قومی زبان

رتیلی کتنی ہوا ہے ارد گرد

رتیلی کتنی ہوا ہے ارد گرد ہر نظر اک آئنہ ہے ارد گرد حسرتوں کی سرزمیں خوں‌ ریز ہے خواہشوں کی کربلا ہے ارد گرد اک حقیقت ہیں مری تنہائیاں ایک احساس خدا ہے ارد گرد زندگی کچا گھڑا دنیا چناب تیز رو پانی چلا ہے ارد گرد کیا خبر کب کون جینا چھوڑ دے تاک میں کس کی قضا ہے ارد گرد جتنی ...

مزید پڑھیے

غبار عشق سے ہستی کو بھرنے والا ہوں میں

غبار عشق سے ہستی کو بھرنے والا ہوں میں یہ روشنی تو سر چاک دھرنے والا ہوں میں خمیر ذوق تجھے منزلوں پہ لائے گا وفور شوق میں جاں سے گزرنے والا ہوں میں خراب کرتی رہیں مجھ کو سنگتیں ہی تری ہر اک بگاڑ پہ سمجھا سنورنے والا ہوں میں کسی کی رائے پہ کب کان دھرنے والا ہوں میں یہ عمر اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

وقت کی برف ہے ہر طور پگھلنے والی

وقت کی برف ہے ہر طور پگھلنے والی دن بھی ہے زیر سفر شام بھی ڈھلنے والی عشق سائے کی طرح ساتھ چپک جاتا ہے یہ بلا تو نہ کسی طور ہے ٹلنے والی ہم وہ پہیے جو اگر ساتھ برابر نہ چلے ایک میٹر بھی یہ گاڑی نہیں چلنے والی ایک دھڑکا ہے مرے دل کو خبرداری کا ایک خواہش ہے مرے ذہن میں پلنے ...

مزید پڑھیے

یہ عشق اک امتحان تو لے میں پاس کر لوں

یہ عشق اک امتحان تو لے میں پاس کر لوں حدود ہوں تو حدود ساری کراس کر لوں بہت کٹھن مسئلوں کی تحلیل بھی ہے ممکن اگر میں اک مسئلے کے ٹکڑے پچاس کر لوں تمام قدرت کھڑی ہے امکاں کے نظریے پر قدم اٹھانے سے پہلے سکے سے ٹاس کر لوں کسان کھیتوں سے گھر نہ جا پایا سوچتا تھا اکٹھی پہلے میں عمر ...

مزید پڑھیے

ہیں کام کاج اتنے بدن سے لپٹ گئے

ہیں کام کاج اتنے بدن سے لپٹ گئے لوگوں کے شہر بھر سے روابط ہی کٹ گئے منظر تھے دور دور تو کتنے حسین تھے تصویر زوم کی ہے تو پکسل ہی پھٹ گئے چہرے جھلس چکے ہیں تماشائے عشق میں اے عشق کس طرح ترے معیار گھٹ گئے میں خواب خامشی مرا سایہ ہوئے ہیں جمع جب لوگ اپنے اپنے گروہوں میں بٹ ...

مزید پڑھیے

کام اتنے ہیں کہ آرام نہیں جانتے ہیں

کام اتنے ہیں کہ آرام نہیں جانتے ہیں لوگ یہ سب سے اہم کام نہیں جانتے ہیں فیس بک پر ہیں مرے جاننے والے لاکھوں میرے ہم سایے مرا نام نہیں جانتے ہیں عشق میں ذہن کو تکلیف نہ دی دل کی سنی ہم اسی واسطے انجام نہیں جانتے ہیں ہمیں بس اتنا پتا ہے کہ خدا ہوتا ہے ہم ان اقسام کی اقسام نہیں ...

مزید پڑھیے

دیوار و در تھے جان سرائے نکل گئے

دیوار و در تھے جان سرائے نکل گئے اس بار سائبان سے سائے نکل گئے دنیا مشاعرہ ہے سو زخموں کی داد ہو ہم آئے چند شعر سنائے نکل گئے ہم اپنے دل کے شوق بھلا کب نکالیں گے تنخواہ میں تو صرف کرائے نکل گئے جس نے عمل کیا اسے مہنگا بہت پڑا فارغ تو دے کے مفت میں رائے نکل گئے آنکھیں جھپک رہا ...

مزید پڑھیے

پھیلی ہوئی ہے ساری دشاؤں میں روشنی

پھیلی ہوئی ہے ساری دشاؤں میں روشنی لیکن نہیں چراغ کی چھاؤں میں روشنی اب تو پنپنے والی ہیں روشن خیالیاں آئی نئی نئی مرے گاؤں میں روشنی اک ہاتھ دوسرے کو سجھائی نہ دے مگر ہم نے چھپا رکھی ہے رداؤں میں روشنی دین و معاشیات و سیاست کے پیشوا ذہنوں میں تیرگی تو اداؤں میں روشنی سب لوگ ...

مزید پڑھیے

جڑ جائیں تصاویر تو بن جائے کہانی

جڑ جائیں تصاویر تو بن جائے کہانی لمحات اکٹھے ہوں تو کہلائے کہانی مرنا ہی حقیقت ہے تو پھر زندگی کیا ہے یہ دھوپ کی شدت یہ گھنے سائے کہانی سب کیمرے تقدیر کی جانب ہی مڑے ہیں کوئی مری محنت پہ بھی فلمائے کہانی اک دائرے میں گھومتی ہے سوئی گھڑی کی ہر بار زمانہ وہی دہرائے کہانی ہم سے ...

مزید پڑھیے

دنیا وہ راستے کی رکاوٹ ہے دوستو

دنیا وہ راستے کی رکاوٹ ہے دوستو جس سے ہمیں شدید لگاوٹ ہے دوستو چھت پر کھڑے ہیں پھر بھی نظر آسماں پہ ہے پانی میں تشنگی کی ملاوٹ ہے دوستو اک تو یہ راستے ہیں کہ جیسے ہوں دائرے اس پر مسافتوں کی تھکاوٹ ہے دوستو ہم سب کو کیا پڑی کہ تعلق بنائیں ہم چہروں پہ پر فریب بناوٹ ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 218 سے 6203