نہ نوازشوں کی ہے آرزو نہ تری جفا کا ملال ہے
نہ نوازشوں کی ہے آرزو نہ تری جفا کا ملال ہے تو نظر سے اپنی گرا نہ دے یہی ایک دل میں خیال ہے تجھے جان مہر و وفا کہیں تجھے عکس شان خدا کہیں تجھے کیا سے کیا ہے بنا دیا یہ مری نظر کا کمال ہے ہے اسی سے روح میں تازگی یہی قلب و جاں کی ہے روشنی تو خدا را ترک ستم نہ کر مری زندگی کا سوال ...