دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی
دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی خیر کسی طرح سے شرماؤ بھی آپ کے وعدوں کو ہمارا سلام دیکھ چکے خوب اجی جاؤ بھی ہم تو ابھی صلح پہ موجود ہیں فیصلہ یارو کوئی ٹھہراؤ بھی نقل کباب جگری کیجیے کھاؤ میرے سر کی قسم کھاؤ بھی
دیتے ہو بوسہ تو کہیں لاؤ بھی خیر کسی طرح سے شرماؤ بھی آپ کے وعدوں کو ہمارا سلام دیکھ چکے خوب اجی جاؤ بھی ہم تو ابھی صلح پہ موجود ہیں فیصلہ یارو کوئی ٹھہراؤ بھی نقل کباب جگری کیجیے کھاؤ میرے سر کی قسم کھاؤ بھی
کس برج میں فلک نے ستارے ملائے ہیں دست شب فراق میں سائے ہی سائے ہیں گلزار زندگی کے ہیں گلدان کے نہیں یہ پھول کار خانۂ قدرت سے آئے ہیں خستہ ہوئے تنے تو جڑیں پھوٹنے لگیں پیڑوں نے اپنے اپنے بدن پھر اگائے ہیں سامان بود و باش تھا جنگل سے شہر تک ہم اپنا بوجھ نفس کے گھوڑوں پہ لائے ...
موت آئے گھر سے دور بھی گر ناگہاں مجھے مٹی تری نصیب ہو ہندوستاں مجھے ناقوس سے ہے آتی صدائے اذاں مجھے کہنے دو جو بھی کہتے ہیں اہل جہاں مجھے منزل کی آرزو ہے نہ اب اس کی جستجو چھوڑا جنون شوق نے لا کر کہاں مجھے یہ دل کی دھڑکنیں ہیں کہ پردے میں روز و شب کوئی سنا رہا ہے مری داستاں ...
کیا جانے کیا تم نے سوچا کچھ تو آخر سوچا ہوگا ہم نے تو یہ سوچ لیا ہے جو بھی ہوگا اچھا ہوگا آوارہ سا پھرتا تھا جو ایک جگہ کب ٹھہرا ہوگا کیا جانے کس آنگن میں وہ ابر کا ٹکڑا برسا ہوگا ہو کے خفا پہلے تو اس نے رسم وفا کو توڑا ہوگا دل کے ہاتھوں بے بس ہو کر پھر مجھ کو خط لکھا ہوگا اپنے ...
خانۂ دل میں تیرا عکس بنا رکھا ہے ہم نے تصویر کو شیشے میں سجا رکھا ہے جس کا جی چاہے چلا آئے ہمارے گھر میں ہم نے اس واسطے دروازہ کھلا رکھا ہے شمع گل کر دو نہیں اس کی ضرورت ہم نے دل پر نور سے ایوان سجا رکھا ہے اس کے جلوؤں کو کیا دیر و حرم تک محدود اہل دنیا نے یہ کیا سوانگ رچا رکھا ...
تمہارے غم نے ہمیں اس قدر سنبھال دیا کسی نے کچھ بھی کہا ہم نے ہنس کے ٹال دیا مذاق عشق مشیت نے حسب حال دیا مجھے نگاہ عطا کی تمہیں جمال دیا جو آج وعدہ کیا کل پہ اس کو ٹال دیا یوں روز روز کی الجھن میں دل کو ڈال دیا تیرے جمال کو دیکھا تو یوں لگا جیسے مجاز میں ہی حقیقت نے خود کو ڈھال ...
سکون دل جو میسر ہو زندگی کے لئے بہت ہے اتنا بھی جینے کو آدمی کے لئے ہے ذرے ذرے کی تنویر دعوت شعری یہ کائنات ہے گویا کہ شاعری کے لئے قصور اپنا تھا دل کی لگی سمجھ بیٹھے دل اس نے صرف لگایا تھا دل لگی کے لئے خوشی کا اوروں کی بھی ہر نفس خیال رہے جئے بھی کیا جئے گر اپنی ہی خوشی کے ...
وہ جو محو تھے سر آئنہ پس آئنہ بھی تو دیکھتے کبھی روشنی میں وہ تیرگی کو چھپا ہوا بھی تو دیکھتے تو یہ جان لیتے کہ سچ ہے کیا یہ جو فرد جرم ہے سب غلط وہ جو پڑھ کے متن ہی رہ گئے کبھی حاشیہ بھی تو دیکھتے سر آب جو رہے تشنہ لب تو یہ ضبط غم کی ہے انتہا مرے حال پہ تھے جو نکتہ چیں مرا حوصلہ بھی ...
قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھر واں رہ پہ ہے جو زلف پریشاں ادھر ادھر جاتے ہیں جب وہ سوئے چمن سیر کے لیے ہوتے ہیں ساتھ عاشق نالاں ادھر ادھر ہیں لخت دل کہیں تو کہیں پارۂ جگر رہتے ہیں پیش چشم گلستاں ادھر ادھر ہنگامۂ جنوں سے جو دونوں ہوئے ہیں چاک دامن ادھر ادھر ہے گریباں ادھر ...
دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا خوب کیا آپ نے اچھا کیا آج حیا آنکھ کی کچھ اور ہے چاہنے والا کوئی پیدا کیا ہائے رے پیماں شکنی کے مزے جب میں گیا وعدۂ فردا کیا کچھ تو کسی نے انہیں سمجھا دیا ہم جو گئے آج تو پردہ کیا گو کہ نہ تھا میری طرف منہ مگر ترچھی نگاہوں سے وہ دیکھا کیا آہ کی تقصیر ...