بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے
بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے سو جو غفلت زیادہ تھی وہی غفلت زیادہ ہے ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہے انہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے نہ جانے کب کسی چلمن کا ہم نقصان کر بیٹھیں ہمیں چہرا کشائی کی ذرا رخصت زیادہ ہے کبھی میں خود زیادہ ہوں تن تنہا کی وحدت ...