قومی زبان

زندگی تنگ ترے الاپ سے میں

زندگی تنگ ترے الاپ سے میں ڈرنے لگتا ہوں اپنی چاپ سے میں وجد میں تھاپ مجھ سے لپٹی ہے اور لپٹا ہوا ہوں تھاپ سے میں تجھ سے ملنے کی آرزو لے کر آج نکلا ہوں اپنے آپ سے میں سرد راتوں میں آہ بن کے اٹھی جل گیا تھا وہیں پہ بھاپ سے میں تھی کڑی دھوپ گھر سے باہر تو پر کبھی کہہ سکا نہ باپ سے ...

مزید پڑھیے

حیرت و خوف کے محور سے نکل پڑتے ہیں

حیرت و خوف کے محور سے نکل پڑتے ہیں آؤ آسیب زدہ گھر سے نکل پڑتے ہیں جسم کو اور سمیٹوں تو رگ جاں رک جائے پاؤں پھیلاؤں تو چادر سے نکل پڑتے ہیں وہ کیا کرتا ہے بندوں کی حفاظت یوں بھی راستے بیچ سمندر سے نکل پڑتے ہیں صبر مظلوم کا جب حد سے گزرتا ہے تو پھر وار ٹوٹے ہوئے خنجر سے نکل پڑتے ...

مزید پڑھیے

ہر اک محاذ کو تنہا سنبھالے بیٹھے ہیں

ہر اک محاذ کو تنہا سنبھالے بیٹھے ہیں ہم ایک دل میں کئی روگ پالے بیٹھے ہیں ابھی نہ زور دکھائے یہ کہہ دو آندھی سے ابھی ہم اپنے ارادوں کو ٹالے بیٹھے ہیں ستم گروں نے بہاروں پہ کر لیا قبضہ چمن کو خون جگر دینے والے بیٹھے ہیں بتائیں کیا کہ ہمارے ہی رہنما اب تو ہماری راہ میں خنجر نکالے ...

مزید پڑھیے

بڑی حیرت ہے وہ زندہ ملا ہے

بڑی حیرت ہے وہ زندہ ملا ہے جسے ہر موڑ پر دھوکا ملا ہے تلاش حق میں میں نکلا ہوں جب بھی نئی منزل نیا رستا ملا ہے ملا بھی کیا کسی کو تم سے مل کر بکھر جانے کا اندیشہ ملا ہے نہیں پیاسے کو قطرہ بھی میسر جو ہے سیراب اسے دریا ملا ہے مرے گھر ڈھونڈنے والوں کو اکثر فقط اک ٹوٹا آئینہ ملا ...

مزید پڑھیے

خزاں کی زد پہ تھا دشمن کی بھی نگاہ میں تھا

خزاں کی زد پہ تھا دشمن کی بھی نگاہ میں تھا وہ سایہ دار شجر جو ہماری راہ میں تھا زمانہ یاد بھی کرتا تو کس طرح ہم کو ہمارا نام فقیروں میں تھا نہ شاہ میں تھا بلندیوں سے گرا تو زمین بھی نہ ملی وجود اپنا سنبھالے ہوئے وہ چاہ میں تھا جنہیں غرور ہواؤں پہ تھا وہ خار ہوئے وہ سر بلند رہا جو ...

مزید پڑھیے

بلندیوں پہ زمانے ہے کیا کیا جائے

بلندیوں پہ زمانے ہے کیا کیا جائے ہمیں بھی چاند پہ جانا ہے کیا کیا جائے وہ جس کے سامنے کھلتے نہیں ہیں لب میرے اسی کو شعر سنانا ہے کیا کیا جائے ہوس کی زد پہ تڑپتی سسکتی دنیا میں وقار اپنا بچانا ہے کیا کیا جائے نکل پڑا ہے کوئی گھر سے بجلیاں لے کر مرا چمن ہی نشانہ ہے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

سونے کے لب چاندی کے چہروں میں جڑے ہیں

سونے کے لب چاندی کے چہروں میں جڑے ہیں ان سے بات نہ کرنا تم یہ لوگ بڑے ہیں طوفانوں میں چلنا تو مشکل ہے لیکن یہ ہمت بھی کیا کم ہے کچھ لوگ کھڑے ہیں یہ اب کیا ڈھونڈ رہے ہو ان خالی آنکھوں میں یہ گوشے تو برسوں سے ویران پڑے ہیں کیسی کیسی انہونی باتیں ہوتی ہیں کیسے کیسے دنیا نے الزام ...

مزید پڑھیے

خوف کی ایسی نہ بیماری لگے

خوف کی ایسی نہ بیماری لگے سچ وہ بولے تو اداکاری لگے صاحبوں سے ہر اجازت لو مگر مسکرانا بھی نہ سرکاری لگے سب میاں حالات پر موقوف ہے پھول بھی تلوار سے بھاری لگے اے فرشتو سر نہ ڈھلکانا مرا موت بھی آئے تو سرداری لگے بھاڑ میں جائے یہ تہذیب کلام بات کہنے میں بھی دشواری لگے وہ غزل ...

مزید پڑھیے

شاید کوئی نگاہ کرے میری ذات پر

شاید کوئی نگاہ کرے میری ذات پر دستک تو دے رہا ہوں در کائنات پر دشمن سے کہہ رہا ہوں تری انجمن کا راز یا پھول رکھ رہا ہوں میں شعلے کے ہات پر اپنا بھی قتل ہم نے کئی ڈھنگ سے کیا اب کوئی چونکتا ہی نہیں حادثات پر بے ہوشیوں کو نیند سے نسبت ضرور ہے کچھ خار بھی بچھا لے ردائے حیات پر اے ...

مزید پڑھیے

کیا رشتہ ہے

دھرتی میری ماتا ہے چندا میرا ماما ہے یہ بھی تو بتلائے کوئی سورج سے کیا رشتہ ہے بلی شیر کی خالہ ہے گھر گھر ماری پھرتی ہے شیر کو کیا معلوم نہیں بلی سے کیا رشتہ ہے گنگا ہمالہ کی بیٹی چھوڑ کے اپنے باپ کا گھر دوڑے ساگر کی جانب ساگر سے کیا رشتہ ہے یہ گندہ سا لڑکا کیوں روز میرے گھر آتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2095 سے 6203