ہے یقیں جس دن چمن میں محترم ہو جائیں گے
ہے یقیں جس دن چمن میں محترم ہو جائیں گے کتنی آنکھوں میں بمثل خار ہم ہو جائیں گے ترک کر دیں بولنا سچ ہم تمہارے خوف سے غم نہیں ہوگا اگر سر بھی قلم ہو جائیں گے تو بتا رشتہ ہے کیا تیرا وطن کی خاک سے ہے ہمیں نسبت اسی مٹی میں ضم ہو جائیں گے توڑنا اتنے ستم پھولوں پہ اب اچھا نہیں شاخ گل ...