قومی زبان

آئینہ سا اندھیری رات کا میں

آئینہ سا اندھیری رات کا میں خواب ہوں خواہش نشاط کا میں خوف اک ٹوٹتی قنات کا میں یا تذبذب حصار ذات کا میں چال سے کس کی پٹ گیا ہوں میں جانے مہرہ ہوں کس بساط کا میں میں ہوں اپنے ہنر پہ وارفتہ یا ہوں قاتل تری صفات کا میں ڈوبتی آنکھ میں تصور سا دھوپ میں رنگ بے حیات کا میں بے ثباتی ...

مزید پڑھیے

لہو کی بے بسی کو یوں نہ رسوا چھوڑ دینا تھا

لہو کی بے بسی کو یوں نہ رسوا چھوڑ دینا تھا کچھ اس میں غیرت جاں کا حوالہ چھوڑ دینا تھا میں آئینوں میں خود کو ڈھونڈھتا ہوں خود نہیں ملتا مرے چہروں میں کوئی میرا چہرہ چھوڑ دینا تھا عجب گھر ہیں کہ جن میں کوئی کھڑکی ہے نہ دروازہ ہوا کے آنے جانے کا تو رستہ چھوڑ دینا تھا عبث ساحل پہ تم ...

مزید پڑھیے

پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہوگی

پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہوگی ریت پر لکھی ہوئی میری کہانی ہوگی وقت الفاظ کا مفہوم بدل دیتا ہے دیکھتے دیکھتے ہر بات پرانی ہوگی کر گئی جو مری پلکوں کے ستارے روشن وہ بکھرتے ہوئے سورج کی نشانی ہوگی پھر اندھیرے میں نہ کھو جائے کہیں اس کی صدا دل کے آنگن میں نئی شمع جلانی ...

مزید پڑھیے

وہ ایک نظر میں مجھے پہچان گیا ہے

وہ ایک نظر میں مجھے پہچان گیا ہے جو بیتی ہے دل پر مرے سب جان گیا ہے رہنے لگا دل اس کے تصور سے گریزاں وحشی ہے مگر میرا کہا مان گیا ہے تھا ساتھ نبھانے کا یقیں اس کی نظر میں محفل سے مری اٹھ کے جو انجان گیا ہے اوروں پر اثر کیا ہوا اس ہوش ربا کا بس اتنی خبر ہے مرا ایمان گیا ہے چہرے پہ ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا کیسے کیسے لطف ...

مزید پڑھیے

کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے

کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی میرا ماضی ...

مزید پڑھیے

ساتھ میرے اپنے سائے کے سوا کوئی نہ تھا

ساتھ میرے اپنے سائے کے سوا کوئی نہ تھا اجنبی تھے سب جہاں میں آشنا کوئی نہ تھا سارے رشتے ریت کی دیوار تھے موسم کے پھول بات کا سچا یہاں دل کا کھرا کوئی نہ تھا جن کے دھوکے تھے مثالی جن کی باتیں نیشتر صرف ہم محسن تھے ان کے دوسرا کوئی نہ تھا زندگی کی دوڑ میں ہر شخص تھا بے آسرا شور بے ...

مزید پڑھیے

محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی

محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی میری پسند کتنے ہی خانوں میں بٹ گئی تنہائیوں کی برف پگھلتی نہیں ہنوز وعدوں کے اعتبار کی بھی دھوپ چھٹ گئی ہم نے وفا نبھائی بڑی تمکنت کے ساتھ اپنے ہی دم پہ زندہ رہے عمر کٹ گئی دور خرد وہ دور خرد ہے کہ کیا کہیں قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ ...

مزید پڑھیے

ہجر کا موسم جھیلی ہو

ہجر کا موسم جھیلی ہو ایسی ایک سہیلی ہو تیرے قرب کی خوشبو ہو چمپا ہو نہ چنبیلی ہو ایسا کون سا دریا ہے جس نے پیاس نہ جھیلی ہو ہر اک راہ پہ ساتھ چلے ایسا الھڑ بیلی ہو اس کی ہر اک بات ہے یوں جیسے کوئی پہیلی ہو

مزید پڑھیے

تری قربت میں جو رہی ہوگی

تری قربت میں جو رہی ہوگی رات مغرور ہو رہی ہوگی کب سے خوشبو نظر نہیں آئی اس کے پہلو میں سو رہی ہوگی یاد کر کے ہماری فرقت کو اپنا آنچل بھگو رہی ہوگی ہم نے صحرا کو چھان مارا ہے پیاس پانی میں سو رہی ہوگی جا کے شب کو ذرا جگا لاؤ اس کی زلفوں میں سو رہی ہوگی

مزید پڑھیے
صفحہ 2107 سے 6203