قومی زبان

آپ ہی اپنا سفر دشوار تر میں نے کیا

آپ ہی اپنا سفر دشوار تر میں نے کیا کیوں ملال فرقت دیوار و در میں نے کیا میرے قد کو ناپنا ہے تو ذرا اس پر نظر چوٹیاں اونچی تھیں کتنی جن کو سر میں نے کیا چل دیا منزل کی جانب کارواں میرے بغیر اپنے ہی شوق سفر کو ہم سفر میں نے کیا منزلیں دیتی نہ تھیں پہلے مجھے اپنا سراغ پھر جنوں میں ...

مزید پڑھیے

جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی

جب خبر ہی نہ کوئی موسم گل کی آئی کاغذی پھول پہ کچھ سوچ کے تتلی آئی سبز پتوں نے بھی شاخوں سے بغاوت کر دی آج اس شہر میں کس زور کی آندھی آئی اب یہ بستی ہوئی دیواروں کی کثرت کا شکار اب یہاں رہنے میں بے طرح خرابی آئی قہقہہ شب نے لگایا ہے بڑے طنز کے ساتھ صبح جب اپنی رہائی پہ بھی روتی ...

مزید پڑھیے

بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے

بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے اور بادل ہے کہ دریا پہ برس جاتا ہے آتشیں دھوپ سے ملتی ہے کبھی جس کو نمو وہی پودا کبھی بارش سے جھلس جاتا ہے راہ تشکیل وہ ارباب وفا نے کی تھی اب جہاں قافلۂ اہل ہوس جاتا ہے ہو چکی بوئے وفا شہر سے رخصت کب کی کوئی دن ہے کہ پھلوں میں سے بھی رس جاتا ...

مزید پڑھیے

میں حجاب گماں تو حجاب یقیں

میں حجاب گماں تو حجاب یقیں لکھ مری روح پر اضطراب یقیں جب مقدر میں بے نور تعبیر تھی کیوں دکھائے اجالوں نے خواب یقیں اپنے ہونے کا احساس بھی وہم سا کائنات تفکر سراب یقیں جسم سے روح تک آگہی کا سفر اور کچھ بھی نہیں انقلاب یقیں حرف تا حرف سب نفس بے نور ہیں آج دیمک زدہ ہے کتاب ...

مزید پڑھیے

آرزو سلگتی ہے ہو کے مس ہواؤں سے

آرزو سلگتی ہے ہو کے مس ہواؤں سے آگ سی برستی ہے ساونی گھٹاؤں سے بے بسیٔ آدم کا غم تو خیر سب کو ہے کون بھیک مانگے گا رحم کے خداؤں سے نا مراد جینا تھا نا مراد جیتے ہیں کیا گلہ کرے کوئی اپنے آشناؤں سے گلستاں کہ زخم دل کہکشاں کہ اشک غم جی لرزنے لگتا ہے اب حسیں فضاؤں سے حادثوں کی بستی ...

مزید پڑھیے

میں ایک ٹوٹی ہوئی ذات لے کے آیا ہوں

میں ایک ٹوٹی ہوئی ذات لے کے آیا ہوں بدن پہ تازہ سوالات لے کے آیا ہوں جہاں سے ملتی ہے ہر شخص کو متاع حیات میں اس جگہ سے بھی خیرات لے کے آیا ہوں ٹھہر سکوں تو ٹھہر جاؤں چل سکوں تو چلوں عجب شکستہ سے حالات لے کے آیا ہوں بلندیاں بھی مرا جسم پستیاں بھی بدن نہ جانے کیسے مقامات لے کے آیا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی وادیوں میں دلوں کو پھرائے ہے

خوابوں کی وادیوں میں دلوں کو پھرائے ہے دریا میں جب بھی لہر کوئی سر اٹھائے ہے نس نس میں رچ گیا ہے تکلم کا بانکپن آنکھوں کی خامشی بھی مجھے گدگدائے ہے رشتوں کی دھوپ شام ہوئی اور ڈھل گئی اب اس سے کیا گلہ وہ اگر بھول جائے ہے دروازے کھل گئے ہیں بہت تیز ہے ہوا تنکا سمجھ کے کوئی مجھے ...

مزید پڑھیے

بہ نام امن و اماں کون مارا جائے گا

بہ نام امن و اماں کون مارا جائے گا نہ جانے آج یہاں کون مارا جائے گا لیے ہوئے ہیں سبھی اپنا سر ہتھیلی پر کسے خبر ہے کہاں کون مارا جائے گا عجیب معرکہ برپا ہے، کچھ خبر ہی نہیں کسے ملے گی اماں کون مارا جائے گا نماز پڑھنے کی مہلت ملے، ملے نہ ملے! نہ جانے وقت اذاں کون مارا جائے گا جو ...

مزید پڑھیے

وہ ایک لمحہ کہ مشکل سے کٹنے والا تھا

وہ ایک لمحہ کہ مشکل سے کٹنے والا تھا میں تنگ آ کے زمیں میں سمٹنے والا تھا مرا وجود مزاحم تھا چاروں جانب سے اسی لیے تو میں رستے سے ہٹنے والا تھا میں تخت عشق پہ فائز تھا جانتا تھا کہاں کہ ایک دن مرا تختہ الٹنے والا تھا جو بات کی تھی ہوا میں بکھرنے والی تھی جو خط لکھا تھا وہ پرزوں ...

مزید پڑھیے

قبائے جاں پرانی ہو گئی کیا

قبائے جاں پرانی ہو گئی کیا حقیقت بھی کہانی ہو گئی کیا فسردہ پھر ہے اس بستی کا موسم کہیں پھر ناگہانی ہو گئی کیا دیے اب شہر میں روشن نہیں ہیں ہوا کی حکمرانی ہو گئی کیا روابط دھوپ سے ہیں اب تمہارے بہت بے سائبانی ہو گئی کیا نسیمؔ اس شخص سے محروم ہو کر تری جادو بیانی ہو گئی کیا

مزید پڑھیے
صفحہ 2315 سے 6203