قومی زبان

بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے

بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے سو جو غفلت زیادہ تھی وہی غفلت زیادہ ہے ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہے انہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے نہ جانے کب کسی چلمن کا ہم نقصان کر بیٹھیں ہمیں چہرا کشائی کی ذرا رخصت زیادہ ہے کبھی میں خود زیادہ ہوں تن تنہا کی وحدت ...

مزید پڑھیے

وہ میرے ذہن پہ اتنا سوار ہو گیا تھا

وہ میرے ذہن پہ اتنا سوار ہو گیا تھا میں کم سنی میں جنوں کا شکار ہو گیا تھا کرے گا کون تری وسعتوں کا اندازہ جو ہم کنار ہوا بے کنار ہو گیا تھا تمام عمر پھر اپنی تلاش میں گزری میں اپنے آپ سے اک دن فرار ہو گیا تھا مجھے گنوا کے لیا دل نے سوجھ بوجھ سے کام فضول خرچ کفایت شعار ہو گیا ...

مزید پڑھیے

کہہ گیا تھا وہ کچھ اشارے سے

کہہ گیا تھا وہ کچھ اشارے سے بات سمجھائیں ہنستے تارے سے اس سے ملتے ہی آنکھ بھر آئی لہر اک آ لگی کنارے سے گالیاں اب وہ کیوں نہیں دیتے کیا خطا ہو گئی ہمارے سے کس کو جا کر بتاؤں میں یہ بات دن گزرتا نہیں گزارے سے بھول جاتے ہو نام تک میرا کیا توقع رکھوں تمہارے سے

مزید پڑھیے

چھوٹے بڑے برے بھلے دن رات کے لیے

چھوٹے بڑے برے بھلے دن رات کے لیے ہر شے ہے صرف صورت حالات کے لیے موجود ہیں اس آئینہ خانہ میں ہر طرف میرے ہی عکس میری ملاقات کے لیے جو بات سوچنے کی ہے کب سوچتا ہوں میں کب سوچتا ہے کوئی میری ذات کے لیے پھرتی ہیں دل میں صورتیں قرب و جوار کی آباد ہے یہ شہر مضافات کے لیے چھوٹے سے پیڑ ...

مزید پڑھیے

میں ایسا ذوق زیبائش بروئے کار لے آیا

میں ایسا ذوق زیبائش بروئے کار لے آیا کہ خود آرائی کی خاطر لباس دار لے آیا زمیں کی محوری گردش سے عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں گزرتا وقت سائے کو پس دیوار لے آیا مگر مجھ کو یہ احساس ندامت مار ڈالے گا پرائے پیڑ سے پھل توڑ کر دو چار لے آیا یہ سارے لوگ اس کے حق میں رائے دینے والے ہیں وہ اپنی ...

مزید پڑھیے

اتنا نہ گھوم رات کو پھولوں کی باس میں

اتنا نہ گھوم رات کو پھولوں کی باس میں سوئے پڑے ہیں چاروں طرف سانپ گھاس میں ہر سمت اس نے آتشی شیشے لگا دیے سڑکوں پہ لوگ آئے تھے کالے لباس میں گردش میں زندگی رہی افواہ کی طرح عمریں گزار دی گئیں خوف و ہراس میں اگلا نصاب نور بصیرت سے پڑھ لیا آنکھیں تو چھوڑ آئے تھے پہلی کلاس میں یہ ...

مزید پڑھیے

جہاں جہاں بھی ہوس کا یہ جانور جائے

جہاں جہاں بھی ہوس کا یہ جانور جائے دلوں سے مہر و محبت کی فصل چر جائے کھلے ہیں اونچی حویلی کے پالتو کتے فقیر راہ ذرا دیکھ بھال کر جائے وہیں سے ہوں میں جہاں سے دکھائی دیتا ہوں وہیں تلک ہوں جہاں تک مری نظر جائے ہے کوئی دیر سے اس پار منتظر میرا رکا ہوا ہوں کہ ندی ذرا اتر جائے وہ ...

مزید پڑھیے

جس وقت اس نے بخت ہمارے بنائے تھے

جس وقت اس نے بخت ہمارے بنائے تھے ہم نے ہتھیلیوں پہ ستارے بنائے تھے کچھ پنچھیوں نے گھونسلے پیڑوں کے جھنڈ میں اونچی جگہوں پہ خوف کے مارے بنائے تھے میں نے بس ایک نہر نکالی تھی ہاتھ سے دریا نے آپ اپنے کنارے بنائے تھے حسب مراد دست ہنر بولنے لگا گونگے نے چند ایسے اشارے بنائے ...

مزید پڑھیے

زندگی بس مسکرا کے رہ گئی

زندگی بس مسکرا کے رہ گئی کیوں ہمیں ناحق رجھا کے رہ گئی وقت نے اپنی روش بدلی نہیں آدمیت غل مچا کے رہ گئی زندگی گھبرا گئی حالات سے بے بسی اپنی جتا کے رہ گئی دل کی حسرت آج تک نکلی نہیں دل ہی دل میں گھٹ گھٹا کے رہ گئی حسن والوں کی جسارت کیا کہیں شرمساری سر جھکا کے رہ گئی مڑ کے وہ ہم ...

مزید پڑھیے

اف ری ناز و نیاز کی باتیں

اف ری ناز و نیاز کی باتیں باؤلے لوگ باؤلی باتیں اب کہاں ہیں وہ اپنوں سی باتیں اجنبی لوگ اجنبی باتیں مہکی مہکی وہ رات کی رانی شبنمی راتیں شبنمی باتیں وہ بھی کیا شخص ہے سبحان اللہ پھول سا چہرہ خار سی باتیں ٹوٹ جاتے ہیں ریشمی رشتے یاد آتی ہیں ریشمی باتیں ہائے وہ دودھ میں دھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2346 سے 6203