تخلیق
زمانے بھر کے دکھ لے کر محبت کو جنم میں نے دیا ہے
زمانے بھر کے دکھ لے کر محبت کو جنم میں نے دیا ہے
مشاطگئی زلف سخن کا احساس آرائش حسن فکر و فن کا احساس لازم ہے مگر محرک تخلیقات اصلاً ہے ایک ادھورے پن کا احساس
جب بولو تو بولو ایسے کلمات مرغوب ہوں لوگوں کو جو مثل نبات آ جائے کسی کے شیشۂ دل میں بال منہ سے نہ نکالو ایسی کوئی بات
گونگے الفاظ کو نوا دیتا ہے تخیئل کو تصویر بنا دیتا ہے کر دیتا ہے خفتگاں کو شاعر بیدار مردوں کو بھی قم کہہ کے جلا دیتا ہے
ہر بات کو پہلے تولتا ہے شاعر تب جا کے زبان کھولتا ہے شاعر جس بات میں ملا دیتا ہے تلخی ناصح اس چیز میں شہد گھولتا ہے شاعر
احساس کو لفظوں میں پرونے کا فن قطرے کا در خوش آب ہونے کا فن کہتے ہیں رباعی جسے وہ ہے ناوکؔ کوزے کو سمندر میں سمونے کا فن
ہو آنکھیں تو دیکھ میرے غم کی تحریر پڑھنا ہو تو پڑھ دیدۂ نم کی تحریر اے موت خوش آمدید انشا اللہ زندہ مجھے رکھے گی قلم کی تحریر
بیداریٔ احساس ہے الجھن میری حلقے میں مصائب کے ہے گردن میری ٹھہرائیں کسے مورد الزام کہ خود ہے فطرت حساس ہی دشمن میری
خواب میں تیری شکل سمو نہیں سکتا میں اسی لیے تو شاید سو نہیں سکتا میں میں تو اپنے آنسوؤں سے شرمندہ ہوں تیری آنکھ کے آنسو رو نہیں سکتا میں حد نظر تک ریت ہی ریت ہے آنکھوں میں اب اس ریت میں پھول تو بو نہیں سکتا میں میں بھی تیرے جیسا ہونا چاہتا ہوں لیکن اب دریا تو ہو نہیں سکتا ...
میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے مقتل میں رسم پاس وفا لے گئی مجھے اندر سے کھوکھلا جو تھا بیلون کی طرح چاہا جدھر ہوا نے اڑا لے گئی مجھے اک حرف تھا جو تم نے سنا ان سنا کیا اب ڈھونڈتے پھرو کہ صدا لے گئی مجھے ساحل سے میرا پاؤں پھسلنے کی دیر تھی اک موج بے پناہ بہا لے گئی ...