ہے مجھ میں بھی کوئی نگہبان جیسا
ہے مجھ میں بھی کوئی نگہبان جیسا میں اپنے میں رہتا ہوں میزان جیسا ہمیشہ ہی اک پھول کھلتا رہے گا مری شاخ دل پر بھی ایمان جیسا تہ خاک ہونا ہے گلزار ہونا بظاہر یہ سودا ہے نقصان جیسا کسی اژدہے کا نہ سایہ ہو اس پر ہرا پیڑ ہو کر ہے ویران جیسا بہر حال ہم زندگی جی کے دیکھے یہ مضموں نہیں ...