قومی زبان

مٹی پہ کوئی نقش بھی ابھرا نہ رہے گا

مٹی پہ کوئی نقش بھی ابھرا نہ رہے گا گر جائے گی دیوار تو سایہ نہ رہے گا آئے گا نظر دھوپ میں چھت پر وہ کھلے سر گلیوں میں یہ راتوں کا نکلنا نہ رہے گا شاخوں سے نمو پتوں سے چھن جائے گی خوشبو کٹ جائے گا جب پیڑ تو کیا کیا نہ رہے گا سوچوں تو کوئی لفظ ملے گا نہ ترے نام لکھوں گا تو کاغذ کوئی ...

مزید پڑھیے

میں راکھ ہوتا گیا اور چراغ جلتا رہا

میں راکھ ہوتا گیا اور چراغ جلتا رہا چراغ جلتا رہا آسماں پگھلتا رہا میں بوند بوند جلا وصل کے کنارے پر وہ لہر لہر بدن کروٹیں بدلتا رہا لگی تھی آگ درختوں کے پار دریا میں میں دیکھتا رہا اور آفتاب ڈھلتا رہا بس ایک شام سر دشت کربلا اتری پھر اس کے بعد گھروں سے علم نکلتا رہا گلاب ...

مزید پڑھیے

تنگ ہوئی جاتی ہے زمیں انسانوں پر

تنگ ہوئی جاتی ہے زمیں انسانوں پر کاش کوئی ہل پھیر دے قبرستانوں پر اب کھیتوں میں کچھ بھی نہیں پانی کے سوا یہ کیسی رحمت برسی دہقانوں پر کبھی کبھی تنہائی میں یوں لگتا ہے جیسے کسی کا ہاتھ ہے میرے شانوں پر میں وہ پچھلے پہر کی ہوا کا جھونکا ہوں دستک دیتا پھرے جو بند مکانوں پر کبھی ...

مزید پڑھیے

تاروں سے

ننھے ننھے پیارے پیارے چم چم ٹم ٹم نیارے نیارے ہلکے پھلکے نور کے دھارے نیل گگن کے راج دلارے جگ مگ جگ مگ جگ مگ تارے آ جاؤ تم گھر جو ہمارے تم ہو ہمارے ہم ہوں تمہارے آؤ آؤ چھت پر آؤ آ نہ سکو تو ہاتھ بڑھاؤ دودھ ملیدہ کھاؤ کھلاؤ دن میں کہاں چھپتے ہو بتاؤ جگ مگ جگ مگ جگ مگ تارے آ جاؤ تم گھر ...

مزید پڑھیے

پھولنے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی

پھولنے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی تنگ ہو جائے گی دھرتی مفلسوں پر اور بھی یہ زمیں زرخیز ہوگی خون پی کر اور بھی کھیتیاں اگلا کریں گی لعل و گوہر اور بھی ہر زمانے میں ثبوت عشق مانگا جائے گا لال ماؤں کے چڑھیں گے سولیوں پر اور بھی پھولتے پھلتے ہیں جذبے درد کے ماحول میں زخم کھائیں ...

مزید پڑھیے

بہت عرصہ گنہ گاروں میں پیغمبر نہیں رہتے

بہت عرصہ گنہ گاروں میں پیغمبر نہیں رہتے کہ سنگ و خشت کی بستی میں شیشہ گر نہیں رہتے ادھوری ہر کہانی ہے یہاں ذوق تماشا کی کبھی نظریں نہیں رہتیں کبھی منظر نہیں رہتے بہت مہنگی پڑے گی پاسبانی تم کو غیرت کی جو دستاریں بچا لیتے ہیں ان کے سر نہیں رہتے مجھے نادم کیا کل رات دروازے نے یہ ...

مزید پڑھیے

پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھے

پہلے جیسا رنگ بام و در نہیں لگتا مجھے اب تو اپنا گھر بھی اپنا گھر نہیں لگتا مجھے لگتی ہوگی تجھ کو بھی میری نظر بدلی ہوئی تیرا پیکر بھی ترا پیکر نہیں لگتا مجھے کیا کہوں اس زلف سے وابستگی کا فائدہ اب اندھیری رات میں بھی ڈر نہیں لگتا مجھے مجھ کو زخمی کر نہیں سکتا کوئی دست ستم میں ...

مزید پڑھیے

عذاب حسرت و آلام سے نکل جاؤ

عذاب حسرت و آلام سے نکل جاؤ مری سحر سے مری شام سے نکل جاؤ بہانہ چاہیے گھر سے کوئی نکلنے کو کسی طلب میں کسی کام سے نکل جاؤ ہمارے خانۂ دل میں رہو سکون کے ساتھ نکلنا چاہو تو آرام سے نکل جاؤ خدا نصیب کرے تم کو بے گھری کا مذاق حصار شوق در و بام سے نکل جاؤ سفر ہے شرط مسافر نواز ...

مزید پڑھیے

گھروں میں سبزہ چھتوں پر گل سحاب لیے

گھروں میں سبزہ چھتوں پر گل سحاب لیے ہوائیں پھیل گئیں نقش و رنگ آب لیے شب سیاہ ڈھلی صبح آشکار ہوئی جبیں پہ زخم لیے ہاتھ میں گلاب لیے میں ایک ڈھلتا سا سایا زمیں کے قدموں میں تو ڈھونڈنے مجھے نکلا ہے آفتاب لیے گزر گیا کوئی پہچانتا ہوا مجھ کو پرانی یادوں کی شمعیں پس نقاب لیے بکھر ...

مزید پڑھیے

پیالے میں جو پانی ہے

پیالے میں جو پانی ہے دریا کی حیرانی ہے رات بھرے مشکیزے سے ہم نے لو چھلکانی ہے بس ہم دونوں زندہ ہیں باقی دنیا فانی ہے ہنستے مہکتے جنگل ہیں ہری بھری ویرانی ہے کنویں کی تہہ میں ہنستا ہوا ایک ستارہ پانی ہے تم نے صحرا دیکھا ہے ہم نے ریتی چھانی ہے نیا لباس پہن کر بھی دنیا وہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2214 سے 6203