قومی زبان

نہیں ہے ارے یہ بغاوت نہیں ہے

نہیں ہے ارے یہ بغاوت نہیں ہے ہمیں سر جھکانے کی عادت نہیں ہے چھپائے ہوئے ہیں وہی لوگ خنجر جو کہتے کسی سے عداوت نہیں ہے کروں کیا پروں کا اگر ان سے مجھ کو فلک ناپنے کی اجازت نہیں ہے اٹھا کر گرانا گرا کر مٹانا ہمارے یہاں کی روایت نہیں ہے ملا کر نگاہیں جھکاتے جو گردن وہی کہہ رہے ...

مزید پڑھیے

مشکلوں کی یہی ہیں بڑی مشکلیں

مشکلوں کی یہی ہیں بڑی مشکلیں آپ جب چاہیں کم ہوں تبھی یہ بڑھیں اب کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں یاد تجھ کو کریں اور زندہ رہیں بس اسی سوچ ثے جھوٹ قائم رہا بول کر سچ بھلا ہم برے کیوں بنیں ڈالیوں پے پھدکنے سے جو مل گئی اس خوشی کے لیے کیوں فلک پر اڑیں ہم درندے نہیں گر ہیں انسان تو آئنہ ...

مزید پڑھیے

جئے خود کے لیے گر ہم مزا تب کیا ہے جینے میں

جئے خود کے لیے گر ہم مزا تب کیا ہے جینے میں بہے اوروں کی خاطر جو ہے خوشبو اس پسینے میں ہے جن کے بازوؤں میں دم وہ دریا پار کر لیں گے بہت ممکن ہے ڈوبیں وہ جو بیٹھے ہیں سفینے میں یہ کیسا دور آیا ہے سروں پر تاج ہے ان کے نہیں معلوم جن کو فرق پتھر اور نگینے میں ہمارے دوستوں کی مسکراہٹ ...

مزید پڑھیے

نزاکت ہے نہ خوشبو اور نہ کوئی دل کشی ہی ہے

نزاکت ہے نہ خوشبو اور نہ کوئی دل کشی ہی ہے گلوں کے ساتھ پھر بھی خار کو رب نے جگہ دی ہے کسی کی یاد چپکے سے چلی آتی ہے جب دل میں کبھی گھنگھرو سے بجتے ہیں کبھی تلوار چلتی ہے وہی کرتے ہیں دعویٰ آگ نفرت کی بجھانے کا کہ جن کے ہاتھ میں جلتی ہوئی ماچس کی تیلی ہے ہٹو کرنے دو اپنے من کی بھی ...

مزید پڑھیے

شوق کو عازم سفر رکھیے

شوق کو عازم سفر رکھیے بے خبر بن کے سب خبر رکھیے چاہے نظریں ہو آسمانوں پر پاؤں لیکن زمین پر رکھیے بات ہے کیا یہ کون پرکھے گا آپ لہجے کو پر اثر رکھیے جانے کس وقت کوچ کرنا ہو اپنا سامان مختصر رکھیے ایک ٹک مجھ کو دیکھے جاتی ہیں اپنی نظروں پہ کچھ نظر رکھیے

مزید پڑھیے

میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو

میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو کرب تنہائی میں جینے کی دعا دو مجھ کو فن تمہارا تو کسی اور سے منسوب ہوا کوئی میری ہی غزل آ کر سنا دو مجھ کو حال بے حال ہے تاریک ہے مستقبل بھی بن پڑے تم سے تو ماضی مرا لا دو مجھ کو آخری شمع ہوں میں بزم وفا کی لوگو چاہے جلنے دو مجھے چاہے بجھا دو مجھ ...

مزید پڑھیے

تا حشر ضد میں صبح کی آتی رہے گی شام

تا حشر ضد میں صبح کی آتی رہے گی شام گل ہوں گے جو چراغ جلاتی رہے گی شام ہر شام لے کے آئے گی پیغام صبح کا ہر صبح جل کے دھوپ میں لاتی رہے گی شام شمعیں جلا کے شام سے نفرت کریں گے لوگ لوگوں کو پیار کرنا سکھاتی رہے گی شام تزئین چشم ہو نہ ہو کاجل کی دھار سے بے وقت بھی جہان میں آتی رہے گی ...

مزید پڑھیے

صرف اک لرزش ہے نوک خار پر شبنم کی بوند (ردیف .. ے)

صرف اک لرزش ہے نوک خار پر شبنم کی بوند پھر بھی اس فرصت پر اس کی مجھ کو رشک آ جائے ہے میری تنہائی نہ پوچھو جیسے کوئی نقش پا دور صحرا کے کسی گوشہ میں پایا جائے ہے سنگ کیا ہے بس سراپا انتظار بت تراش زندگی کا خواب لوگو یوں بھی دیکھا جائے ہے شب کا وہ پچھلا پہر اور پھیکی پھیکی ...

مزید پڑھیے

درد دل میں مگر لب پہ مسکان ہے

درد دل میں مگر لب پہ مسکان ہے حوصلوں کی ہمارے یہ پہچان ہے لاکھ کوشش کرو آ کے جاتی نہیں یاد اک بن بلائی سی مہمان ہے کھلکھلاتا ہے جو آج کے دور میں اک عجوبے سے کیا کم وہ انسان ہے زر زمیں سلطنت سے ہی ہوتا نہیں جو دے بھوکے کو روٹی، وہ سلطان ہے میر، تلسی، ظفر، جوش، میرا، کبیر دل ہی ...

مزید پڑھیے

بعد مدت کے وہ ملا ہے مجھے

بعد مدت کے وہ ملا ہے مجھے ڈر جدائی کا پھر لگا ہے مجھے آ گیا ہوں میں دسترس میں تری اپنے انجام کا پتہ ہے مجھے کیا کروں یہ کبھی نہیں کہتا جو کروں اس پہ ٹوکتا ہے مجھے تجھ سے مل کے میں جب سے آیا ہوں ہر کوئی مڑ کے دیکھتا ہے مجھے اب تلک کچھ ورق ہی پلٹے ہیں تجھ کو جی بھر کے بانچنا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2152 سے 6203