیر دلائے رکھنا میں بھی رکھوں گا تمہیں سوچ کے شانوں پہ سوار تم بھی سینے سے مری آس لگائے رکھنا پھر اترنا ہے مجھے خواب کی گہرائی میں تم نگاہوں میں کوئی راہ ...

مزید پڑھیے

تیر جب اپنی کمانوں سے نکل جاتے ہیں

تیر جب اپنی کمانوں سے نکل جاتے ہیں کچھ پرندے بھی اڑانوں سے نکل جاتے ہیں جانے کس راہ پہ کچھ بھوک سے سہمے بچے رات کو اپنے مکانوں سے نکل جاتے ہیں ظرف کی بات نہ کر پھوٹ پڑیں تو لاوے خود پہاڑوں کے دہانوں سے نکل جاتے ہیں ہم بھی کیا لوگ ہیں اک گھر کو بنانے کے لیے کس قدر دور گھرانوں سے ...

مزید پڑھیے

روح میری الگ ہے جان الگ

روح میری الگ ہے جان الگ ذات کا ناتواں مکان الگ ہر طرف پھیلتی ہوئی کرنیں اک اندھیرے کا خاندان الگ ایک ذرہ ہوں اور کچھ بھی نہیں ہوں بہت کچھ ہے یہ گمان الگ قید ہیں آنکھ میں کئی سپنے اور ہے فکر کی اڑان الگ اک طرف شور خانۂ دل میں عقل رہتی ہے بے زبان الگ کر رہا ہے نصیب کی باتیں اور ...

مزید پڑھیے

ہم سفر یاد ہیں اس کے جو سفر ختم ہوا

ہم سفر یاد ہیں اس کے جو سفر ختم ہوا جانے کب کون سی سازش ہو یہ ڈر ختم ہوا بے سبب سب کو ہی سبقت کے جنوں نے مارا ایسے بکھرے ہیں کہ رشتوں کا اثر ختم ہوا اعتبار اٹھتے ہی یہ کیسا تغیر آیا دل کا ویران مکاں رہ گیا گھر ختم ہوا شاخ ہی شاخ کی دشمن تھی ثمر کیا دیتا پھولنے پھلنے سے پہلے ہی شجر ...

مزید پڑھیے

آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں

آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں جس کی قسمت میں جو گرداب ہیں تقسیم کریں تم مرے نام پہ جی لینا میں تم پر مر کر جینے مرنے کے جو آداب ہیں تقسیم کریں خشک آنکھوں میں جو مرجھا گئے ان کی کلیاں آس کے پھول جو شاداب ہیں تقسیم کریں وہ نگاہیں بھی جو نمناک تھیں وقت رخصت منتظر اور جو بے آب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2349 سے 6203