قومی زبان

سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا

سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا ایک ہی جھونکا پلٹ کر بار بار آتا رہا پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اچانک اڑ گئی یہ خزانہ آخر اپنے ہاتھ سے جاتا رہا شمع کی لو پر ہوا نے ہونٹ اپنے رکھ دئے وجد میں آ کر دھواں تا دیر لہراتا رہا اس تمنا میں کہ اہل دل مجھے تجھ سا کہیں تیرا اک اک رنگ اک اک ...

مزید پڑھیے

اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا

اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا ہمیشہ کے لیے یہ ہاتھ اب پتوار پر رکھنا وصالی موسموں کی بازیابی چاہنے والو بجائے شاخ گل دست طلب رخسار پر رکھنا سر تخلیق تن کب اختراعی دھن نکل آئے ذرا یہ ہونٹ تم بربط کے ٹوٹے تار پر رکھنا وبال دوش تھا یہ تم کسی کونے پہ لکھ دینا نمائش کے ...

مزید پڑھیے

قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا

قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا چراغ بجھنے کے بعد اجالا کہاں سے آیا ندی میں وہ اور چاند ہیں ایک ساتھ روشن زمیں پر آسمان والا کہاں سے آیا یہ غنچہ غنچہ سیاہ بھونرے کی بوسہ خواہی سواد گلشن میں ہم نوالا کہاں سے آیا فضا کی آلودگی تھی پہلے ہی نیم قاتل یہ دل میں ایک اور داغ کالا ...

مزید پڑھیے

طلسماتی فضا تخت سلیماں پر لئے جانا

طلسماتی فضا تخت سلیماں پر لئے جانا مرے گھر میں اترتی شام کا منظر لئے جانا وہ اسباب شکست و فتح خود ہی جان جائے گا علم جب ہاتھ سے چھوٹے تو میرا سر لئے جانا گرج کے ساتھ بجلی بھی چمکتی ہے پہاڑوں میں مسافر ہے کہ طوفانی ہوا کو گھر لئے جانا کھلے جاتے ہیں جیسے دل کے سارے بند دروازے اب ...

مزید پڑھیے

تحفۂ درویش

بحر غم میں ہے سخت طغیانی سر سے اوپر گزر گیا پانی کب تک اے نزہت برشتہ جگر شور یا رب سے عرش جنبانی رونے دھونے سے جان کھونے سے کہیں بنتے ہیں کام دیوانی درد دل درد آفریں کو سنا کر گزر جی میں ہے جو کچھ ٹھانی دشت وحدت ہے دشت وحدت ہے دیکھ آہستہ کر فرس رانی بے خبر پہلے نقش کر دل پر عظمت ...

مزید پڑھیے

کسی نے تیری صورت دیکھ لی ہے

کسی نے تیری صورت دیکھ لی ہے یہی سمجھو قیامت دیکھ لی ہے ابھی انجام دل معلوم کیا ہے اجی تم نے تو آفت دیکھ لی ہے کہ ایذا ہجر کی دیکھی کہاں تھی فقط تیری بدولت دیکھ لی ہے چراتا ہے وہ کافر آنکھ مجھ سے نگاہ چشم حسرت دیکھ لی ہے شرافت آج ہم نے ترک کر دی زمانے کی شرافت دیکھ لی ہے ذرا ...

مزید پڑھیے

کتنا سادہ شباب لگتی ہو

کتنا سادہ شباب لگتی ہو ایک تازہ گلاب لگتی ہو آپ حسن و جمال کی صورت ایک شاعر کا خواب لگتی ہو آسماں کے سبھی ستاروں میں اک تمہیں آفتاب لگتی ہو کیوں نشہ بن کے چڑھ گئیں مجھ پر ہاں پرانی شراب لگتی ہو زلف الجھی ہوئی ہے ساون سی برسا برسا شباب لگتی ہو جس پہ ہر بار میں اٹکتا ہوں وہ سوال ...

مزید پڑھیے

کام ایسا میں کوئی کر جاؤں

کام ایسا میں کوئی کر جاؤں آپ کے قلب میں اتر جاؤں تھام لو ہاتھ تم اگر میرا میں نکھر جاؤں میں سنور جاؤں بن گیا بت میں دیکھ کر تم کو دل میں تھا دیکھ کر گزر جاؤں اتنی شدت سے تم کو چاہا ہے تم کو پا لوں اگر تو مر جاؤں تم بھلائے بھلا نہیں سکتیں میں نشہ وہ نہیں اتر جاؤں ایسے ذہیبؔ آج ...

مزید پڑھیے

تضمین بر اشعار غالب

درد الفت یوں ہی تھا رگ رگ میں ساری ہائے ہائے کیوں لگایا پھر وفا کا زخم کاری ہائے ہائے تجھ سا بے فکر اور کسی کی غم گساری ہائے ہائے درد سے میرے ہو تجھ کو بے قراری ہائے ہائے کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری؟ ہائے ہائے کچھ ہنسی تھا شرکت رنج و الم کا حوصلہ آہ یہ ایک خوگر ناز و نعم کا ...

مزید پڑھیے

پیام

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں نگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیں نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار ''نہیں'' ہمیشہ وعدے کیے اب کے مل ہی جا آ کر حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں دکھائی اپنی محبت کو چیر کر سینہ مگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیں مری بہن مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 224 سے 6203