قومی زبان

غنیمت سے گزارا کر رہا ہوں

غنیمت سے گزارا کر رہا ہوں مگر چرچا ہے جلسہ کر رہا ہوں زمانے تجھ سے توبہ کر رہا ہوں بدن کا رنگ نیلا کر رہا ہوں ٹھہرنا تک نہیں سیکھا ابھی تک ازل سے وقت ضائع کر رہا ہوں تسلی آج بھی ہے فاصلوں پر سرابوں کا ہی پیچھا کر رہا ہوں مرا سایہ مرے بس میں نہیں ہے مگر دنیا پہ دعویٰ کر رہا ہوں

مزید پڑھیے

جس کو اپنے بس میں کرنا تھا اس سے ہی لڑ بیٹھا

جس کو اپنے بس میں کرنا تھا اس سے ہی لڑ بیٹھا سیدھا منتر پڑھتے پڑھتے الٹا منتر پڑھ بیٹھا وہ ایسا تصویر نواز کہ جس کو میں جنچتا ہی نہیں اور اک میں ہر فریم کے اندر چتر اسی کا جڑ بیٹھا گیان لٹانے نکلا تھا اور جھولی میں بھر لایا پیار میں ایسا رنگ ریز ہوں جس پہ رنگ چنر کا چڑھ ...

مزید پڑھیے

ناصح نہ بک زیادہ مرا مان یہ سخن

ناصح نہ بک زیادہ مرا مان یہ سخن مجھ سیتی چھوٹے عشق ہے امکان یہ سخن تسبیح نماز روزہ سے مجھ کو نہیں ہے کام میں بت پرست ہوں مرا پہچان یہ سخن ہر روز مجھ کو عشق سے کیوں روکتا ہے تو آخر کو کھو رہا ہے تری جان یہ سخن دل دار دل ربا ہیں مرے دل کے مشتری میں ان کا ہوں مری جان یہ سخن اتنے میں ...

مزید پڑھیے

ناگن ہے زلف یار نہ زنہار دیکھنا

ناگن ہے زلف یار نہ زنہار دیکھنا اڑ اڑ کے کاٹتی ہے خبردار دیکھنا کہتے ہیں لوگ مجھ سے یہ کھا کھا کے اب قسم خونخوار ہے یہ شوخ ستم گار دیکھنا شیریں دہن نہ بوجھیو ہیں شہد کی چھری ہنس ہنس کے جان لیں ہیں یہ اطوار دیکھنا کہتا ہوں در جواب انہوں کے میں روبرو چاہو سو ہو پر مجھے اک بار ...

مزید پڑھیے

دیجے نہیں کسو کو تو پھر لیجیے بھی نہیں

دیجے نہیں کسو کو تو پھر لیجیے بھی نہیں نیکی نہ بن سکے تو بدی کیجیے بھی نہیں توقیر‌ حسن شرط ہے دل دینے کے لیے گر حسن ہی نہ ہو تو کبھو ریجھیے بھی نہیں ہووے اگرچہ اپنی شرافت اوپر نگاہ ہرگز بدی کے کام پہ دل دیجیے بھی نہیں ایدھر سے سیتے جاؤ اور اودھر سے پھٹتا جائے ایسے طرح کے کپڑے ...

مزید پڑھیے

فصل گل میں ہر گھڑی یہ ابر و باراں پھر کہاں

فصل گل میں ہر گھڑی یہ ابر و باراں پھر کہاں دیکھ لو خوش ہو کے یاراں یہ بہاراں پھر کہاں ہے سعادت قمریو اس کے تصدق ہو چلو ورنہ کوئی دن کو یہ سرو خراماں پھر کہاں آج آتی ہے نظر مجھ دل کے شیشے میں پری دیکھ لو لحظہ میں یہ صورت نمایاں پھر کہاں میں چمن میں پی کے مے کو اس لیے کرتا ہوں ...

مزید پڑھیے

جفا کا اس کی گلا مت کرو ہوا سو ہوا

جفا کا اس کی گلا مت کرو ہوا سو ہوا خدا کے واسطے چپکے رہو ہوا سو ہوا سنے گا وہ تو خفا ہوگا پھر نئے سر سے کسو کے کان میں کچھ مت کہو ہوا سو ہوا یہ گفتگو جو کرو ہو سو کچھ بھلی نہیں ہے کسی سے فعل عبث مت لڑو ہوا سو ہوا مجھے تو پاک محبت ہے مت کرو بدنام کہیں خدا کے غضب سے ڈرو ہوا سو ...

مزید پڑھیے

بہتوں نے جسے عرش پہ بے جان میں دیکھا

بہتوں نے جسے عرش پہ بے جان میں دیکھا ہم نے تو اسے جیتے جی اس جان میں دیکھا مجنوں تھا ہم آغوش لیے لیلیٰ کو اپنی یارو یہ تماشا میں بیابان میں دیکھا جاوے بھی پھر آوے بھی کئی شکل سے ہر بار چکر میں کہاں پر یہ مزا تان میں دیکھا فاقہ ہی رہے روز نہ کچھ کھانا نہ پینا یہ دور میں نے حضرت ...

مزید پڑھیے

جہاں میں جو کئی گل بدن خوش نین ہے

جہاں میں جو کئی گل بدن خوش نین ہے بہت جی کو پیارا ہے اور من ہرن ہے یہ سب خوبیاں تجھ میں ہیں گی پری رو تو ہی من ہرن ہے تو ہی چت لگن ہے دیوانہ ہوں اس دم کہ جس دم کہیں ہیں شکر لب بھی کیا خوب شیریں بچن ہے ذرا پیار سے جس سے تو ہنس کے بولے تو بے شک اسے بادشاہی ختن ہے تجلا ترا جن نے ٹک ...

مزید پڑھیے

تجھ تیغ کی نگہ سے مرا کٹ گیا ہے دل

تجھ تیغ کی نگہ سے مرا کٹ گیا ہے دل بھیتر سینے کے ٹکڑے ہو کر پھٹ گیا ہے دل جب سے جمال تیرا میں دیکھا ہے اے صنم تب سے سبھی طرف سے مرا ہٹ گیا ہے دل انداز ناز قہر ہے اس کے نہ میں کہوں پر خال و خط میں جا کے ترے بٹ گیا ہے دل آگے کو بڑھ سکے ہے نہ پیچھے کو ہٹ سکے یاں تک ترے خیال میں اب ڈٹ گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2257 سے 6203