مٹی پہ کوئی نقش بھی ابھرا نہ رہے گا
مٹی پہ کوئی نقش بھی ابھرا نہ رہے گا گر جائے گی دیوار تو سایہ نہ رہے گا آئے گا نظر دھوپ میں چھت پر وہ کھلے سر گلیوں میں یہ راتوں کا نکلنا نہ رہے گا شاخوں سے نمو پتوں سے چھن جائے گی خوشبو کٹ جائے گا جب پیڑ تو کیا کیا نہ رہے گا سوچوں تو کوئی لفظ ملے گا نہ ترے نام لکھوں گا تو کاغذ کوئی ...