لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری
لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری ابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاری کہا میں نے ٹھہرو تو بولے یہ ہنس کر کبھی پھر سنیں گے کہانی تمہاری نثار ان کے جائیں جو سچ جانے اس کو فسانہ ہمارا زبانی تمہاری بڑی خدمتیں کیں اب آزاد کر دو بہت دیکھ لی مہربانی تمہاری چھپاؤں نہ کس طرح سے جاں بدن میں مری ...