جواب شکوہ
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے گلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہے توپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہے بنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہے اتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مرا کر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرا یہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئی ساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئی سالیاں کہنے ...