نصیحت سے میری یہ سو کوس بھاگے
نصیحت سے میری یہ سو کوس بھاگے تلنگوں کی حق میں جیسے بھوتیا ہے میں بیٹھوں زمیں پر یہ بیٹھے سماں پر کجا تخت شاہی کجا بوریا ہے کریں جا بہ جا لوگ پر کا کبوتر ہر اک بات کا مچ رہا توتیا ہے زمانے کا یہ حال اور دل کا یہ حال کہو کس طرح رہتی شرم اور حیا ہے بھنور بیچ غم کے میں ڈالوں اور ...