قومی زبان

جب سخن موج تخیل سے روانی مانگے

جب سخن موج تخیل سے روانی مانگے مجھ سے ہر لفظ نئی روح معانی مانگے دل وہ دیوانہ کہ دریا سے تو پیاسا لوٹے سامنے موج سراب آئے تو پانی مانگے حافظہ ذہن کا در بند کئے بیٹھا ہے دل بہلنے کو کوئی یاد پرانی مانگے حسن سر تا بہ قدم طرفہ ادائی چاہے عشق تا حد یقیں سادہ گمانی مانگے آئنہ ...

مزید پڑھیے

دور کے جلووں کی شادابی کا دل دادہ نہ ہو

دور کے جلووں کی شادابی کا دل دادہ نہ ہو تو جسے دریا سمجھتا ہے کہیں صحرا نہ ہو آئنہ کو ایک مدت ہو گئی دیکھے ہوئے وہ جبین شوق جس پر سوچ کا سایہ نہ ہو وہ بھی میرے پاس سے گزرا اسی انداز سے میں نے بھی ظاہر کیا جیسے اسے دیکھا نہ ہو اس طرف کیا طرفہ عالم ہے یہ کھل سکتا نہیں آدمی کا قد اگر ...

مزید پڑھیے

حیات کیا ہے مآل حیات کیا ہوگا

حیات کیا ہے مآل حیات کیا ہوگا تو اس پہ غور کرے گا تو غمزدہ ہوگا سنبھل سنبھل کے جو یوں پتھروں پہ چلتا ہے ضرور اس کی حفاظت میں آئنہ ہوگا جو کہہ رہا کہ نیند اڑ گئی ہے آنکھوں سے یہ شخص پہلے بہت خواب دیکھتا ہوگا سنا کیا جو مرا حال اس توجہ سے وہ اجنبی بھی کسی غم میں مبتلا ہوگا کسی کے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا

ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا کہ میرے لب پہ وہی تھا جو میرے من میں تھا کسک اٹھی تھی کچھ ایسی کہ چیخ چیخ پڑوں رہا میں چپ ہی کہ بہروں کی انجمن میں تھا الجھ کے رہ گئی جامے کی دل کشی میں نظر اسے کسی نے نہ دیکھا جو پیرہن میں تھا کبھی میں دشت میں آوارہ اک بگولا سا کبھی میں نکہت گل ...

مزید پڑھیے

مرا وجود ہے اک نقش آب کی صورت

مرا وجود ہے اک نقش آب کی صورت شکست جس کا مقدر ہے خواب کی صورت بکھر نہ جاؤں فضا میں ورق ورق ہو کر ہوا کی زد میں ہوں کہنہ کتاب کی صورت تناؤ حد سے بڑھے گا تو ٹوٹ جائیں گے دلوں کے رابطے تار رباب کی صورت کسی بھی لمحے نکل جاؤں گا ہوا کی طرح مرا بدن ہے حصار حباب کی صورت درون سینہ کوئی ...

مزید پڑھیے

زہرآب حیات پی رہا ہوں

زہرآب حیات پی رہا ہوں حیرت ہے کہ پھر بھی جی رہا ہوں کس کس کی زبان بند کرتا خود اپنے ہی ہونٹ سی رہا ہوں طالب ہے فرشت گی کی دنیا اور میں فقط آدمی رہا ہوں کیا کم ہے یہ سانحہ کہ میں ہی ان آنکھوں کی کرکری رہا ہوں سورج سے لڑانے والا آنکھیں میں ہی سورج مکھی رہا ہوں روداد حیات ہے بس ...

مزید پڑھیے

رات اور دن کیسے ہوتے ہیں

ٹیچر نے یہ پوچھا آ کر رات اور دن ہوتے ہیں کیوں کر اپنی سیٹ پہ پپو اٹھا اور فراٹے سے یوں بولا یہ سورج اک روشن شے ہے نارنگی سی گول زمیں ہے دھرتی اپنی کیل پہ چکر کھاتی رہتی ہے ہر دم سر چوبیس گھنٹوں میں اک پھیرا کرتی ہے یہ دھرتی پورا چکر کھانے میں جو حصہ سورج کی جانب ہے رہتا اس حصہ میں ...

مزید پڑھیے

گھٹائیں چھائی ہیں ساغر اٹھا لے جس کا جی چاہے

گھٹائیں چھائی ہیں ساغر اٹھا لے جس کا جی چاہے یہ مے خانہ ہے قسمت آزما لے جس کا جی چاہے محبت کرنے والوں کا جہاں میں کون ہوتا ہے کوئی اپنا نہیں ہم کو ستا لے جس کا جی چاہے غم دوراں سے بچنا زندگی میں غیر ممکن ہے غم جاناں کو سینے سے لگا لے جس کا جی چاہے کسے ملتی ہے فرصت عمر بھر آنسو ...

مزید پڑھیے

بوند پانی کی ہوں تھوڑی سی ہوا ہے مجھ میں

بوند پانی کی ہوں تھوڑی سی ہوا ہے مجھ میں اس بضاعت پہ بھی کیا طرفہ انا ہے مجھ میں یہ جو اک حشر شب و روز بپا ہے مجھ میں ہو نہ ہو اور بھی کچھ میرے سوا ہے مجھ میں صفحۂ دہر پہ اک راز کی تحریر ہوں میں ہر کوئی پڑھ نہیں سکتا جو لکھا ہے مجھ میں کبھی شبنم کی لطافت کبھی شعلے کی لپک لمحہ لمحہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2253 سے 6203