قومی زبان

سامنے آنکھوں کے رقصاں تھا تماشا دوسرا

سامنے آنکھوں کے رقصاں تھا تماشا دوسرا اور منظر میں نے دنیا کو دکھایا دوسرا لمحۂ فرصت ملے تو غور کرنا چاہئے بام و در کس کے چمن میں کون آیا دوسرا رقص آسیب فنا جاری یہاں جب سے ہوا ڈھونڈھتی ہیں اب ہوائیں بھی ٹھکانہ دوسرا خود شناسی کے مراحل طے نہ ہو پائے اگر میں بھی ہو جاؤں گا شاید ...

مزید پڑھیے

دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے خود کو سائے سائے رکھنا کتنا مشکل ہے ظاہر میں جو رستہ سیدھا لگتا ہو اس پر اپنے پیر جمائے رکھنا کتنا مشکل ہے آوازوں کی بھیڑ میں اتنے شور شرابے میں اپنی بھی اک رائے رکھنا کتنا مشکل ہے ہم سے پوچھو ہم دل کو سمجھایا کرتے تھے وحشی کو سمجھائے رکھنا ...

مزید پڑھیے

ایک ہے پھر بھی ہے خدا سب کا

ایک ہے پھر بھی ہے خدا سب کا اس کا اس کا مرا ترا سب کا حسن مستور کو عیاں کر دے ایک ہو جائے مدعا سب کا جرم دل کی سزا ملی مجھ کو میں نے پایا لیا دیا سب کا نزع میں دے گئے جواب حواس اعتبار آج اٹھ گیا سب کا ایک بیگانہ خو کو دل دے کر میں گناہ گار ہو گیا سب کا میں کسی کا نہیں سوا جس ...

مزید پڑھیے

زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں

زندگی کو نا مرادی سے کوئی شکوہ نہیں اب اگر پتھر سے ٹکراؤں تو سر پھٹتا نہیں پی رہی ہے قطرہ قطرہ میرے خوابوں کا لہو میں ہوں دنیا کے لیے میرے لیے دنیا نہیں مٹ چکے ہیں دل سے یوں حالات کے دھندلے نقوش جس طرح گزرا ہوا لمحہ کبھی آتا نہیں بھوک کھیتوں میں کھڑی ہے جیب میں مہنگائی بند شہر ...

مزید پڑھیے

آتشیں سیلاب میں جب روح ڈالی جائے گی

آتشیں سیلاب میں جب روح ڈالی جائے گی تشنگی صدیوں کی اشکوں سے بجھا لی جائے گی ٹوٹتی دیوار کا سایہ بدن کی آبرو جانے کب میرے یقیں کی خوش خیالی جائے گی تو نے بھی جھٹلا دیا حرف تفکر کا وجود اب مری آواز کس جھولی میں ڈالی جائے گی اضطراب جاں حصار سنگ باری تنگ کر جسم کی تہذیب زخموں سے ...

مزید پڑھیے

پوچھا میرا نام جہاں تنہائی نے

پوچھا میرا نام جہاں تنہائی نے چھایا لکھ دی چہرے پہ گہرائی نے اس دن سے کپڑوں کا احساں ہے تن پر مجھے چھوا تھا جس دن بوڑھی دائی نے مٹی چھو کر ہرا بھرا پودا نکلا پربت کو بھی آنکھ دکھائی رائی نے لوگوں نے کیوں اس کو میری ذات کہا چہرے پر جو نام لکھا رسوائی نے بیوی بچے طعنے شکوے ...

مزید پڑھیے

کوئی شاداب و حسیں شہر کا منظر دیکھو

کوئی شاداب و حسیں شہر کا منظر دیکھو جھانک کر روزن احساس سے باہر دیکھو میری آواز مرا جسم مرا چہرہ ہے ہو جو ممکن تو مجھے ہاتھ لگا کر دیکھو عمر بھر اپنا تعاقب کیا ہم نے در در اور اس عکس کا اصرار تھا پیکر دیکھو ایک سائے کی طرح ساتھ ہے بچوں کا ہجوم دل ہے شیشہ تو ہر اک ہاتھ میں پتھر ...

مزید پڑھیے

بصیرت سے ابھی محروم ہیں سب

بصیرت سے ابھی محروم ہیں سب مناظر شہر کے معصوم ہیں سب کوئی ملتا نہیں ہنس کر کسی سے نہ جانے کس لئے مغموم ہیں سب گرہ کھولو نہ اپنی گمرہی کی ہمیں یہ راستے معلوم ہیں سب کہاں تک وسعتیں ٹانکوں زمیں پر نشان آرزو معدوم ہیں سب جنہیں روشن دھندلکے کہہ رہے ہو ہمارے عہد کا مقسوم ہیں ...

مزید پڑھیے

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا گزرتے لمحوں سے تقسیم ذات مت کرنا بچا کر تیز ہوا میں بکھرنا پڑتا ہے انا کو نظر غم حادثات مت کرنا نہ جانے کون کہاں کیا سوال کر بیٹھے غبار راہ گزر اپنے ساتھ مت کرنا سمیٹنا نہ سر راہ خواب کی کرچیں لہو لہان کبھی اپنے ہاتھ مت کرنا نہیں گناہ کسی شے ...

مزید پڑھیے

قدم قدم آسماں بھی مثل زمیں ہے مجھ کو

قدم قدم آسماں بھی مثل زمیں ہے مجھ کو یہ کائنات نگاہ بیت یقیں ہے مجھ کو لباس بن کر جو روز و شب کے بدن پہ جاگا وہ زندگی کا وجود ہی دل نشیں ہے مجھ کو نگاہ پھیرے جو خود نمائی میرے یقیں سے تو پھر بتاؤں حیات کتنی حسیں ہے مجھ کو مجھے خبر ہے کہ میری قسمت میں تو لکھا ہے کوئی گمان غلط بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2316 سے 6203