قومی زبان

بے یقینی کے پھول

خاموشی کے جوہڑ میں کھلنے والے پھول سنسان جنگلوں کی دہشت اور ہلاکت خیز آندھیوں کے خوف کے سبب جلال و جمال سے خالی رہ جاتے ہیں موسموں کے گرم اور تلخ لمس انہیں شفاف اور شیریں نہیں رہنے دیتے شوق اور آرزو کی آگ بے چین رکھتی ہے انہیں وہ نہیں جانتے کہ شکستہ اور پگھلے ہوئے جذبات کے سمندر ...

مزید پڑھیے

گناہ

محبت برملا اظہار ہے سچے تعلق کا اگر کوئی کہے چھپ کر مجھے تم سے محبت ہے بھروسہ تم نہیں کرنا گناہ کے واسطے خلوت ہی تو درکار ہوتی ہے

مزید پڑھیے

لے کے دل کہتے ہو الفت کیا ہے

لے کے دل کہتے ہو الفت کیا ہے حسن والو یہ شرارت کیا ہے اک اچٹتی سی تغافل کی نگاہ حیلہ عرض محبت کیا ہے خود ہی نادم ہوں وفا پر اپنی اس تبسم کی ضرورت کیا ہے مجھ کو بہتان‌‌ ہوس بھی منظور کون سمجھے گا حقیقت کیا ہے نکہت و نور کے سانسوں کا کماں ورنہ تو کیا مری صورت کیا ہے قامت یار کی ...

مزید پڑھیے

ی تو گلہ نہیں ہے کہ دل کو سکوں نہیں

ی تو گلہ نہیں ہے کہ دل کو سکوں نہیں لیکن سکوں تو چارۂ درد دروں نہیں آنکھوں میں بیقرار کوئی موج خوں نہیں شاید ابھی بہار پہ زخم دروں نہیں ہر سانس دے رہا تھا بظاہر پیام زیست لیکن مرا گمان یہی ہے کہ ہوں نہیں ملتا ہے دل کو تیری گلی میں سکون سا کیا اس زمین پر فلک نیلگوں نہیں اے عقل ...

مزید پڑھیے

نہ تم زباں سے جواب دینا

نہ تم زباں سے جواب دینا جو دے سکو تو گلاب دینا نہ کہہ سکو تو، تو ایسا کرنا کہ پھول رکھ کر کتاب دینا نہ میں محبت میں تم سے لوں گی نہ تم ہی مجھ کو حساب دینا مری طرف سے بھی لے کے جانا یہ پھول ان کی جناب دینا

مزید پڑھیے

مری محبت بھی نیلگوں ہے (ردیف .. ا)

مری محبت بھی نیلگوں ہے میں اس کو دوں گی گلاب نیلا چمکتے عارض گھٹا سے گیسو ہٹا دیا ہے نقاب نیلا فلک سے آگے پلک سے آگے نظر میں رکھا شہاب نیلا ہے نغمہ آہنگ زندگی بھی ہے ساز موج رباب نیلا ہرے سمندر کے پاس جاؤں تو وہ بھی نکلے سراب نیلا جو لال لفظوں سے خط لکھا تھا مجھے ملا ہے جواب ...

مزید پڑھیے

محو رقص وصال تھا کیا تھا

محو رقص وصال تھا کیا تھا وہ سراپا غزال تھا کیا تھا صبح روشن کسی کے ہونٹوں کا رنگ کچھ کچھ جو لال تھا کیا تھا بزم جاں میں بہت تھی خاموشی جانے اس کا خیال تھا کیا تھا ایک جلتا ہوا نشیمن تھا وہ مرے حسب حال تھا کیا کیا تھا شعریت ڈھل رہی تھی صورت میں یا وہ رقص جمال تھا کیا تھا نیلؔ ...

مزید پڑھیے

میں اپنے آپ کو روکوں کہاں تک

میں اپنے آپ کو روکوں کہاں تک فغاں جاتی ہے میری لا مکاں تک ترے قدموں کی آہٹ گونجتی ہے وہیں تک میں گئی ہوں تو جہاں تک نظارہ بھی حسیں تھا قربتوں کا دھنک پھیلی زمیں سے آسماں تک جہاں پہ تیرگی بھی روشنی ہو کبھی دیکھا ہے تم نے کیا وہاں تک

مزید پڑھیے

بے لباسی تباہ کر دے گی

بے لباسی تباہ کر دے گی یہ اداسی تباہ کر دے گی جو گماں کو یقین میں بدلا روح پیاسی تباہ کر دے گی خود فریبی رہے تو اچھا ہے خود شناسی تباہ کر دے گی واہمہ واہمہ ہی رہنے دو حق شناسی تباہ کر دے گی خود کو رکھ کے نہ بھول جاؤں کہیں بد حواسی تباہ کر دے گی

مزید پڑھیے

یوم مزدور

دیوار پہ مزدور کی تصویر سجا کر اخبار کے کونے میں خبر ایک لگا کر کچھ کارڈ بھی مزدور کے ہاتھوں میں اٹھا کر دو چار غریبوں کو بھی دھرتی پہ بٹھا کر ان میں سے کسی ایک کو اسٹیج پر لا کر پھر اس کی کہانی سبھی لوگوں کو سنا کر تقریر کرا کر تو کبھی تالی بجا کر مزدور کو مزدور کا عرفان دلا کر اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2156 سے 6203