وحشت غم میں اچانک ترے آنے کا خیال
وحشت غم میں اچانک ترے آنے کا خیال جیسے نادار کو گم گشتہ خزانے کا خیال اس محبت میں ہدف کوئی بھی بن سکتا ہے اس میں رکھا نہیں جاتا ہے نشانے کا خیال وہ کبوتر تو اسی دن سے مرے جال میں ہے جب اسے پہلے پہل آیا تھا دانے کا خیال میں کناروں کو کبھی دھیان میں لاتا ہی نہیں لطف دیتا ہے مجھے ...