قومی زبان

نہ نوازشوں کی ہے آرزو نہ تری جفا کا ملال ہے

نہ نوازشوں کی ہے آرزو نہ تری جفا کا ملال ہے تو نظر سے اپنی گرا نہ دے یہی ایک دل میں خیال ہے تجھے جان مہر و وفا کہیں تجھے عکس شان خدا کہیں تجھے کیا سے کیا ہے بنا دیا یہ مری نظر کا کمال ہے ہے اسی سے روح میں تازگی یہی قلب و جاں کی ہے روشنی تو خدا را ترک ستم نہ کر مری زندگی کا سوال ...

مزید پڑھیے

شور محشر اٹھا ہر سمت سے مے خانے میں

شور محشر اٹھا ہر سمت سے مے خانے میں جانے کیا ڈال دیا ساقی نے پیمانے میں محفل حسن میں شوق دل زاہد مت پوچھ گھول کر توبہ کو پی جاتے ہیں پیمانے میں مل گیا مجھ کو پری خانۂ دل میں آخر جس کو ڈھونڈا تھا بہت کعبے میں بت خانے میں اٹھ گئے رند بلا نوش صنم خانے سے خاک اڑتی سی نظر آتی ہے مے ...

مزید پڑھیے

علاج کوئی جہاں کا نہ سازگار آیا

علاج کوئی جہاں کا نہ سازگار آیا کسی طرح بھی نہ دل کو مرے قرار آیا پیام موت کا لے کر خیال یار آیا اجل کی گرد میں ہی زیست کو قرار آیا نگاہ لطف کے طالب ہیں جو وہ ہیں کم ظرف ہمیں تو الٹا جفاؤں پہ تیری پیار آیا یہ کس کی یاد سے روشن ہوئی میرؔ دنیا یہ کس کا نام مرے لب پہ بار بار آیا خوشی ...

مزید پڑھیے

جہاں تک یاد یار آتی رہے گی

جہاں تک یاد یار آتی رہے گی فسانے غم کے دہراتی رہے گی لہو دل کا نہ ہوگا ختم جب تک محبت زندگی پاتی رہے گی بھلائے گا زمانہ مجھ کو جتنا مری ہر بات یاد آتی رہے گی بجاتا چل دوانے ساز دل کا تمنا ہر قدم گاتی رہے گی سنوارے گا تو جتنا زلف ہستی یہ ناگن اتنا بل کھاتی رہے گی جہاں میں موت سے ...

مزید پڑھیے

الجھے تو سب نشیب و فراز حیات میں (ردیف .. ے)

الجھے تو سب نشیب و فراز حیات میں ہم تھے کہ ان کی زلفوں کے خم دیکھتے رہے جب گھر جلا تھا میرا وہ منظر عجیب تھا دیکھا نہیں جو تم نے وہ ہم دیکھتے رہے وہ صاحب قلم نہ وہ اب صاحبان سیف کیا ہو گئے ہیں سیف و قلم دیکھتے رہے ہم تشنہ کام جام تہی لے کے ہاتھ میں ساقی کا مے کدہ میں بھرم دیکھتے ...

مزید پڑھیے

نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا

نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا ہمیں سے یہ تماشہ ہے نہ ہم ہوتے تو کیا ہوتا نہ ایسی منزلیں ہوتیں نہ ایسا راستہ ہوتا سنبھل کر ہم ذرا چلتے تو عالم زیر پا ہوتا گھٹا چھاتی بہار آتی تمہارا تذکرہ ہوتا پھر اس کے بعد گل کھلتے کہ زخم دل ہرا ہوتا زمانے کو تو بس مشق ستم سے لطف ...

مزید پڑھیے

ٹھوکریں کھائیے پتھر بھی اٹھاتے چلئے

ٹھوکریں کھائیے پتھر بھی اٹھاتے چلئے آنے والوں کے لیے راہ بناتے چلئے اپنا جو فرض ہے وہ فرض نبھاتے چلئے غم ہو جس کا بھی اسے اپنا بناتے چلئے کل تو آئے گا مگر آج نہ آئے گا کبھی خواب غفلت میں جو ہیں ان کو جگاتے چلئے عزم ہے دل میں تو منزل بھی کوئی دور نہیں سامنے آئے جو دیوار گراتے ...

مزید پڑھیے

گھر سے برقعہ جو الٹ وہ مہ تاباں نکلا

گھر سے برقعہ جو الٹ وہ مہ تاباں نکلا چونک اٹھی خلق کہ ایں مہر درخشاں نکلا مہ کو اور تجھ کو جو میزان خرد میں تولا اس سے تو حسن میں اے یار دو چنداں نکلا رہ گئے ہوش و حواس و خرد و طاقت سب یوں ترے کوچے سے میں بے سر و ساماں نکلا یاں تلک تیر مژہ کھائے ہیں میں نے اس کے جائے سبزہ مرے مرقد ...

مزید پڑھیے

شکست و ریخت کی حد سے گزر گیا ہوں میں

شکست و ریخت کی حد سے گزر گیا ہوں میں سمیٹ لے کوئی آ کر بکھر گیا ہوں میں کوئی صدا کوئی ٹھوکر جگا سکی نہ مجھے یہ بے حسی کا فسوں ہے کہ مر گیا ہوں میں زمانہ چشم حقارت سے دیکھتا ہے مجھے تری نگاہ سے شاید اتر گیا ہوں میں کسی بھی سمت سے ملتا نہیں سراغ کوئی پتہ نہیں کہ کہاں ہوں کدھر گیا ...

مزید پڑھیے

شکست خوردہ انا کے غلام سب ہی تھے

شکست خوردہ انا کے غلام سب ہی تھے صفوں میں ہوتے کھڑے کیوں امام سب ہی تھے ہوس کے گیسوئے پیچاں سے کوئی بچ نہ سکا فقیر ہو کہ غنی زیر دام سب ہی تھے پڑا جو رن تو سپر سونپ دی غنیموں کو گھروں میں اپنے مگر بے نیام سب ہی تھے کھلا ہے راز یہ اہل جنوں کی محفل میں فسانہ ہائے خرد ناتمام سب ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2273 سے 6203