قومی زبان

وہ آیا تو اتنا پیار دے گا

وہ آیا تو اتنا پیار دے گا دن بھر کی تھکن اتار دے گا ملتا ہے تو ہاتھ چومتا ہے وہ شخص تو مجھ کو مار دے گا معلوم نہ تھا وہ میری خاطر جیتی ہوئی بازی ہار دے گا دیکھیں گے اسے چراغ اور میں وہ اپنا لباس اتار دے گا دیکھے گا وہ بس نظر اٹھا کے آئینہ اسے سنوار دے گا لکھے گا وہ لو میں چہرہ ...

مزید پڑھیے

مٹی سے کچھ خواب اگانے آیا ہوں

مٹی سے کچھ خواب اگانے آیا ہوں میں دھرتی کا گیت سنانے آیا ہوں تو نے دریاؤں میں دئے بہائے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ جلانے آیا ہوں تجھ سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے میں دنیا میں تیرے بہانے آیا ہوں اب کے بار میں تجھ سے ملنے نہیں آیا تجھ کو اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں چار دئے تیری دہلیز پہ ...

مزید پڑھیے

خاک اگاتی ہیں صورتیں کیا کیا

خاک اگاتی ہیں صورتیں کیا کیا آئنوں میں ہیں حیرتیں کیا کیا عمر کے بے ثبات صفحوں پر لکھ رہا ہوں عبارتیں کیا کیا کھلتے جاتے ہیں باب حرف و صدا ہو رہی ہیں زیارتیں کیا کیا مڑ کے دیکھوں تو نقش پا کی طرح ہم سفر ہیں روایتیں کیا کیا لفظ آواز اور سائے میں ڈھونڈھتا ہوں شباہتیں کیا ...

مزید پڑھیے

چاند کو پورا ہونے دو

چاند کو پورا ہونے دو بہتی ندی کو سونے دو شام کی طرح اداسی کو اور بھی گہرا ہونے دو کسی دیے کے سائے میں آسماں کو سونے دو سپنا اگر اگانا ہے جاگتی آنکھیں بونے دو آؤ لپٹ کے سو جائیں جو ہوتا ہے ہونے دو اجلے تن کی لہروں میں رات کے رنگ سمونے دو عمر کی سادہ ڈوری میں سارے پھول پرونے ...

مزید پڑھیے

پہلے انکار بہت کرتا ہے

پہلے انکار بہت کرتا ہے بعد میں پیار بہت کرتا ہے چوم کر جلتی ہوئی پیشانی وہ گنہ گار بہت کرتا ہے مان لیتا ہے وہ ساری باتیں پھر بھی تکرار بہت کرتا ہے گھر سے باہر نہیں آتا لیکن ہار سنگھار بہت کرتا ہے زرد پتوں کا سنہرا موسم مجھ کو بیمار بہت کرتا ہے ایک بوسہ ہو یا آنسو قیصرؔ چہرہ ...

مزید پڑھیے

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں جھانک رہی ہے دنیا مجھ میں کوئی پرانا شہر ہے جس کا کھلتا ہے دروازہ مجھ میں دیا جلا کے چھوڑ گیا ہے کوئی اپنا سایا مجھ میں بند ہوئی جاتی ہیں آنکھیں کیسا منظر جاگا مجھ میں آوازیں دیتا ہے مجھ کو کوئی میرؔ کے جیسا مجھ میں کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والا بھول گیا ...

مزید پڑھیے

آنکھیں کس کا کھوج لگاتی رہتی ہیں

آنکھیں کس کا کھوج لگاتی رہتی ہیں شکلیں اپنا آپ چھپاتی رہتی ہیں آنے والے دنوں کی دھندلی تصویریں گئے دنوں کے خواب دکھاتی رہتی ہیں موسم کے روداد رقم کرنے کے لیے شاخیں اپنے ہاتھ کٹاتی رہتی ہیں مٹی کیوں رنگوں کو ظاہر کرتی ہے خوشبوئیں کیوں خاک اڑاتی رہتی ہیں کون ہوائیں ہیں جو لوح ...

مزید پڑھیے

تجھ کو لکھنا ہے تو ایسا کوئی صفحہ لکھ دے

تجھ کو لکھنا ہے تو ایسا کوئی صفحہ لکھ دے جاگتے لفظوں میں خوابوں کا سراپا لکھ دے پہلے جو شکل نہیں دیکھی تھی وہ سامنے لا پہلے جو نام کتابوں میں نہیں تھا لکھ دے گنبد شب میں مہ‌ و نجم سجانے والے ان گلی کوچوں کی قسمت میں دریچہ لکھ دے ان لکھے لفظوں میں لکھ مژدہ نئے موسم کا کہیں مہتاب ...

مزید پڑھیے

دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں

دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں ہوا اسے بھی اڑا دے نہ بے خیالی میں وہ مجھ سے مانگ رہا ہے مجھے مری خاطر میں خود کو ڈال نہ دوں کاسۂ سوالی میں بس ایک موجۂ باد بہار گزری تھی پرو گئی ہے مرا جسم ڈالی ڈالی میں بکھرتا جاتا ہے کمرے میں سگرٹوں کا دھواں پڑا ہے خواب کوئی چائے کی پیالی ...

مزید پڑھیے

ساحل کی ریت چاند کے منہ پر نہ ڈالیے

ساحل کی ریت چاند کے منہ پر نہ ڈالیے ہمت جو ہو تو بحر سے موتی نکالیے خوشبو کی طرح تھام کے چلیے ہوا کا ہاتھ مثل غبار بوجھ فضا پر نہ ڈالیے آوارہ موسموں کے بگولوں کے ساتھ ساتھ پھرتا ہے کوئی مجھ کو ہوا در ہوا لیے کھلتا نہیں کہ کس کے لیے سرگراں ہوں میں قدموں میں خاک سر پہ فلک کی ردا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2216 سے 6203