قومی زبان

یہاں تعین قدر حیات کیا کرتے

یہاں تعین قدر حیات کیا کرتے کہ راستے ہی میں منزل کی بات کیا کرتے قسم تو کھائی تھی منزل پہ جا کے دم لیں گے پکڑ کے پاؤں مرا حادثات کیا کرتے تھے کان بند تو آنکھوں کی گم تھی بینائی صدائیں دے کے بھلا واقعات کیا کرتے ہمیں تو فکر تھی واعظ کی رستگاری کی ہم اپنے حق میں دعائے نجات کیا ...

مزید پڑھیے

خود کو تنہائی میں غیروں کی نظر سے دیکھو

خود کو تنہائی میں غیروں کی نظر سے دیکھو اپنا گھر دور بھی ہو کر کبھی گھر سے دیکھو ماند پڑ جائیں گے اک روز یہ چہرے کے نقوش آئنہ دیکھو تو عبرت کی نظر سے دیکھو اچھی نظروں کا تو ہوتا ہے اثر بھی اچھا عیب دیکھو جو کسی کا تو ہنر سے دیکھو کتنی کاوش سے جلا دے کے سنوارا ہوگا آئنے کو نگۂ ...

مزید پڑھیے

اپنا سر اپنی ہتھیلی پہ سنبھالے نکلے

اپنا سر اپنی ہتھیلی پہ سنبھالے نکلے زندگی یوں بھی ترے چاہنے والے نکلے مشعلیں تند ہواؤں میں چلے ہیں لے کر تیرے عشاق زمانے سے نرالے نکلے ساتھ چھوڑا نہ رہ شوق میں آخر دم تک کتنے دم ساز مرے پاؤں کے چھالے نکلے تیرگی غم کی بڑھی حد سے تو آنسو بن کر دل کے روزن سے امیدوں کے اجالے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے برستے اشکوں کی برسات پہ رونا آتا ہے

آنکھوں سے برستے اشکوں کی برسات پہ رونا آتا ہے نادانیٔ الفت کر بیٹھے اس بات پہ رونا آتا ہے ہر سانس ہے اک تلوار بنی ہر نفس ہے غم کا پیمانہ کرتے ہیں محبت جو ان کو کانٹوں پہ بھی سونا آتا ہے اب دل کو ہے سمجھانا مشکل جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا کیا بات بنے گی ہنسنے سے ہنستے ہیں تو رونا آتا ...

مزید پڑھیے

ان کے رخ پر نکھار کا عالم

ان کے رخ پر نکھار کا عالم گلستاں پر بہار کا عالم مست آنکھوں میں شبنمی آنسو گوہر آبدار کا عالم ان کے آنے پہ ان کے جانے پر دل بے اختیار کا عالم رقص کرتے ہیں کتنے پیمانے اس نظر میں خمار کا عالم وائے حسرت کہ تیرے ہوتے بھی تیرے ہی انتظار کا عالم روٹھ جانا ترا لگاوٹ سے بے رخی میں ...

مزید پڑھیے

پاس آ کر چلا گیا کوئی

پاس آ کر چلا گیا کوئی ہنستے ہنستے رلا گیا کوئی دل کی دنیا میں آ گیا کوئی درد بن کر سما گیا کوئی یوں بہار آئی اور چلی بھی گئی جیسے آ کر چلا گیا کوئی درد الفت سے آشنا کر کے مجھ سے آنکھیں چرا گیا کوئی پھر نظر میں بہار رقصاں ہے پھر تصور پہ چھا گیا کوئی ہائے رے میری نیم ...

مزید پڑھیے

کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں

کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں ہوئیں کچھ اور نوکیلی ہوائیں سنہری دھوپ اوڑھے ناچتی ہیں مرے آنگن میں چمکیلی ہوائیں مری چنری سجاتی ہیں دھنک سے گلابی کاسنی نیلی ہوائیں عجب ہے پھولتی سرسوں کا جادو ہرے رستے چلیں پیلی ہوائیں شمالی کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں دسمبر کی یہ برفیلی ...

مزید پڑھیے

پتھر کی زنجیر

کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں چیخوں کا یہ ساز شاہی در پر کیا اپناؤں فریادی انداز جنبش کا احساس نہ کوئی مدھم سی آواز ٹھہرے لمحے کے قصے میں آخر نہ آغاز شورش گر آغاز کرے تو منصف کرے سوال پوچھے تو میں کھولوں سارے ظالم شب کے راز راز کھلیں تو شاید اپنی کھل جائے تقدیر لیکن بے حس عادل گھر ...

مزید پڑھیے

بے نور کائنات میں اک کانچ کا چراغ

بے نور کائنات میں اک کانچ کا چراغ کافی ہے شش جہات میں اک کانچ کا چراغ بجھتا ہے ٹوٹتا ہے کہ جلتا ہے راہ میں آندھی ہے اور ہاتھ میں اک کانچ کا چراغ تیری نظر سے جاگی ہوئی لو کے فیض سے روشن ہے میری ذات میں اک کانچ کا چراغ کٹتی ہے سخت راہ کی خاموش تیرگی جلتا ہے تیری بات میں اک کانچ کا ...

مزید پڑھیے

پاسورڈ

محبت کے نگر میں سرخ پھولوں سے مہکتے سبز موسم کی نویلی خواہشوں میں بھیگتے سرشار جذبوں سے نکلتی آبشاروں میں گھری وادی کے اندر داخلے کے واسطے در کھولنے کا اسم اعظم ہے وہی اک نام تیرا نام تیرا نام

مزید پڑھیے
صفحہ 2274 سے 6203