قومی زبان

وفا کے جرم میں اکثر پکارے جاتے ہیں

وفا کے جرم میں اکثر پکارے جاتے ہیں ہم اہل عشق محبت میں مارے جاتے ہیں ہماری لاش تو گرتی ہے جنگ لڑتے ہوئے مگر جو پیٹھ پہ برچھے اتارے جاتے ہیں عمامہ سجتا ہے آخر امیر شہر کے سر ہمارے جیسے عقیدت میں وارے جاتے ہیں میں روک سکتا نہیں خاک کو بکھرنے سے سمندروں کی طرف چل کے دھارے جاتے ...

مزید پڑھیے

جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا

جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا وہ میرا اپنا ہے چھاؤں میں لا کے مارے گا وہ چاہتا تو مری خاک ہی اڑا دیتا یہ کوزہ گر کی عنایت بنا کے مارے گا اسے خبر ہے لڑائی میں ہار سکتا ہے سو اپنا آپ وہ مجھ میں سما کے مارے گا اس ایک خوف سے میں جنگ میں شہید ہوا عدو کمینہ ہے طعنے خدا کے مارے ...

مزید پڑھیے

ملے کچھ عشق میں اتنا قرار کم از کم

ملے کچھ عشق میں اتنا قرار کم از کم ہمارے چہروں پہ آئے نکھار کم از کم سنائی دینے لگے اس کی دھڑکنوں سے صدا کسی سے اتنا تو ہو ہم کو پیار کم از کم ہم اپنے خواب کی تعبیر کچھ نکالیں کیا کہ ایک لمحہ تو ہو پائیدار کم از کم مرے چمن میں خزاں رکھ چکی قدم لیکن مرے خیال کو ملتی بہار کم از ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی دھول نہ منزل نہ راستہ دل کا

نہ کوئی دھول نہ منزل نہ راستہ دل کا نظر سے پار کہیں دور سلسلہ دل کا مرے دماغ نے مجھ کو جگا دیا لیکن اس ایک خواب میں چہرہ ہی رہ گیا دل کا یہ رات کون مرے ساتھ جاگتا رہا ہے یہ رات کس سے ہوا ہے مکالمہ دل کا ہر ایک سمت عزاداریاں ہوئیں قیصرؔ کیا جو میں نے ہے برپا مسالمہ دل کا

مزید پڑھیے

اسی کا درد ہے جس کے جگر کا لاشہ ہے

اسی کا درد ہے جس کے جگر کا لاشہ ہے میں جانتا ہوں کہ باقی تو سب تماشہ ہے میں کیا بتاؤں جو ٹوٹا ہے مجھ پہ ظلم و ستم میں کیا لکھوں کہ مرا درد بے تحاشہ ہے بنی ہیں سازشیں موسم نے دھوپ سے مل کر ہوا نے میرے ہر اک پھول کو خراشا ہے امیر شہر میں تجھ کو تری دہائی دوں کہ میرا تولا بھی تیری نظر ...

مزید پڑھیے

الگ میں سب سے کہانی بھی ہے الگ سب سے

الگ میں سب سے کہانی بھی ہے الگ سب سے سو مجھ کو خاک اڑانی بھی ہے الگ سب سے بدن سے روح نکل کر سما گئی تجھ میں مری یہ نقل مکانی بھی ہے الگ سب سے سمندروں میں نہیں دشت کی طرف اترا یہ میری آنکھوں کا پانی بھی ہے الگ سب سے ملا ہے درد محبت بھی اک زمانے کے بعد مجھے خوشی یہ منانی بھی ہے الگ ...

مزید پڑھیے

نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے

نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے زیادہ بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل کسی کو راز بتاؤگے مارے جاؤ گے ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں شجر کو ہاتھ لگاؤ گے مارے جاؤ گے جو کاندھے پر ہو وہ گردن اتار لیتا ہے کسی کو اونچا اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے ہر ایک آئینہ ...

مزید پڑھیے

وہی تھی کل بھی پسند اور وہی ہے آج پسند

وہی تھی کل بھی پسند اور وہی ہے آج پسند الگ مزاج ہے میرا الگ مزاج پسند میں کیا کروں کہ مری سوچ مختلف ہے بہت میں کیا کروں مجھے آیا نہیں سماج پسند میں اپنی راہ نکالوں گا اپنی مرضی سے مجھے نہیں ہیں زمانے ترے رواج پسند یہ میرا دل مری آنکھیں یہ میرے خواب عذاب اٹھا اے عشق تجھے جو بھی ...

مزید پڑھیے

میں کیسے جھیل سکوں گا بنانے والے کا دکھ

میں کیسے جھیل سکوں گا بنانے والے کا دکھ چھری چھری پہ لکھا ہے لگانے والے کا دکھ غضب کی آنکھ اداکار تھی مگر ہائے تمہاری بات ہنسی میں اڑانے والے کا دکھ غزل میں درد کی پہلے بھی کچھ کمی نہیں تھی اور اس پہ ہو گیا شامل سنانے والے کا دکھ تجھے تو دکھ ہے فقط اپنی لا مکانی کا قیام کر تو ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ کو بھول بھی جائے تو حیرانی نہیں ہوگی

وہ مجھ کو بھول بھی جائے تو حیرانی نہیں ہوگی مجھے ہے راس تنہائی پریشانی نہیں ہوگی میں جو کچھ سوچتی ہوں وہ کبھی کہہ ہی نہیں پائی سو مجھ کو بات کر کے بھی پشیمانی نہیں ہوگی کسی کو یاد کرنے میں جو آسانی ہوئی مجھ کو بھلانے بیٹھ جاؤں تو وہ آسانی نہیں ہوگی خفا ہو کر گیا ہے جس طرح سے ابر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 220 سے 6203