قومی زبان

اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے

اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے تو کہاں ہے مجھے تنہا کر کے میں تو ارزاں تھا خدا کی مانند کون گزرا مرا سودا کر کے تیرگی ٹوٹ پڑی ہے مجھ پر میں پشیماں ہوں اجالا کر کے لے گیا چھین کے آنکھیں میری مجھ سے کیوں وعدۂ فردا کر کے لو ارادوں کی بڑھا دی شب نے دن گیا جب مجھے پسپا کر کے کاش یہ ...

مزید پڑھیے

انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں

انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں عیسیٰ نفس ہوں اور صلیبوں کے ساتھ ہوں پابند رنگ و نقش ہوں تصویر کی طرح میں بے حجاب اپنے حجابوں کے ساتھ ہوں اوراق آرزو پہ بہ عنوان جاں کنی میں بے نشاں سی چند لکیروں کے ساتھ ہوں شاید یہ انتظار کی لو فیصلہ کرے میں اپنے ساتھ ہوں کہ دریچوں کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا گئے دنوں کی رتوں کا زیاں ثواب ہوا گزر گیا تو پس موج بے کناری تھی ٹھہر گیا تو وہ دریا مجھے سراب ہوا سپردگی کے تقاضے کہاں کہاں سے پڑھوں ہنر کے باب میں پیکر ترا کتاب ہوا ہر آرزو مری آنکھوں کی روشنی ٹھہری چراغ سوچ میں گم ہیں یہ کیا عذاب ہوا کچھ ...

مزید پڑھیے

مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے

مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے جل بجھا اپنے ہی شعلوں میں بدن بھی اب کے خار و خس ہوں تو شرر خیزیاں دیکھوں پھر سے آنکھ لے آئی ہے اک ایسی کرن بھی اب کے ہم تو وہ پھول جو شاخوں پہ یہ سوچیں پہروں کیوں صبا بھول گئی اپنا چلن بھی اب کے منزلوں تک نظر آتا ہے شکستوں کا غبار ساتھ دیتی نہیں ...

مزید پڑھیے

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا ہم سبک ہو جائیں گے تجھ کو گراں ہو جائے گا جب بہار آ کر گزر جائے گی اے سرو بہار ایک رنگ اپنا بھی پیوند خزاں ہو جائے گا ساعت ترک تعلق بھی قریب آ ہی گئی کیا یہ اپنا سب تعلق رائیگاں ہو جائے گا یہ ہوا سارے چراغوں کو اڑا لے جائے گی رات ڈھلنے تک یہاں ...

مزید پڑھیے

درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا

درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا راہ میں ایسے نقوش کف پا بھی آئے میں نے دانستہ جنہیں گرد سفر جانا تھا وہم‌ و ادراک کے ہر موڑ پہ سوچا میں نے تو کہاں ہے مرے ہم راہ اگر جانا تھا آگہی زخم نظارہ نہ بنی تھی جب تک میں نے ہر شخص کو محبوب نظر جانا ...

مزید پڑھیے

ایک غیر اہم شام کا تذکرہ

تم سے بچھڑ کے زیست میں غم کا نزول رہ گیا بجھ گیا رنگ شاعری حرف فضول رہ گیا میرے لئے تو ہر نفس دکھ کا حصول رہ گیا دل کا جو اک گلاب تھا بن کے وہ دھول رہ گیا سرو و سمن چلے گئے صرف ببول رہ گیا شام کی زلف میں سجا یاد کا پھول رہ گیا مجھ کو اکیلا دیکھ کر چاند ملول رہ گیا

مزید پڑھیے

تقدیر

یہاں ہر ایک کی قسمت میں لکھا ہے مسلسل دائروں میں گھومتے رہنا سفر سارے سفر یوں ہی کٹے ہیں ہماری زندگی بھی ایک ہی مرکز کے چکر کاٹتے گزری وہ مرکز صرف تھوڑی سی محبت اور عزت اور اک نان جویں کی آرزو ہے کبھی جو مل نہ پائے ایک ایسے ہم سفر کی جستجو ہے میں برسوں سے کسی آندھی کے جھکڑ کی طرح اس ...

مزید پڑھیے

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت بچھڑنے ...

مزید پڑھیے

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے جو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہے مرے موسموں کے بھی طور تھے مرے برگ و بار ہی اور تھے مگر اب روش ہے الگ کوئی مگر اب ہوا کوئی اور ہے یہی شہر شہر قرار ہے تو دل شکستہ کی خیر ہو مری آس ہے کسی اور سے مجھے پوچھتا کوئی اور ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2323 سے 6203