قومی زبان

خوشی میں غم کی حالت کر کے دیکھوں

خوشی میں غم کی حالت کر کے دیکھوں اسے اپنی ضرورت کر کے دیکھوں زمانہ کہہ رہا ہے جانے کیا کیا کبھی میں بھی محبت کر کے دیکھوں نظر میں اب یہی اک راستا ہے کہ خوابوں کو حقیقت کر کے دیکھوں چلے ہیں آسماں چھونے کئی لوگ ذرا میں بھی تو ہمت کر کے دیکھوں خود اپنے آپ سے اک روز قیصرؔ میں اپنی ...

مزید پڑھیے

خدا پر ہی سدا ایمان رکھنا

خدا پر ہی سدا ایمان رکھنا بہر صورت اسی کا دھیان رکھنا تعلق ختم تو تم کر رہے ہو مگر کچھ صلح کا امکان رکھنا ملاؤ ہاتھ سب کھل کے لیکن مزاجوں کی بھی کچھ پہچان رکھنا عجب فطرت کسی کی ہو گئی ہے نگاہوں کو مری حیران رکھنا کٹھن ہے راہ سچائی کی قیصرؔ ہتھیلی پر ہمیشہ جان رکھنا

مزید پڑھیے

اپنے افکار و انداز نیا دیتا ہوں

اپنے افکار و انداز نیا دیتا ہوں خشک منظر میں حسیں رنگ ملا دیتا ہوں کتنا ہوتا ہے مرے دل کو خوشی کا احساس کوئی پودا جو سر راہ لگا دیتا ہوں ویسے تو سارے زمانے سے چھپا ہے مرا حال تم اگر پوچھ رہے ہو تو بتا دیتا ہوں روز ہوتی ہے ہواؤں سے لڑائی میری روز دہلیز پہ اک شمع جلا دیتا ہوں کیا ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ اک نئی تفسیر ہے

لمحہ لمحہ اک نئی تفسیر ہے زندگی کیسی تری تصویر ہے دیکھے دیتی ہے کیا اب یہ صدی ہر کسی کے ہاتھ میں شمشیر ہے آپ میرے سامنے بیٹھے ہیں یہ خواب ہے یا خواب کی تعبیر ہے آئنے پر گفتگو مت کیجیے آئنہ ناقابل تسخیر ہے ٹوٹنا گرنا بکھرنا ایک دن ہر عمارت کی یہی تقدیر ہے

مزید پڑھیے

دہن کا لب کا ذقن کا جبیں کا بوسہ دو

دہن کا لب کا ذقن کا جبیں کا بوسہ دو ہمیں تو لینے سے مطلب کہیں کا بوسہ دو بہت دنوں میں تمہیں بس میں داؤ سے لایا جہاں جہاں کا میں مانگوں وہیں کا بوسہ دو نہ ترش رو ہو نہ کھٹے کرو ہمارے دانت مزا ہے ہنس کے لب شکریں کا بوسہ دو ہزار کیجیے انکار میں نہ مانوں گا میں سننے والا نہیں ہوں ...

مزید پڑھیے

پہلے خود کو جلائے گا سورج

پہلے خود کو جلائے گا سورج پھر کہیں جگمگائے گا سورج لمحہ لمحہ کرے گا ایک جگہ اور صدیاں بنائے گا سورج میرے آنسو نہ پی سکا اب تک یوں تو دریا سکھائے گا سورج بہتے پانی میں جھانک لینے دو خود بخود ڈگمگائے سورج زلف لہرا کے مت چلو دن میں راستہ بھول جائے گا سورج چل کے ندرت نوازؔ کے گھر ...

مزید پڑھیے

وہ جدھر بھی نظر اٹھاوے ہے

وہ جدھر بھی نظر اٹھاوے ہے زندگی کا پتہ بتاوے ہے دور تک کوئی بھی نہیں اب تو کون یہ شور سا مچاوے ہے اس سڑک پر وہ گھر نہیں ملتا جو سڑک اس کے گھر کو جاوے ہے کوئی تو بات ہے جو میں چپ ہوں ورنہ یوں کون دل جلاوے ہے میں تو اس کا پتہ ہوں لیکن وہ مجھ سے اپنا پتہ چھپاوے ہے اس سے کٹتا نہیں ...

مزید پڑھیے

عکس ہر طرح کے خوش ہو کے ہمیں پینے ہیں

عکس ہر طرح کے خوش ہو کے ہمیں پینے ہیں ہم بھی دیواروں پہ لٹکے ہوئے آئینے ہیں تیرتی کائی کے ٹکڑے یہ صدا دیتے تھے چاک ندیوں کے گریبان ہمیں سینے ہیں کھا گئی ان کو بھی آخر مرے ماحول کی دھوپ جلتی شاخوں سے بھی کچھ سائے اگر چھینے ہیں سیڑھیاں دل کے تقاضوں کی چڑھو گے کب تک جن کا آخیر ...

مزید پڑھیے

اشک مری آنکھ کے قرین کہیں تھا

اشک مری آنکھ کے قرین کہیں تھا غم جو مرے دل میں جاگزین کہیں تھا چھوڑ گیا تو مجھے جی کیسے بہلتا تجھ سا زمانے میں کیا حسین کہیں تھا راہ گزاروں سے یہ مکان کہے ہے راہ میں دیکھا مرا مکین کہیں تھا میں کہ نہ مرتا تھا مجھ کو مار گیا پھر یار سا اک مار آستین کہیں تھا ہار مقدر نیازؔ ہونی ...

مزید پڑھیے

اچھوتا گر نہیں مضموں تو سادہ باندھ لیتے ہیں

اچھوتا گر نہیں مضموں تو سادہ باندھ لیتے ہیں غزل اک اور لکھنے کا ارادہ باندھ لیتے ہیں کہاں قسمت میں شعروں کی خزینے اب خیالوں کے ہم اکثر اپنی سوچوں کا برادہ باندھ لیتے ہیں وہی چاہت کہ میں جس میں رہا ہوں مبتلا برسوں خیال آیا تو سوچا پھر اعادہ باندھ لیتے ہیں گنوا دیتے ہیں ہاتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2094 سے 6203