قومی زبان

جل پری ہے تو وہ تسخیر بھی ہو سکتی ہے

جل پری ہے تو وہ تسخیر بھی ہو سکتی ہے خواب ہوتا ہے تو تعبیر بھی ہو سکتی ہے زندگی کو ذرا شطرنج سمجھ کر دیکھو میرے جھک جانے میں تدبیر بھی ہو سکتی ہے مسئلے مجھ کو مٹانے ہی کا سامان نہیں مسئلوں سے مری تعمیر بھی ہو سکتی ہے یار معلوم ہوا ہے کہ خلا خالی نہیں رات آئینے میں تصویر بھی ہو ...

مزید پڑھیے

جو تیرا رنگ تھا اس رنگ سے نہ کہہ پایا

جو تیرا رنگ تھا اس رنگ سے نہ کہہ پایا میں دل کی بات کبھی ڈھنگ سے نہ کہہ پایا کسی خیال میں ترتیب کوئی تھی ہی نہیں سو شعر کوئی بھی آہنگ سے نہ کہہ پایا برادری کے کسی فیصلے نے باندھ دیا میں دل کی بات مری منگ سے نہ کہہ پایا شہید ہونے سے پہلے اسے بھی دیکھنا تھا مگر یہ بات اسے جنگ سے نہ ...

مزید پڑھیے

طناب ذات کسی ہاتھ میں جمی ہوئی ہے

طناب ذات کسی ہاتھ میں جمی ہوئی ہے کہ جیسے وقت کی دھڑکن یہیں رکی ہوئی ہے تجھے روا نہیں پیغام وصل کے بھیجیں لکیر ہجر کی جب ہاتھ پر بنی ہوئی ہے ہر اک دراڑ بدن کی نمایاں ہو گئی ہے کہانی درد کی دیوار پر لکھی ہوئی ہے یوں ہی تو خواب ہمیں دشت کے نہیں آتے ہماری آنکھ کہیں ریت میں دبی ہوئی ...

مزید پڑھیے

مری کہانی کے کردار سانس لیتے ہیں

مری کہانی کے کردار سانس لیتے ہیں میں سانس لوں تو مرے یار سانس لیتے ہیں ہم ایک دشت میں دیتے ہیں زندگی کی نوید ہمارے سینے میں آزار سانس لیتے ہیں کبھی تو وقت کی گردش تھکا بھی دیتی ہے سو تھام کر تری دیوار سانس لیتے ہیں اکھڑنے لگتی ہیں سانسیں الجھ کے سانسوں سے پھر اس کے بعد لگاتار ...

مزید پڑھیے

صبح تک بے طلب میں جاگوں گا

صبح تک بے طلب میں جاگوں گا آج تو بے سبب میں جاگوں گا اس سے پہلے کہ نیند ٹوٹے مری تیرے خوابوں سے اب میں جاگوں گا اب میں سوتا ہوں آپ جاگتے ہیں آپ سوئیں گے جب میں جاگوں گا دوست آگے نکل چکے ہوں گے نیند سے اپنی جب میں جاگوں گا معتبر ہوں میں قافلے کے لیے ڈٹ کے سوئیں گے سب میں جاگوں ...

مزید پڑھیے

تمہارے بعد تمہی تم رہے ہو آنکھوں میں (ردیف .. ی)

تمہارے بعد تمہی تم رہے ہو آنکھوں میں تمہاری تو مرے خوابوں تلک رسائی رہی سب آس پاس تھے لیکن نظر نہیں آئے تعلقات پہ اتنی سموگ چھائی رہی تری خدائی کو ہم دیکھ ہی نہیں پائے کہ ہم پہ تو ترے بندوں ہی کی خدائی رہی سفر کٹے کہ نہیں نقش پا رہے لیکن خیال و خواب رہے رنگت حنائی رہی یہ کیسا ...

مزید پڑھیے

کب تک وہ محبت کو نبھاتا نظر آتا

کب تک وہ محبت کو نبھاتا نظر آتا اب میں بھی نہیں جان سے جاتا نظر آتا تم تو مری ہر سمت ہواؤں کی طرح ہو موسم کوئی فرقت کا جو آتا نظر آتا ہے روشنی اتنی کہ دکھائی ہی نہ کچھ دے ورنہ ہمیں اس طاق میں داتا نظر آتا چلتی ذرا تیزی سے ہوا تو میں پتنگیں کچھ اور بلندی پہ اڑاتا نظر آتا منظر میں ...

مزید پڑھیے

وعدے دیے تھے اس نے نشانی تو تھی نہیں

وعدے دیے تھے اس نے نشانی تو تھی نہیں یادوں پہ ہم نے فلم بنانی تو تھی نہیں بس دیکھنا تھا تیری ہتھیلی پہ ایک نام ہم نے تمہاری شام چرانی تو تھی نہیں کردار کی اذیتیں کچھ پوچھئے نہ بس بے ربط تھیں لکیریں کہانی تو تھی نہیں ہر ایک شخص کھوجنے میں تھا لگا ہوا میں نے کسی کو بات بتانی تو ...

مزید پڑھیے

شکستہ خواب مرے آئینے میں رکھے ہیں

شکستہ خواب مرے آئینے میں رکھے ہیں یہ کیا عذاب مرے آئنے میں رکھے ہیں ابھی تو عشق کی پرتیں کھلیں گی تہہ در تہہ ابھی حجاب مرے آئنے میں رکھے ہیں پڑھا رہے ہو مجھے تم یہ کس جہاں کے سبق مرے نصاب مرے آئنے میں رکھے ہیں تمہارے خواب سلامت ہیں اجڑی آنکھوں میں جو زیر آب مرے آئنے میں رکھے ...

مزید پڑھیے

کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی

کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی غزل کا ہونا ہوا ہے کمال ویسے ہی ہمارے حسن نظر کا کمال کچھ بھی نہیں تو کیا تمہارا ہے سارا جمال ویسے ہی ترا وصال کہ جس طور میرے بس میں نہیں ہوا ہے ہجر میں جینا محال ویسے ہی ترا جواب مرے کام کا نہیں ہے اب کہ میں تو بھول چکا ہوں سوال ویسے ہی کہا یہ کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 219 سے 6203