قومی زبان

یہ نہ سمجھو کہ صرف پانی ہے

یہ نہ سمجھو کہ صرف پانی ہے اس کی آنکھوں میں اک کہانی ہے خواب میں آئینہ چمکتے ہیں نیند ایسے میں کیسے آنی ہے ہم سرابوں سے مطمئن تھے مگر کوئی بولا کہ آگے پانی ہے مفلسی میں بھی ہنس رہا ہے وہ کس کی اس دل پے حکمرانی ہے ایسے حالات میں بھی ہوں زندہ یہ کتابوں کی مہربانی ہے

مزید پڑھیے

رنگ جتنے ہیں مری شام و سحر کے

رنگ جتنے ہیں مری شام و سحر کے منتظر رہتے ہیں اس کی اک نظر کے حال ہم سے پوچھ مت دیوار و در کے گھر میں رہ کر بھی نہیں ہم اپنے گھر کے حوصلے کچھ پست تھے دیدۂ تر کے ہم نے ہر غم رکھ لیا تصویر کر کے کوئی تو بازار میں دوکان ہوتی بیچتی جو مشکلیں آسان کر کے ایک منظر میں نہاں تھے اور ...

مزید پڑھیے

میں ہوا کے دوش پہ رکھا ہوا

میں ہوا کے دوش پہ رکھا ہوا پتہ ہوں پر شاخ سے ٹوٹا ہوا رات کی گلک میں کرتا جمع ہوں پورے دن کا جو بھی ہے جوڑا ہوا تتلیاں اکثر ہیں مجھ سے پوچھتی پاس میرے پھول تھا جو کیا ہوا وو کوئی سایہ نہیں تھا میں ہی تھا دھوپ تیرا خواہ مخواہ حرجا ہوا پیاس اپنی جڑ سے میں نے ختم کی دریا ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

ملا ہے اپنے ہونے کا نشاں اک

ملا ہے اپنے ہونے کا نشاں اک سنی صدیوں پرانی داستاں اک ہماری سوچ تو ملتی ہے کتنی مگر کیوں کر نہیں اپنی زباں اک مرا ہر اک یقیں جھٹلا رہا ہے وہ جو مجھ میں مکیں ہے بد گماں اک ہوئے ہیں بے معانی بال و پر اب ملا نیچے زمیں کے آسماں اک برے لوگوں سے ملواتا ہے مجھ کو جتاتا ہے وہی اچھا یہاں ...

مزید پڑھیے

جب جب میں زندگی کی پریشانیوں میں تھا

جب جب میں زندگی کی پریشانیوں میں تھا اپنوں کے باوجود بھی تنہائیوں میں تھا آبادیوں نے سارے بھرم ہی مٹا دیے اس سے زیادہ خوش تو میں ویرانیوں میں تھا ساحل پہ جو کھڑے تھے انہیں موج لے گئی میں بچ گیا کی یار میں طغیانیوں میں تھا آسانیوں میں زیست ہی بے کیف ہو گئی جینے کا اصل لطف تو ...

مزید پڑھیے

کوئی رتبہ تو کوئی نام نسب پوچھتا ہے

کوئی رتبہ تو کوئی نام نسب پوچھتا ہے اب جہاں میں کوئی کردار کا کب پوچھتا ہے تو نے کس درجہ نبھایا ہے پرستش کا نظام چاہے پوچھے نہ کبھی کوئی وہ رب پوچھتا ہے چھین لیتا ہے وہ پہلے مری خوشیوں کی وجہ اور پھر مجھ سے مرے غم کا سبب پوچھتا ہے سسکیاں گھول کے اشکوں کو نگلنے کا ہنر مانو مت ...

مزید پڑھیے

غم کے بے نور مزاروں کا گلا گھونٹ آیا

غم کے بے نور مزاروں کا گلا گھونٹ آیا سارے بے مہر سہاروں کا گلا گھونٹ آیا قریۂ ہجر کے اک گھر کا وہ ویران آنگن وصل کے شوخ نظاروں کا گلا گھونٹ آیا راہ کے سنگ کو سولی پہ چڑھایا پہلے اور پھر پاؤں کے خاروں کا گلا گھونٹ آیا روز سورج کہ طرف سے یہ سوال آتا ہے کیا میں ان چند ستاروں کا گلا ...

مزید پڑھیے

ان کا دیدار میری قسمت میں

ان کا دیدار میری قسمت میں عشق تو خوش ہے اتنی اجرت میں میں نے سب کچھ ہی سوچ رکھا ہے مجھ کو ڈالو گے کیسے حیرت میں آئنہ روز مسکراتا ہے کچھ تو اچھا ہے میری صورت میں روشنی نے سکھائی چالاکی کتنا معصوم تھا میں ظلمت میں جانے وہ کس خیال میں گم تھا بات کر بیٹھا مجھ سے غفلت میں میں نہ ...

مزید پڑھیے

تیرے حصے کا بچ گیا ہے کچھ

تیرے حصے کا بچ گیا ہے کچھ میری آنکھوں میں چبھ رہا ہے کچھ ہم بھی ماہر ہیں اب تیرے فن میں دل میں ہے کچھ مگر کہا ہے کچھ یاد کرنا تمہیں ہے عادت میں ورنہ دل میں نہیں بچہ ہے کچھ دن میں بھی سوچتے ہیں ہم تجھ کو رات اس بات پے خفا ہے کچھ نہ ہوا میرا اور نہ اس کا ہی دل کے ہونے کا فائدہ ہے ...

مزید پڑھیے

روشنی کا ساتھ مہنگا پڑ گیا ہے

روشنی کا ساتھ مہنگا پڑ گیا ہے جانے کس وحشت میں سایہ پڑ گیا ہے آپ کی جادوگری کے واسطے ہی خود کو حیرت میں دکھانا پڑ گیا ہے پھر مجھے درپیش ہیں خوشیاں تمہاری پھر سے غم اپنا چھپانا پڑ گیا ہے ہم کہاں ان کو بٹھائیں سوچ میں ہیں گھر ہمارا کتنا چھوٹا پڑ گیا ہے دشت کی عظمت بھی اب خطرے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2132 سے 6203