قومی زبان

نصیحت سے میری یہ سو کوس بھاگے

نصیحت سے میری یہ سو کوس بھاگے تلنگوں کی حق میں جیسے بھوتیا ہے میں بیٹھوں زمیں پر یہ بیٹھے سماں پر کجا تخت شاہی کجا بوریا ہے کریں جا بہ جا لوگ پر کا کبوتر ہر اک بات کا مچ رہا توتیا ہے زمانے کا یہ حال اور دل کا یہ حال کہو کس طرح رہتی شرم اور حیا ہے بھنور بیچ غم کے میں ڈالوں اور ...

مزید پڑھیے

دور جو بہہ رہا تھا دریا سا

دور جو بہہ رہا تھا دریا سا پاس آ کر لگا وہ صحرا سا حوصلے کی ہے بات آندھی میں جل رہا ہے چراغ ننھا سا اس کی تعبیر تلخ ہے کتنی خواب دیکھا جو ہم نے میٹھا سا اجنبیت کی دھند سے نکلوں کوئی آئے نظر جو اپنا سا تھا چمکنا مگر مری قسمت گر گیا ٹوٹ کر ستارہ سا جل رہے ہیں چراغ یادوں کے یہ جو ...

مزید پڑھیے

ہر قدم کھائے گا ٹھوکر نہ دکھائی دے گا

ہر قدم کھائے گا ٹھوکر نہ دکھائی دے گا آنکھ ہو بند تو پتھر نہ دکھائی دے گا ڈھونڈھتا کیا ہے کوئی گھر نہ دکھائی دے گا شہر دیوار کا ہے در نہ دکھائی دے گا قافلہ شام کا گزرا ہے یہاں سے ہو کر گرد ہی گرد ہے منظر نہ دکھائی دے گا دیکھنا ہے تو اترنا ہی پڑے گا دل میں دور سے غم کا سمندر نہ ...

مزید پڑھیے

بھلا کیوں فیصلہ وہ بھی اسی دوران لے بیٹھا

بھلا کیوں فیصلہ وہ بھی اسی دوران لے بیٹھا سمجھ میں اب اسے آیا کہ کیا نقصان لے بیٹھا اسے لگتا تھا کچھ بھی وہ کسی کے ساتھ کر دے گا مگر کتنا بڑا وہ شخص ہے نقصان لے بیٹھا اگر ہمت تمہیں ہے تو اکھاڑے میں لڑو جا کر کسی لاچار کو تو مار اپنی شان لے بیٹھا اگر پتھر ترا دل ہے تو سن لے غور سے ...

مزید پڑھیے

یار کا وصل شبا شب نہ ہوا تھا سو ہوا

یار کا وصل شبا شب نہ ہوا تھا سو ہوا ساغر عشق لبا لب نہ ہوا تھا سو ہوا لے چکا دل کو وہ مجھ ہاتھ سے تب میں نے کہا اس قدر تیرا مطالب نہ ہوا تھا سو ہوا جور اور ظلم سے دنیا میں یہ خوباں کا اسم بے وفائی کا ملقب نہ ہوا تھا سو ہوا کرنا تسخیر ہر اک دل کو دو اک باتوں میں اس طرح کا بھی عجائب نہ ...

مزید پڑھیے

جو بات منع کی ہے اسے کہیے کیوں

جو بات منع کی ہے اسے کہیے کیوں جو شے کہ حرام ہے گی اسے کھیّے کیوں کھوٹا ہو اگر دام ہی اپنا یارو صراف کو پھر عیب عبث لیّے کیوں خطرہ ہے صریح جی کا سمجھ دیکھ تو جی میں جو راہ کہ مرتے ہوں ادھر جیّے کیوں جس بستی میں انصاف کا کہیں نام نہ ہووے اس بستی میں پھر فعل عبث رہیے کیوں بات اپنی ...

مزید پڑھیے

ذرا کیجیے غور حضرت سلامت

ذرا کیجیے غور حضرت سلامت یہ کیا سیکھا ہے طور حضرت سلامت مناسب نہیں ہم غریبوں کے اوپر کرو اس قدر جور حضرت سلامت تمہیں چھوڑ کر اب کہیں درد کس سے ہے کوئی دوسرا اور حضرت سلامت نہیں جانتے تم سوا ہم کسی کو ہمارے ہو سرمور حضرت سلامت ہر اک دانے میں دل پڑے دیکھتا ہوں زہے پہنچے بلور ...

مزید پڑھیے

واجبی بات کہیں ذرا کہئے

واجبی بات کہیں ذرا کہئے بری لگتی ہے سب کو کیا کہئے مجھ کو اک یہ بڑی سی حیرت ہے برے کو کس طرح بھلا کہئے نیکی کا پھل بدی لگا ہونے اس زمانے کا کیا گلہ کہئے چرخ ظالم نے سب کو ڈالا پیس اس کو تحقیق آسیا کہئے اور ہی احوال دیکھتا ہوں میں کس کے آگے یہ ماجرا کہئے جا بہ جا چھوٹیں جھوٹ کے ...

مزید پڑھیے

دل دار ہوا ناخوش اب دل کا خدا حافظ

دل دار ہوا ناخوش اب دل کا خدا حافظ نظروں میں لگا لڑنے بسمل کا خدا حافظ خنجر سے مژہ کے یہ سب سینہ کیا زخمی کچھ بس ہی نہیں چلتا گھائل کا خدا حافظ کس طرح کوئی جیتے ناداں سے پڑا پالا بے طرح کی خواری ہے عاقل کا خدا حافظ غیروں سے چباتا ہے یاروں سے بچاتا ہے چھوتے ہی مچلتا ہے چنچل کا خدا ...

مزید پڑھیے

غبار اڑتا ہوا دل کے خاکدان میں ہے

غبار اڑتا ہوا دل کے خاکدان میں ہے کسی کی یاد کا ملبہ پڑا مکان میں ہے مجال کب ہے سمندر کی راستہ روکے ہمارے عزم کا طوفان بادبان میں ہے کہو نہ ڈھونڈیں خرد والے آشیانے میں مرے جنوں کا پرندہ ابھی اڑان میں ہے نہیں پگھلتے اگر سنگ تیری باتوں سے کوئی تو نقص یقیناً تری زبان میں ہے بہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2258 سے 6203