قومی زبان

وفا کو کہاں بے وفا جانتا ہے

وفا کو کہاں بے وفا جانتا ہے حقیقت ہے کیا آئنہ جانتا ہے کسی کو بتانے سے کیا ہوگا حاصل مرا حال میرا خود جانتا ہے کوئی بھی نہ بولا جو میں نے یہ پوچھا کوئی اس کے گھر کا پتہ جانتا ہے ذرا عشق کرنے سے پہلے سمجھ لے محبت کا کیا فلسفہ جانتا ہے اندھیرا بہت اور لمبا سفر ہے ہے منزل کہاں ...

مزید پڑھیے

دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے درد نس نس میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے دل میں ہو شوق ملاقات کا طوفان بپا اور رستے میں چناں ہو تو غزل ہوتی ہے شوق حسرت کے شراروں سے جلا پاتا ہے جان جاں دشمن جاں ہو تو غزل ہوتی ہے کچھ بھی حاصل نہیں یک طرفہ محبت کا جناب ان کی جانب سے بھی ہاں ہو تو غزل ...

مزید پڑھیے

پریشاں خاطری میں لب پہ کیوں آئے دعا میری

پریشاں خاطری میں لب پہ کیوں آئے دعا میری نہ رسوائے جہان آرزو ہوگی وفا میری مجھے عہد گزشتہ کی وفائیں یاد آتی ہیں مری اس انتہا سے خوب تھی وہ ابتدا میری مری فطرت کا مقصد ہے تغیر آشنا رہنا نہ غم ہی مستقل میرا نہ راحت دیر پا میری مقدر میں نہیں ہے کامران آرزو ہونا سزاوار اجابت ہو ...

مزید پڑھیے

جلا کر آسماں رکھ دیں الٹ کر یہ زمیں رکھ دیں

جلا کر آسماں رکھ دیں الٹ کر یہ زمیں رکھ دیں کسی کے آستاں پر آہ کھینچیں اور جبیں رکھ دیں فلک بجلی گرائے باغباں ظلم و ستم توڑے یہ اپنے چار تنکے ہی اٹھا کر ہم کہیں رکھ دیں سر سودا زدہ میں مضطرب سجدے معاذ اللہ کسی کا سامنا ہو پائے نازک پر جبیں رکھ دیں فرشتے لیتے جائیں اپنے دامن میں ...

مزید پڑھیے

جہلم کے کنارے

موجوں کی جوانی میں تلاطم ہے ابھی تک سیلاب ہوا شورشوں میں گم ہے ابھی تک بہتے چلے جاتے ہیں یہ مہکے ہوئے دھارے کرتے ہیں اشارے ہنستے ہیں نظارے آباد ہیں اب تک میرے جہلم کے کنارے اب تک اسی انداز سے ہنستی ہیں فضائیں اب تک اسی خوشبو سے مہکتی ہیں ہوائیں آتی ہیں اسی طور گھٹا ٹوپ گھٹائیں اب ...

مزید پڑھیے

الجھن

چاند کی نذر کیے میں نے نظر کے سجدے حسن معصوم کے جلووں کا پرستار رہا میں نے تاروں پہ نگاہوں کی کمندیں پھینکیں ایک رنگین حقیقت کا طلب گار رہا ذہن کے پردے پہ رقصاں ہے کوئی عکس جمیل حسن کے روپ میں شاید وہ یکایک مل جائے ہر نئے جلوے سے بے ساختہ یوں لپٹا ہوں جیسے بچھڑا ہوا اک دوست یکایک ...

مزید پڑھیے

ماحول

اب ستاروں میں جوانی نہیں رقصاں کوئی چاند کے نور میں نغمات کے سیلاب نہیں دل میں باقی نہیں امڈا ہوا طوفاں کوئی روح اب حسن اچک لینے کو بیتاب نہیں اب فروزاں سی نہیں قوس قزح کی راہیں انہی راہوں سے افق پار سے گھوم آتے تھے منتظر اب نہیں فطرت کی گلابی باہیں ہم جنہیں جا کے شفق زار سے چوم ...

مزید پڑھیے

گل فروش

یہ نازنیں کہ جسے قاصد بہار کہیں جواں حسینہ کہ فطرت کا شاہکار کہیں پیام آمد فصل بہار دیتی ہے جنوں نصیب دلوں کی دعائیں لیتی ہے اسے چمن کے ہر اک پھول سے محبت ہے اسے بہار کی رعنائیوں سے الفت ہے گلوں میں پھرتی ہے یوں جیسے تیتری کوئی چمن کی سیر کرے یا حسیں پری کوئی جو پھول چنتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

شاعر کی دنیا

میری دنیا حسین دنیا ہے جس میں سورج ہے چاند تارے ہیں روز و شب حسن کے نظارے ہیں شب کی محفل سجی ہے تاروں سے جی بہلتا ہے ماہ پاروں سے رات کو تارے جگمگاتے ہیں خود بخود گیت یاد آتے ہیں کرنیں لیتی ہیں روپ پریوں کا چاند راتیں ہیں رقص کے دریا ہیں شعاعوں میں بجلیاں رقصاں امڈ آئے ہیں نور کے ...

مزید پڑھیے

ہر نقش ہے وجود فنا میرے سامنے

ہر نقش ہے وجود فنا میرے سامنے حیران ہوں یہ رنگ ہے کیا میرے سامنے اک شکل سی ہے میری طرح میرے روبرو اک حرف سا ہے میرے سوا میرے سامنے گم سم کھڑی ہے میری صدا میرے آس پاس دیوار بن گئی ہے ہوا میرے سامنے کھلتا نہیں کہ آئینۂ کائنات میں کیا ہے مثال عکس نوا میرے سامنے جنگل کا وہ سفر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2213 سے 6203