قومی زبان

ہے مجھ میں بھی کوئی نگہبان جیسا

ہے مجھ میں بھی کوئی نگہبان جیسا میں اپنے میں رہتا ہوں میزان جیسا ہمیشہ ہی اک پھول کھلتا رہے گا مری شاخ دل پر بھی ایمان جیسا تہ خاک ہونا ہے گلزار ہونا بظاہر یہ سودا ہے نقصان جیسا کسی اژدہے کا نہ سایہ ہو اس پر ہرا پیڑ ہو کر ہے ویران جیسا بہر حال ہم زندگی جی کے دیکھے یہ مضموں نہیں ...

مزید پڑھیے

چہرے پر ایک اور بھی چہرہ لگائیے

چہرے پر ایک اور بھی چہرہ لگائیے دل چاہے رو رہا ہو مگر مسکرائیے ایسا نہ ہو کہ اپنی ہی صورت پہ شک پڑے اتنا بھی آئنے کو نہ منہ سے لگائیے ہو فاصلہ تو اور بھی بڑھ جاتی ہے کشش کچھ دور جا کے اور بھی نزدیک آئیے کانٹوں سے میرے پھولوں کو نسبت نہیں کوئی میں شاخ دل ہوں مجھ سے نہ دامن ...

مزید پڑھیے

چاروں طرف ہیں خار و خس دشت میں گھر ہے باغ سا

چاروں طرف ہیں خار و خس دشت میں گھر ہے باغ سا چوٹی پہ کوہسار کی جلتا ہے کیا چراغ سا آب رواں کی گونج سے شورش خاک و باد تک میں ہی ہوں نقش جاوداں میں ہی عدم سراغ سا صبح بھی ریشہ ریشہ ہے شام بھی ہے رفو طلب سینۂ مہتاب بھی ورنہ ہے دل داغ سا بحث ہوئی نہ تبصرہ شور اٹھا نہ چپ لگی دل کی بساط ...

مزید پڑھیے

جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا

جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا وہ آئینہ ہے تو اپنی صفائی کیوں نہیں دیتا دکھائی دے رہے ہیں سامنے والوں کے ہلتے لب مگر وہ کہہ رہے ہیں کیا سنائی کیوں نہیں دیتا سمندر بھی تری آنکھوں میں صحرا کی طرح گم ہے یہاں وہ تنگئ جا کی دہائی کیوں نہیں دیتا جب اس نے توڑ دی زنجیر ...

مزید پڑھیے

رات کے پچھلے پہر اک سنسناہٹ سی ہوئی

رات کے پچھلے پہر اک سنسناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک اور پھر ایک اور آہٹ سی ہوئی دفعتاً زنجیر کھنکی یک بیک پٹ کھل گئے شمع کی لو میں اچانک تھرتھراہٹ سی ہوئی خستۂ دیوار و در یک بارگی ہلنے لگے طاق تھی ویران لیکن جگمگاہٹ سی ہوئی ایک پیکر سا دھوئیں کے بیچ لہرانے لگا نیم وا ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

فصل کی جلوہ گری دیکھتا ہوں

فصل کی جلوہ گری دیکھتا ہوں شاخ کانٹوں سے بھری دیکھتا ہوں رقص گاہوں میں بڑے چرچے ہیں کون ہے لال پری دیکھتا ہوں چاند کو چاہئے ہم شکل اپنا رات بھر در بدری دیکھتا ہوں لو مچلتی ہے کھلی کھڑکی میں روز اک شمع دھری دیکھتا ہوں میرے بس میں ہے نہیں کیا چلنا جھنڈیاں لال ہری دیکھتا ...

مزید پڑھیے

گھر نہیں بستی نہیں شور فغاں چاروں طرف ہے

گھر نہیں بستی نہیں شور فغاں چاروں طرف ہے ایک چوتھائی زمیں پر آسماں چاروں طرف ہے دوڑتے ہیں رات دن تین آنکھ بارہ ہاتھ والے سرد سناٹے میں آواز سگاں چاروں طرف ہے لانچر راکٹ کلاشنکوف بارودی سرنگیں خون کا دریا پہاڑوں میں رواں چاروں طرف ہے جسم ہے تو سر نہیں سر ہے تو دست و پا نہیں ارض ...

مزید پڑھیے

وہ خیالوں میں بھی اس طرح گزر جاتے ہیں

وہ خیالوں میں بھی اس طرح گزر جاتے ہیں ان کے گیسو مرے شانوں پہ بکھر جاتے ہیں زندگی ان کی بھی ہے ایک مہاجر کی طرح اشک بے چارے کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں پہلے خود آ کے سنورتے تھے خود آئینے میں اب انہیں دیکھ کے آئینے سنور جاتے ہیں حادثے اتنے گزرتے ہیں ہمارے دل پر ہم تو بچوں کی طرح ...

مزید پڑھیے

لذت عرفاں

رنگ فطرت ہے وجہ حیرانی عقل ہے اور حیائے نادانی رازداں مدعا کو کہتے ہیں حسن الفت کا داغ پیشانی حسن باقی نے دل کو کھینچ لیا رخصت اے حسن ہستئ فانی دل ہے وقف رجائے رحم و کرم جاں ہے نذر رضائے ربانی اب میں سمجھی کہ ہے فنائے خودی انبساط بہشت لافانی غم نہ کر ہے نقیب ابر بہار خشکیٔ موسم ...

مزید پڑھیے

تیز ہو جائیں ہوائیں تو بگولا ہو جاؤں

تیز ہو جائیں ہوائیں تو بگولا ہو جاؤں گھومتے گھومتے ہم رقبۂ صحرا ہو جاؤں خود کلامی مری عادت نہیں مجبوری ہے یوں نہ مصروف رہوں میں تو اکیلا ہو جاؤں دوسرا پاؤں اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے اور میں فاتح ناہید و ثریا ہو جاؤں بند آنکھوں سے نہ کر مشق تصور دن رات کہ ہمیشہ کے لئے جان میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 223 سے 6203