قومی زبان

کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں

کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں کسی کی یاد کے لمحے ہمارے دل کی طرف عبادتوں کے لئے صبح و شام آتے ہیں اندھیرا ...

مزید پڑھیے

شرابی اور فقیر

مڈبھیڑ میری ہو گئی کل اک فقیر سے وہ بھیک مانگتا تھا ہر اک راہگیر سے میں نے کہا کہ بھائی ہے کیسا تمہارا حال کہنے لگا کہ ہے کرم رب ذو الجلال میں نے کہا کہ ریس بھی کھیلی کبھی کہیں کہنے لگا کہ ریس تو کھیلی کبھی نہیں میں نے کہا کہ تاشوں سے کچھ مشغلہ رہا کہنے لگا کہ میں نہیں کھیلا ...

مزید پڑھیے

رنگین وادی

افق کے اس طرف کہتے ہیں اک رنگین وادی ہے وہاں رنگینیاں کہسار کے دامن میں سوتی ہیں گلوں کی نکہتیں ہر چار سو آوارہ ہوتی ہیں وہاں نغمے صبا کی نرم رو موجوں میں بہتے ہیں وہاں آب رواں میں مستیوں کے رقص رہتے ہیں وہاں ہے ایک دنیائے ترنم آبشاروں میں وہاں تقسیم ہوتا ہے تبسم لالہ زاروں ...

مزید پڑھیے

امنڈ رہی ہیں گھٹائیں کہ زلف برہم ہے

امنڈ رہی ہیں گھٹائیں کہ زلف برہم ہے چھلک رہا ہے جو خم ہے کہ آنکھ پر نم ہے نشاط زیست میسر نہیں تو کیا شکوہ مجھے حیات سے بڑھ کر حیات کا غم ہے پھر آج گردش دوراں سے مات کھائی ہے بساط دل ہی الٹ دو کہ حوصلہ کم ہے ٹھہر نہ جائے کہیں نبض گردش دوراں تری نگاہ کرم کا کچھ اور عالم ہے نہ شور ...

مزید پڑھیے

فضائے لالۂ و گل میں وہ تازگی نہ رہی

فضائے لالۂ و گل میں وہ تازگی نہ رہی وہ کیا گئے کہ بہاروں میں دل کشی نہ رہی قدم قدم پہ ہیں چھائے ہوئے اندھیرے سے لہو کے دیپ جلاؤ کہ روشنی نہ رہی مزاج عشق نے آداب حسن اپنائے دیار عشق میں وہ رسم بندگی نہ رہی مرے خلوص وفا سے عبث شکایت ہے نگاہ ناز میں بھی شان دلبری نہ رہی چمک اٹھا ہے ...

مزید پڑھیے

کہیں ٹھہر کے نہ رہ جائیں دھڑکنیں دل کی (ردیف .. ے)

کہیں ٹھہر کے نہ رہ جائیں دھڑکنیں دل کی مزاج دوست ہے آمادہ برہمی کے لئے نشاط زیست میسر نہیں تو کیا غم ہے غم حیات ہی کافی ہے زندگی کے لئے بہار نو نے تبسم گلوں سے چھین لیا چمن میں پھول ترستے ہیں اک ہنسی کے لئے

مزید پڑھیے

جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا

جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا زندگی بھر کے لئے آنکھوں میں پانی دے گیا سنتے سنتے داستاں سو جائیں گے سب چارہ گر ختم جو ہوگی نہیں ایسی کہانی دے گیا سر مرے سینے پہ اس نے جب رکھا ہے زندگی اس طرح دریائے دل کو وہ روانی دے گیا بات بھی اتنی کہ بس اس نے کیا مجھ کو سلام ہاں مگر لوگوں ...

مزید پڑھیے

پھول پہ جب اک تتلی دیکھی اپنی جوانی یاد آئی

پھول پہ جب اک تتلی دیکھی اپنی جوانی یاد آئی آج نہ جانے پھر کیوں مجھ کو اپنی کہانی یاد آئی زخم کے ٹانکے ٹوٹ گئے سب رات چلی جو پروائی پھر تو چلے تھے زخم مگر پھر تیری نشانی یاد آئی یوں تو سب کچھ بھول چکا ہوں ترک وفا کے بعد مگر درد اٹھا جب دل میں میرے تیری نشانی یاد آئی تیرے کنوارے ...

مزید پڑھیے

اب تو جینے کی کوئی آس نہیں

اب تو جینے کی کوئی آس نہیں تیری یادیں بھی میرے پاس نہیں سیکھ لیتے ہیں وہ فن الفت دیر میں عشق کا کلاس نہیں دیکھ لوں تیری نرگسی آنکھیں اور کوئی بھی مجھ کو پیاس نہیں پی رہا ہوں میں اشک غم ساقی مے سے لبریز یہ گلاس نہیں جب سے مجھ سے بچھڑ گیا کوئی زندگی آئی مجھ کو راس نہیں صحن‌ ...

مزید پڑھیے

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں آج کی رات گزر جائے گی تنہائی میں شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تری ہو کمی کچھ نہ تری انجمن آرائی میں بے سبب ہوگا مرے ساتھ میں رسوا وہ بھی نام اس کا بھی ہے شامل میری رسوائی میں بعد مدت کے اسے دیکھا تو احساس ہوا ہر دبی چوٹ ابھر آتی ہے پروائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2212 سے 6203