قومی زبان

لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری

لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاری ابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاری کہا میں نے ٹھہرو تو بولے یہ ہنس کر کبھی پھر سنیں گے کہانی تمہاری نثار ان کے جائیں جو سچ جانے اس کو فسانہ ہمارا زبانی تمہاری بڑی خدمتیں کیں اب آزاد کر دو بہت دیکھ لی مہربانی تمہاری چھپاؤں نہ کس طرح سے جاں بدن میں مری ...

مزید پڑھیے

باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے

باہم بلند و پست ہیں کیف شراب کے آنکھوں میں ہیں طلوع و غروب آفتاب کے پیتے ہیں سرخ و زرد پیالے شراب کے کیا کیا ہیں اوج‌ و پست میں رنگ آفتاب کے برسوں سے ڈھونڈھتا ہے مضامیں شراب کے گردوں الٹ رہا ہے ورق آفتاب کے ساقی انڈیل جام صبوحی سبو کی خیر مشتاق کب سے ہیں لب شب آفتاب کے اٹھے وہ ...

مزید پڑھیے

ملنے کے نہیں نشاں ہمارے

ملنے کے نہیں نشاں ہمارے کیا پوچھتے ہو مکاں ہمارے احساں سے نہیں بدی بھی خالی دشمن ہیں مہرباں ہمارے پچھتاؤ گے جان لے کے دیکھو ناحق ہیں یہ امتحاں ہمارے بے مثل ہیں لذت سخن میں سب اٹھ گئے ہم زباں ہمارے آزاد کی جستجو عبث ہے پاؤ گے پتے کہاں ہمارے اڑتی ہے خاک اس زمیں سے پڑتے ہیں قدم ...

مزید پڑھیے

وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گے

وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گے میں پشیماں ہوں تو کیا وہ نہ پشیماں ہوں گے آپ مر جاؤں گا تو آ کہ نہ آ او ظالم آج وہ دن ہے کہ مجھ پر مرے احساں ہوں گے غیر کی شکل بنیں گے کبھی خود ان کا شوق ہم بھی دیکھیں تو کہاں تک نہ وہ پرساں ہوں گے دل جو روٹھا تو منانے سے کہیں منتا ہے یہ ستم ...

مزید پڑھیے

برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے

برہم ہیں وہ غیر بے حیا سے مانگیں کچھ اور بھی خدا سے اچھا اچھا عدو سے ملیے جاؤ جاؤ جی بلا سے کیا حال کہیں دل و جگر کا ٹکڑے ٹکڑے ہے جا بہ جا سے ٹوٹے کانٹے تو زخم روئے آنسو ٹپکے خراش پا سے راحت طلبی سمجھ کے اے دل ایسے بے درد بے وفا سے مطلوب وہی کہ جس کی فریاد نکلے گا کام کیا دعا ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے

اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکے دل کی بھڑکی ہوئی بجھا نہ سکے نہ ہلی جب زباں نزاکت سے رہ گئے دیکھ کر بلا نہ سکے تھیں جو اس میں حیا کی کچھ باتیں شکوہ میرا وہ لب پہ لا نہ سکے کیا ہوئے تیرے حوصلے اے اشک حرف تقدیر کو مٹا نہ سکے تھا یہ خطرہ کہیں پسند نہ ہوں گالیاں بھی مجھے سنا نہ ...

مزید پڑھیے

شکایت سے غرض کیا مدعا کیا

شکایت سے غرض کیا مدعا کیا نہیں تو دوست دشمن کا گلا کیا نہ آیا نامہ بر گھبرا رہا ہوں نہیں معلوم کیا گزری ہوا کیا بہت اچھی نہایت خوب گزری اجی آفت زدوں کا پوچھنا کیا نہ دو مجھ کو مبارک باد بے سود بری تقدیر والوں کا بھلا کیا یہ کیوں چتون پھری کیوں آنکھ بدلی بھلا میں نے قصور ایسا ...

مزید پڑھیے

کسی صورت تو دل کو شاد کرنا

کسی صورت تو دل کو شاد کرنا ہمیں دشمن سمجھ کر یاد کرنا دعائیں دیں گے چھٹ کر قیدیٔ زلف جہاں تک ہو سکے آزاد کرنا کہیں وہ آفریں ایسا پڑے ہاتھ نہ مجھ پر رحم او جلاد کرنا مسیحائی دکھانا بعد مردن جو دل چاہے تو کچھ ارشاد کرنا اڑا دو خاک میری ٹھوکروں سے اگر منظور ہے برباد کرنا ادب ...

مزید پڑھیے

بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیں

بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیں کہ ہیں گلبرگ لیکن تر نہیں ہیں نصیب دشمناں ہاں کچھ تو گزرے کہ رخسارے ترے انور نہیں ہیں مبارک باد آزادی ہمیں کیا یہاں مدت سے بال و پر نہیں ہیں نہ پوچھو شمع سے تکلیف ہستی کہ شب بھر میں ہزاروں سر نہیں ہیں

مزید پڑھیے

ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہے

ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہے دل تو حاضر ہے مگر پژمردہ ہے تو ہی آتا ہے نہ آتی ہے قضا دیکھتے ہیں جس کو وہ آزردہ ہے جس طرح جی چاہے رکھیں میرا دل جانتے ہیں وہ کہ مال مردہ ہے منزل الفت میں رکھیں تو قدم رستم و سہراب کا کیا گردہ ہے کون سنتا ہے تمہاری اے نسیمؔ کس کو پاس خاطر افسردہ ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2344 سے 6203